جمعہ 6 ربیع الاول 1442 - 23 اکتوبر 2020
اردو

اسلامی فقہ میں مجنون شخص کے احکامات

سوال

مجنون اور اس کے ساتھ تعامل کرنے کے متعلق کون سے احکام ہیں؟

جواب کا متن

الحمد للہ.

شرعی احکامات عقل کے ساتھ منسلک ہوتے ہیں،جبکہ پاگل ایسے شخص کو کہتے ہیں جس کی عقل میں اتنا خلل آ جائے کہ وہ اپنے معمول کے کام اور گفتگو اعتدال میں رہتے ہوئے نہ کر سکے ، اور کبھی کبھار صحیح بھی کر لے۔

کچھ نے پاگل پن کے بارے میں یہ بھی کہا ہے کہ: اس کیفیت میں انسان اچھی اور بری چیزوں کے درمیان امتیاز کرنے کی صلاحیت کھو دیتا ہے، نیز کسی بھی کام کے نتائج اس کے لیے ظاہر نہیں ہوتے، نیز اچھے برے میں فرق کرنے کی قوت معطل ہو جاتی ہے۔
"الموسوعة الفقهية" (16/ 99)

پاگل شخص کے متعلق متعدد احکامات ہیں ، ان کی تفصیلات فقہ کی کتابوں میں بھری ہوئی ہیں، ان میں سے یہ بھی ہے کہ پاگل شخص سے بدنی عبادات مثلاً: طہارت، نماز، روزہ اور حج ادا کرنے کا نہیں کہا جائے گا، اور اگر ادا کر بھی لے تو اس کی وہ عبادت صحیح نہیں ہوگی۔

تاہم پاگل شخص کے پاس مال ہو تو اس کے مال سے زکاۃ ادا کی جائے گی،پاگل شخص کی طرف سے زکاۃ ادا کرنے کی ذمہ داری سرپرست ادا کرے گا، اسی طرح جرمانے بھی ادا کرے گا، نیز اگر کسی کی کوئی چیز خراب کر دے تو ضامن بھی ہو گا؛ کیونکہ ان کا تعلق احکام تکلیفی سے نہیں ہے بلکہ احکام وضعی سے ہے۔

نیز پاگل شخص پر مسلمان ہونے کا حکم لگایا جائے گا بشرطیکہ اس کے والدین مسلمان ہوں، اور ایسے پاگل شخص کے لیے جنت میں جانے کی امید بھی کی جا سکتی ہے۔

اس کی تفصیلات پہلے سوال نمبر: (14392) کے جواب میں گزر چکی ہے۔

پاگل شخص پر خرید و فروخت کرنے کی پابندی ہوتی ہے، پاگل اگر کوئی چیز خرید لے یا فروخت کر لے تو اس کی خریداری صحیح نہیں ہو گی، نیز پاگل شخص کے زبانی کلامی امور بھی صحیح نہیں ہوتے، مثلاً: کوئی پاگل طلاق دے دے، یا تحفہ دے یا اسی طرح کا کوئی کام کرے تو وہ معتبر نہیں ہو گا۔

پاگل پن نکاح کے لیے عیب شمار ہوتا ہے، اور پاگل پن نکاح فسخ ہونے کا موجب بنتا ہے۔

پاگل شخص سے قصاص نہیں لیا جاتا، اور نہ ہی اس پر زنا وغیرہ کی حد نافذ کی جاتی ہے۔

پاگل شخص وراثت میں حصے دار ہوتا ہے، اور پاگل شخص کا سرپرست اس کے مال میں پاگل کی مصلحت کو مد نظر رکھتے ہوئے تصرف بھی کر سکتا ہے، نیز اگر کوئی پاگل فوت ہو جائے اور اس کا ترکہ بھی ہو تو اس کا وارث بنا جائے گا۔

جو باتیں ہم نے اوپر ذکر کی ہیں ان میں اکثر معلومات آپ کو "الموسوعة الفقهية" (16/ 99- 116) میں ملیں گی۔

مزید آپ "الجنون وأنواعه في المنظور الإسلامي- دراسة عصرية" از محقق : سفر احمد حمدانی، کا مطالعہ کریں :

http://www.alukah.net/publications_competitions/0/41911/

اسی طرح آپ پڑھیں: أثر الجنون في التصرفات القولية والفعلية في الشريعة الإسلامية :

https://www.jamaa.net/books.library/?i=39361#main

واللہ اعلم

ماخذ: الاسلام سوال و جواب