اتوار 14 رمضان 1440 - 19 مئی 2019
اردو

کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کے وقت روشنی بلند ہوئی تھی؟

26713

تاریخ اشاعت : 09-12-2016

مشاہدات : 2386

سوال

کیا اس بات کی کوئی حقیقت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت سے قبل آسمان میں روشنی رونما ہوئی تھی؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

ہمارے نبی جناب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی نشانیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ جس وقت آپ کی والدہ امید سے ہوئیں تو انہوں نے خواب میں دیکھا کہ ان کے جسم سے روشنی نکلتی ہے جو ملک شام تک پہنچ جاتی ہے۔

خالد بن معدان رحمہ اللہ  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمیں آپ اپنے بارے میں بتلائیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (میں اپنے والد ابراہیم کی دعا اور عیسی کی دی ہوئی خوشخبری ہوں، میری والدہ جب امید سے ہوئیں تو [انہیں ایسا محسوس ہوا کہ] گویا ان کے جسم سے روشنی نکلی ہے جس کی وجہ سے سرزمین شام میں بصری کے محل روشن ہو گئے )
اس روایت کو ابن اسحاق نے اپنی سند سے بیان کیا ہے: (سیرت ابن ہشام: 1/66) اور انہی کی سند سے امام طبری نے اسے اپنی تفسیر طبری : (1/566) میں اور امام حاکم نے اپنی کتاب مستدرک : (2/600) میں روایت کیا ہے، اور ساتھ امام حاکم یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح سند والی ہے، لیکن بخاری اور مسلم نے اسے روایت نہیں کیا، ان کے اس تبصرے پر امام ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے۔
مزید کیلیے دیکھیں: سلسلہ صحیحہ: (1545)

اسی طرح امام طبرانی روایت کرتے ہیں کہ  نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (میری والدہ نے خواب میں دیکھا کہ ان کی ٹانگوں کے درمیان سے ایک چراغ نکلا جس کی وجہ سے شام کے محل منور ہو گئے)
اسے روایت کو البانی رحمہ اللہ نے صحیح الجامع (224) میں حسن قرار دیا ہے۔

ایسے ہی امام احمد رحمہ اللہ (16700) عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [یہی حدیث ذکر کی اور اس میں ہے کہ](رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کے وقت ایک روشنی دیکھی جس سے شام کے محل روشن ہو گئے)
اس روایت کے بارے میں ہیثمی رحمہ اللہ مجمع الزوائد میں کہتے ہیں : اس حدیث کی سند حسن ہے۔

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فتح الباری میں کہتے ہیں:
"جس وقت آپ کی والدہ نے آپ کو جنم دیا  تو ان کے جسم سے روشنی نکلی جس سے گھر اور صحن روشن ہو گیا، اس بات کی گواہی سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کی ایک حدیث سے ملتی ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرما رہے تھے: (میں اللہ کا بندہ ہوں، اور  [اس وقت سے]خاتم الانبیاء ہوں جب آدم اپنی مٹی میں گوندھے ہوئے تھے، میں تمہیں اس کے بارے میں بتلاتا ہوں: بے شک میں اپنے والد ابراہیم کی دعا ہوں، عیسی نے میرے بارے میں ہی خوشخبری دی تھی، میں اپنی والدہ کا دیکھا ہوا خواب ہوں، انبیائے کرام کی مائیں اسی طرح خواب دیکھتی ہیں، اور بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ نے جب آپ کو جنم دیا تو ایک روشنی دیکھی تھی جس کی وجہ سے شام کے محلات روشن ہو گئے) اس روایت کو امام احمد نے نقل کیا ہے اور ابن حبان سمیت امام حاکم نے بھی صحیح کہا ہے، نیز امام احمد کے ہاں اسی طرح کی روایت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے" انتہی

یہ بات ذہن نشین کرنا بہت ضروری ہے کہ ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی علامات صرف اسی ایک نشانی میں محصور نہیں ہیں، لہذا یہ نشانی ثابت ہو یا نہ ہو ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت قطعی دلائل کے ساتھ ثابت ہے، کوئی بھی انصاف پسند ان دلائل کا انکار نہیں کر سکتا۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا انکار کرنے والا صرف جہالت یا عناد کی وجہ سے ہی انکار کرتا ہے۔

ہم اللہ تعالی سے دعا گو   ہیں کہ اللہ تعالی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین کو غالب فرمائے اور آپ کے کلمے کو بلند فرمائے۔

واللہ اعلم .

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں