اتوار 10 ذو القعدہ 1442 - 20 جون 2021
اردو

جب ماں مالدار ہو اور باپ تنگ دست ہو تو کیا ماں پر اپنے غریب بیٹے کی شادی کرنا واجب ہے؟

297438

تاریخ اشاعت : 27-09-2020

مشاہدات : 478

سوال

اگر ماں کے پاس دولت ہو، اور اس کے پاس رقم بھی ہو، جبکہ باپ کے پاس کچھ نہ ہو تو ایسی صورت میں ایک تنگ دست بیٹے کی شادی کے لیے ماں کے تعاون کرنے کا کیا حکم ہے؟ واضح رہے کہ بیٹے کو شادی کی اشد ضرورت بھی ہے۔

جواب کا متن

الحمد للہ.

جب بیٹے کو شادی کی اشد ضرورت ہو اور بیٹے کے پاس شادی کے لیے کچھ نہ ہو تو باپ کے پاس اگر استطاعت ہے تو اس کی شادی کے لیے اعانت کرنا ضروری اور واجب ہے؛ کیونکہ شادی بھی لازمی اخراجات میں شامل ہوتی ہے۔

جیسے کہ مرداوی رحمہ اللہ "الإنصاف" (9/204) میں کہتے ہیں کہ:
"مرد پر جس کا نان و نفقہ واجب ہے اس کی شادی کروانا واجب ہے، یعنی باپ اور دادا وغیرہ پر بیٹے اور پوتوں وغیرہ کی شادی کروانا واجب ہے کہ ان کا خرچہ انہی کے ذمے ہے۔
یہ موقف [حنبلی] فقہی مذہب میں صحیح ترین موقف ہے، نیز یہ اس فقہی مذہب کا امتیازی موقف بھی ہے، اس موقف کی بنا پر دیگر کئی فرعی مسائل بھی اسی کے مطابق اپنائے گئے ہیں۔" ختم شد

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ:
"انسان کو شادی کی اشد ضرورت ہوتی ہے، اور بسا اوقات اس کی ضرورت بالکل اسی طرح ضروری ہو جاتی ہے جیسے کھانے پینے کی حاجت ہوتی ہے، اسی لیے اہل علم کا یہ کہنا ہے کہ : جس شخص پر کسی کا نان و نفقہ ضروری ہے اس پر اپنے زیر کفالت افراد کی شادی کرنا بھی ضروری ہے؛ بشرطیکہ اس کے پاس شادی کروانے کی مالی استطاعت ہو، اس لیے باپ پر لازمی ہے کہ اگر بیٹے کو شادی کی ضرورت ہے اور اس کے پاس شادی کے لیے رقم نہیں ہے تو بیٹے کی شادی اپنے اخراجات پر کروائے۔

لیکن میں نے کچھ ایسے باپوں کے بارے میں سنا ہے کہ جب ان سے ان کا بیٹا اپنی شادی کی بات کرتا ہے تو وہ اپنی جوانی کی کیفیت اور حالت بھول جاتے ہیں، اور کہہ دیتے ہیں: اپنے خون پسینے کی کمائی سے شادی کر سکتے ہو تو کر لو! یہ الفاظ کہنا جائز نہیں ہے، اگر باپ میں شادی کرنے کی صلاحیت ہے تو یہ الفاظ اس کے لیے حرام ہیں، اگر باپ استطاعت ہونے کے باوجود شادی نہیں کرواتا تو کل قیامت کے دن اس کا بیٹا باپ کے خلاف دعوی دائر کرے گا۔" ختم شد
"مجموع فتاوی ابن عثیمین" (18/410)، "فتاوى أركان الإسلام" ص440-441۔

چنانچہ اگر باپ تنگ دست ہو اور ماں صاحب ثروت ہو تو: ماں پر بیٹے کی شادی کرنا لازمی ہے۔

اس صورت میں کیا لڑکے کی ماں باپ سے شادی پر اٹھنے والے اخراجات کی رقم کا مطالبہ کرے گی؟ اس بارے میں فقہائے کرام میں دو موقف ہیں۔

چنانچہ ابن قدامہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ:
"ماں کے اخراجات باپ پر لازم ہیں، اور اگر بچوں کا باپ فوت ہو گیا ہے تو ماں پر بچوں کے اخراجات برداشت کرنا واجب ہے، امام ابو حنیفہ اور شافعی اسی چیز کے قائل ہیں۔۔۔ اور اگر باپ تو ہو لیکن تنگ دست ہو تو ماں پر اخراجات برداشت کرنا واجب ہو جائے گا، اور اگر مستقبل میں باپ غنی ہو جائے تو بچوں کی ماں اس سے خرچ کی ہوئی رقم کا مطالبہ نہیں کرے گی۔

جبکہ ابو یوسف اور محمد کہتے ہیں کہ: ماں؛ باپ سے رقم کا مطالبہ کر سکتی ہے۔

ہماری دلیل یہ ہے کہ جس پر اخراجات رشتہ داری کی بنا پر فرض ہوئے ہیں ، وہ واپسی کا مطالبہ نہیں کر سکتا، جیسے کہ باپ ان اخراجات کی واپسی کا مطالبہ نہیں کرتا۔" ختم شد
"المغنی" (8/ 212)

واللہ اعلم

ماخذ: الاسلام سوال و جواب