بدھ 24 صفر 1441 - 23 اکتوبر 2019
اردو

امام مسجد فطرانہ جمع كر كے كہاں تقسيم كريگا

سوال

فطرانہ كب ديا جائيگا اور كہاں تقسيم ہوگا، اور كيا امام مسجد فطرانہ جمع كر كے مستحقين ميں تقسيم كر سكتا ہے، چاہے كچھ مدت بعد ہى تقسيم كرے ؟
اور كيا يہ مالى تضخم كے تابع ہے، اور كيا فطرانہ فلسطينى مجاہدين بھيجا جا سكتا ہے، يا كہ كسى مسجد كى تعمير كے ليے ركھے گئے ڈبہ ميں ڈال ديا جائے ؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

فطرانہ كى وقت عيد الفطر كى رات نماز عيد سے قبل تك ہے.

اور ايك يا دو دن قبل ادا كرنا جائز ہے، اور فطرانہ اپنے علاقے كے مسلمان فقراء كو ديا جائيگا، اور ضرورت كى بنا پر كسى دوسرے علاقے كے شديد محتاج اور ضرورتمند افراد كو دينے كے ليے منتقل بھى كيا جا سكتا ہے.

اسى طرح امام مسجد وغيرہ جو امانتدار ہو كے ليے فطرانہ جمع كر كے مستحقين ميں تقسيم كرنا جائز ہے، ليكن شرط يہ ہے كہ وہ نماز عيد سے قبل مستحقين تك پہنچ جائے.

فطرانہ كى مقدار مال تضخم يعنى زيادہ اور كم ہونے كے تابع نہيں، بلكہ شريعت مطہرہ نے اس كى حد ايك صاع مقرر كى ہے، اور جس شخص كے پاس صرف عيد كے دن كے ليے اپنے اور اپنى عيالدارى ميں افراد كى خوراك ہو اس سے فطرانہ ساقط ہو جائيگا، اور اسے مساجد يا كسى اور خيراتى كام ميں لگانا جائز نہيں "

اللہ ہى توفيق دينے والا ہے.

ماخذ: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 9 / 369 )

تاثرات بھیجیں