بدھ 24 صفر 1441 - 23 اکتوبر 2019
اردو

کتابوں پر ایمان کو رسولوں پر ایمان سے پہلے ذکر کرنے میں حکمت

سوال

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی حدیث میں کتابوں پر ایمان کو فرشتوں پر ایمان کے بعد اور رسولوں پر ایمان سے پہلے کیوں ذکر کیا گیا؟ حدیث کے یہ الفاظ ہیں: (أن تؤمن بالله ، وملائكته ، وكتبه ، ورسله ، واليوم الآخر، وتؤمن بالقدر خيره وشره)

جواب کا متن

الحمدللہ:

ایمان کے باب میں سب سے پہلے بندے پر لازم یہ آتا ہے کہ بندہ اللہ عزوجل پر ایمان لائے؛ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب تک اس بات کا اقرار نہ ہو کہ اس جہان کا کوئی حقیقی معبود ہے، اس وقت تک انبیائے کرام کی صداقت کا علم نہیں ہو گا، اس لیے اللہ تعالی کی معرفت ایمان کے مسئلے میں بنیادی چیز ہے، اسی لیے ارکان ایمان کے تذکرے میں اسے سب سے پہلے ذکر کیا گیا ہے۔

اللہ تعالی پر ایمان کے بعد بہت سی شرعی نصوص میں اللہ تعالی کے مکرم فرشتوں پر ایمان کا ذکر ہے؛ تو اس کی حکمت میں یہ بھی شامل ہے کہ: اللہ تعالی انبیائے کرام کی جانب فرشتوں کے واسطے سے ہی وحی فرماتا ہے، جیسے کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

 يُنَزِّلُ الْمَلَائِكَةَ بِالرُّوحِ مِنْ أَمْرِهِ عَلَى مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ

 ترجمہ: وہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اپنے حکم سے وحی دے کر فرشتے نازل کرتا ہے۔ [النحل: 2]

اور دوسری جگہ فرمایا:

 نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ (193) عَلَى قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ الْمُنْذِرِينَ 

ترجمہ: اسے امانت دار فرشتہ آپ کے دل پر لے کر آیا ہے ؛ تا کہ آپ خبردار کرنے والوں میں سے ہو جائیں۔ [الشعراء: 193- 194]

تو جب یہ ثابت ہو گیا کہ اللہ تعالی کی طرف سے وحی بشر تک فرشتوں کے واسطے سے پہنچتی ہے تو معلوم ہوا کہ فرشتے اللہ تعالی اور بشر کے درمیاں واسطہ ہیں، اس لیے فرشتوں کا ذکر دوسرے نمبر پر کیا گیا۔

اسی راز کی وجہ سے اللہ تعالی نے یہ فرمایا کہ:

 شَهِدَ اللَّهُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ وَالْمَلَائِكَةُ وَأُولُو الْعِلْمِ قَائِمًا بِالْقِسْطِ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ

 ترجمہ: اللہ نے خود بھی اس بات کی شہادت دی ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود بر حق نہیں، اور فرشتوں نے بھی اور اہل علم نے بھی راستی اور انصاف کے ساتھ یہی شہادت دی ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود بر حق نہیں۔ وہی غالب ہے اور حکمت والا ہے ۔[آل عمران: 18]

تیسرا مرتبہ: کتابوں کا ہے، اور یہ کتابیں وہی وحی ہوتی ہیں جو فرشتہ اللہ تعالی سے لے کر بشر تک پہنچاتا ہے، تو اس طرح فرشتوں کا ذکر کتابوں کے تذکرے سے پہلے ہوا اور اسی بنا پر کتابوں کا ذکر بعد میں آیا۔

چوتھا مرتبہ: رسولوں کا ہے، رسول ہی فرشتوں سے نور وحی حاصل کرتے ہیں، اور اسی وجہ سے رسولوں کا ذکر چوتھے نمبر پر کیا گیا۔
یہ تفصیل رازی نے اپنی تفسیر: (7/ 108) میں ذکر کی ہے، مزید کے لئے آپ "حاشية زاده على البيضاوي" (2/ 694) کا بھی مطالعہ کریں۔

طیبی کہتے ہیں:
"فرشتوں کا تذکرہ کتابوں اور رسولوں سے پہلے اس لیے کہ حقیقی ترتیب ہی اس طرح بنتی ہے کہ اللہ تعالی نے فرشتوں کو کتاب دے کر رسول کی جانب بھیجا ہوتا ہے۔" ختم شد
"شرح المشكاة" (2/ 425)

بہ ہر حال: اس بات کا تعلق علمی نکات اور لطائف سے ہے، یہ بنیادی اور اصولی باتیں نہیں ہیں کہ ان پر کسی عقیدے یا حکم کی بنیاد رکھی جائے۔

واللہ اعلم

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں