منگل 21 ذو الحجہ 1441 - 11 اگست 2020
اردو

وزٹرز کی کوکیز فائلوں کو ای مارکیٹنگ میں استعمال کرنے کا حکم

سوال

میرے بلاگ پر آنے والے زائرین کے رجحانات کے مطابق میری ویب سائٹ پر چیزوں کے اعلانات لگانے کا کیا حکم ہے؟ یعنی مطلب یہ ہے کہ مثلاً اگر کوئی فلموں کی تلاش میں ہے تو انٹرنیٹ براؤزر صارف کے میرے بلاگ میں داخل ہونے سے پہلے ہی اس کی کوکیز فائلیں چیک کر لیتا ہے، پھر جب میری ویب سائٹ پر جاتا ہے تو اس کی کوکیز فائلوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اس کی ضروریات یا رجحانات کے مطابق اعلانات صارف کے سامنے آتے ہیں، تو اس طریقے سے حاصل ہونے والی آمدن کا کیا حکم ہے؟

جواب کا متن

الحمد للہ.

اول:

تشہیری مہم چلانے کے لیے مختلف پروگرامز استعمال کرنا جائز ہے بشرطیکہ شرعی ممانعتوں سے خالی ہوں، اس کے جواز کے لیے ضابطہ پہلے سوال نمبر: (249126) کے جواب میں گزر چکا ہے۔

اور جیسے کہ آپ نے ذکر کیا ہے کہ فلموں کے اعلانات کا تو یہ بلا شک و شبہ منع ہے؛ کیونکہ فلموں میں بہت سے حرام امور ہوتے ہیں، مثلاً: مخلوط ماحول، موسقی، اور بے پردگی وغیرہ، بلکہ ان فلموں میں جرائم، نظریاتی خرابیوں اور اخلاقی برائیوں کی ترویج بھی شامل ہوتی ہے۔

اس لیے جو کوئی بھی مسلمان اس طرح کی فلمیں نشر کرتا ہے، اور ان کا اعلان لگاتا ہے تو وہ بہت خطرناک موڑ پر ہے، اسے چاہیے کہ اپنا تدارک کر لے اور اپنے دینی تشخص کو بچا لے۔

صحیح مسلم میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: (جو کسی کو ہدایت والے کام کی جانب بلائے تو اس کے لیے ان سب لوگوں جیسا اجر ہو گا جو اس کے نقش قدم پر چلیں، اور ان میں سے کسی کے اجر میں بالکل بھی کمی بھی نہیں کی جائے گی۔ جو کسی برے کام کی جانب بلائے تو اس کے لیے ان سب لوگوں جیسا گناہ ہو گا جو اس کے پیچھے لگ جائیں گے ، اور ان میں سے کسی کے گناہ میں بالکل بھی کمی بھی نہیں کی جائے گی۔) مسلم: (2674)

اس لیے کسی بھی مسلمان کو حرام کاموں کے اعلانات کے معاملے میں سستی نہیں کرنی چاہیے؛ کیونکہ ایسا عین ممکن ہے کہ جس کام کو انسان معمولی سمجھے وہی اس کی تباہی، بربادی اور دینی پستی کا باعث بن جائے، اللہ تعالی ہم سب کو محفوظ رکھے۔

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (یقیناً انسان رضائے الہی کے حامل کلمات بولتا ہے اور وہ ان پر زیادہ توجہ بھی نہیں دیتا، لیکن اللہ تعالی اسے ان کلمات کی بدولت بلند درجات سے نوازتا ہے۔ اور اسی طرح ایک آدمی غضبِ الہی کا موجب بننے والے کلمات بولتا ہے اور ان کی پروا بھی نہیں کرتا ، اور وہ انہی کلمات کی وجہ سے جہنم میں جا گرتا ہے۔) اس حدیث کو بخاری: (6478) نے روایت کیا ہے۔

دوم:
انٹرنیٹ استعمال کرنے والے تمام افراد میں یہ بات معروف ہے کہ کوکیز فائلیں در حقیقت انٹرنیٹ براؤزر کی مخصوص معلومات ہوتی ہیں، اور یہ بات بھی سب کو معلوم ہے کہ لوگوں کے لیے یہ بات ناگوار گزرتی ہے کہ ویب سائٹس ان کے انٹرنیٹ استعمال کرنے کی معلومات حاصل کریں، اس لیے اگر ویب سائٹس ان کوکیز فائلوں کو استعمال کرتی ہیں تو اس سے رازداری قائم نہیں رہتی، اس لیے کوکیز فائلوں تک رسائی صارف کی رضا مندی کے بغیر جائز نہیں ہے۔

اس بنا پر: جو ویب پیجز اور ویب سائٹس کوکیز فائلوں کو استعمال کرنا چاہتی ہیں تو وہ صارفین کو واضح لفظوں میں بتلائیں کہ صارف کو کوکیز فائلوں کے استعمال کے متعلق متنبہ کر دیا جائے، اور ان فائلوں کو استعمال کرنے کی اجازت طلب کی جائے۔

خلاصہ:

آپ اپنی ذاتی ویب سائٹ پر اعلانات لگا سکتے ہیں، بشرطیکہ آپ کی ویب سائٹ پر کسی حرام کام کی ترویج اور تشہیر نہ ہو۔

نیز یہ بھی شرط ہے کہ انہیں بتلائیں کہ ویب براؤزر صارف کے رجحانات اور میلان کو سامنے رکھتے ہوئے اشتہارات دکھائے گا، اور اس کے لیے صارف کے سسٹم میں موجود کوکیز فائلوں کو مدنظر رکھے گا۔

واللہ اعلم

ماخذ: الاسلام سوال و جواب