سوموار 20 ذو القعدہ 1440 - 22 جولائی 2019
اردو

ولد زنا کا حکم

3006

تاریخ اشاعت : 12-09-2003

مشاہدات : 3765

سوال

اگرزنا سے پیدا شدہ بچہ اللہ تعالی کی اطاعت کرے توکیا وہ جنت میں داخل ہوگا ؟ اورکیا اس پر کوئي گناہ ہے کہ نہیں ؟

جواب کا متن

الحمد للہ
زنا سے پیدا شدہ بچے کووالدین کے زنا سے کوئي بھی گناہ نہیں اس لیے کہ یہ اس کا قصور اورجرم نہیں بلکہ ان دونوں کا گناہ اورجرم ہے ۔

کیونکہ اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :

اورکوئي بھی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھاۓ گا ۔

تواس طرح اس بچے کا معاملہ بھی دوسرے کی طرح ہی ہوگا کہ اگر وہ بڑا ہوکر اللہ تعالی کی اطاعت وفرمانبرداری اوراعمال صالحہ کرے اوراسلام پر ہی اس کی وفات ہو تواسے جنت ملے گی اوراگر اللہ تعالی کی نافرمانی کرتے ہوۓ کفر پر اس کی موت واقع ہوتوپھر وہ جہنمی ہے اوراس میں ہی رہے گا ۔

اوراگر اس کے کچھ اعمال صالحہ اورکچھ برے ہوۓ اوراس کی موت اسلام پرہی ہوئي تواس کا معاملہ اللہ تعالی کے سپرد ہے اگر وہ چاہے تو اسے معاف کردے اوراگر چاہے تو اسے سزا دینے کے بعد اپنی رحمت وفضل سےاسےجنت میں داخل کردے گا ۔

اوروہ حدیث جوپیش کی جاتی ہے اورجس میں ہے کہ : ( ولدزنا جنت میں داخل نہيں جاۓ گا ) یہ موضوع ہے ۔

( یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ ہے اوراس کی کوئي اصل نہيں ) واللہ تعالی اعلم ۔ .

ماخذ: دیکھیں فتاوی اسلامیۃ لجنۃ دائمۃ ( 5 / 22 ) ۔

تاثرات بھیجیں