سوموار 16 جمادی اولی 1440 - 21 جنوری 2019
اردو

عورت نے نذر مانى ليكن اسے يہ ياد نہيں كہ اس كا قصد مسلسل تھا يا ايك بار

27057

تاریخ اشاعت : 31-03-2006

مشاہدات : 3119

سوال

جب ميں ابھى چھوٹى ليكن بالغ تھى، اور طبعا دينى علم بہت زيادہ نہيں ركھتى تھى، اور نذر كے انجام سے بے خبر اور خير و بھلائى سے محبت كرنے كے اسباب كو نہيں جانتى تھى، ميں نے كئى ايك نذريں مانيں، ليكن مجھے علم نہيں كہ ميں نے نذر يہ مانى تھى كہ موت تك يہ فعل كرتى رہوں گى يا ميرى نيت يہ تھى، اب ميں اس سے نكلنا چاہتى ہوں اور اس طرح كا كام دوبارہ نہيں كرنا چاہتى، اگر كوئى اس سے نكلنے كا طريقہ ہے تو آپ سے گزارش ہے كہ اسے بيان كرديں ؟
اللہ تعالى آپ كو جزائے خير عطا فرمائے.

جواب کا متن

الحمد للہ :

اگر نذر كے تسلسل ميں شك و شبہ ہو تو اصل برى الذمہ ہونا ہے، تو نذر مانى ہو كو ايك بار پورا كرنے سے برى الذمہ ہو جائےگا، يہ علم ميں رہے كہ نذر ماننا مكروہ ہے، بلكہ اس سے تو بخيل سے نكالا جاتا ہے، جيسا كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے بھى فرمايا ہے، كہ نذر كوئى خير نہيں لاتى، ليكن جب نذر اطاعت و فرمانبردارى ميں مانى گئى ہو تو اس كا پورا كرنا واجب ہے.

ماخذ: الشيخ عبد الكريم الخضير

تاثرات بھیجیں