بدھ 17 صفر 1441 - 16 اکتوبر 2019
اردو

اللہ تعالی کبھی بھی برائی کا حکم نہیں دیتا۔

301486

تاریخ اشاعت : 21-06-2019

مشاہدات : 523

سوال

میں نے جس وقت سورت یوسف علیہ السلام یاد کی تو یہ آیت میرے ذہن میں اٹک کر رہ گئی: { فَلَمَّا ذَهَبُوا بِهِ وَأَجْمَعُوا أَنْ يَجْعَلُوهُ فِي غَيَابَتِ الْجُبِّ وَأَوْحَيْنَا إِلَيْهِ لَتُنَبِّئَنَّهُمْ بِأَمْرِهِمْ هَذَا وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ} [یوسف: 15] تو اس آیت کے مطابق اللہ تعالی نے سیدنا یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کی جانب وحی فرمائی کہ وہ یوسف کو ایک کنویں میں پھینک دیں اور انہیں شعور بھی نہیں ہو گا کہ یوسف آخر کار بادشاہ بن جائے گا۔ تو یہ جو غلطی یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے کی ہے یہ ان کی غلطی نہیں تھی بلکہ یہ تو اللہ تعالی کی طرف سے الہام تھا۔

اب ہوتا یوں ہے کہ جب بھی میں کوئی غلطی کرتا ہوں یا گناہ کرتا ہوں تو میں دل میں سوچتا ہوں کہ ممکن ہے کہ یہ بھی اللہ رب العالمین کی جانب سے کوئی الہام ہو اور اس کے بعد مستقبل میں کوئی ایسا کام ہونے والا ہو جس کا مجھے ابھی علم نہیں ہے، تو ایسے میں گناہ اور اللہ کی جانب سے الہام میں میں کیسے فرق کروں؟

جواب کا متن

الحمدللہ:

اول:

یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے ان کے ساتھ جو بھی ظلم کیا تھا وہ اللہ تعالی کے الہام کی وجہ سے نہیں تھا، بلکہ وہ تو ان کے اپنے خیالات کی وجہ سے تھا، جیسے کہ ان کے والد یعقوب علیہ السلام نے ان کی کیفیت بیان کرتے ہوئے بھی بتلایا اور اللہ تعالی نے اسے اس آیت میں بیان فرمایا ہے:

 وَجَاءُوا عَلَى قَمِيصِهِ بِدَمٍ كَذِبٍ قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنْفُسُكُمْ أَمْرًا فَصَبْرٌ جَمِيلٌ وَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَى مَا تَصِفُونَ

 ترجمہ: اور وہ یوسف کے کرتے کو جھوٹ موٹ کے خون سے آلودہ کر لائے، تو یعقوب نے کہا: بلکہ تم نے اپنے دل ہی میں منصوبہ بندی کی ہے۔ پس صبر ہی بہتر ہے، اور تمہاری بنائی ہوئی باتوں پر اللہ ہی سے مدد کی طلب ہے۔[یوسف: 18]

پھر یوسف کے بھائیوں نے خود بھی اس چیز کا اقرار کیا کہ وہی در اصل خطا کار تھے، اللہ تعالی نے ان کی بات بیان کرتے ہوئے فرمایا:

 قَالُوا تَاللَّهِ لَقَدْ آثَرَكَ اللَّهُ عَلَيْنَا وَإِنْ كُنَّا لَخَاطِئِينَ * قَالَ لَا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ يَغْفِرُ اللَّهُ لَكُمْ وَهُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ

 ترجمہ: انہوں نے کہا اللہ کی قسم! اللہ تعالی نے تجھے ہم پر برتری دی ہے اور یہ بھی بالکل سچ ہے کہ ہم خطا کار تھے [91] تو یوسف نے کہا : آج تم پر کوئی گرفت نہیں۔ اللہ تمہیں معاف کرے اور وہ سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔ [یوسف: 91- 92]

اور آخر میں یوسف علیہ السلام نے جو کچھ کیا وہ بھی اللہ تعالی نے بیان فرمایا:

وَرَفَعَ أَبَوَيْهِ عَلَى الْعَرْشِ وَخَرُّوا لَهُ سُجَّدًا وَقَالَ يَاأَبَتِ هَذَا تَأْوِيلُ رُؤْيَايَ مِنْ قَبْلُ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّي حَقًّا وَقَدْ أَحْسَنَ بِي إِذْ أَخْرَجَنِي مِنَ السِّجْنِ وَجَاءَ بِكُمْ مِنَ الْبَدْوِ مِنْ بَعْدِ أَنْ نَزَغَ الشَّيْطَانُ بَيْنِي وَبَيْنَ إِخْوَتِي إِنَّ رَبِّي لَطِيفٌ لِمَا يَشَاءُ إِنَّهُ هُوَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ

 ترجمہ: اور یوسف نے اپنے ماں باپ کو تخت پر اونچا بٹھایا اور سب اس کے لیے سجدہ کرتے ہوئے گر پڑے، پھر یوسف نے کہا اے میرے باپ! یہ میرے سابقہ خواب کی تعبیر ہے، بے شک میرے رب نے اسے سچا کر دیا اور بے شک اس نے مجھ پر احسان کیا جب مجھے قید خانے سے نکالا اور تمہیں صحرا سے لے آیا، اس کے بعد کہ شیطان نے میرے درمیان اور میرے بھائیوں کے درمیان جھگڑا ڈال دیا۔ بے شک میرا رب جو چاہے اس کی باریک تدبیر کرنے والا ہے، بلاشبہ وہی سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔ [یوسف: 100]

تو اس آیت میں یہ بالکل واضح صراحت کے ساتھ ہے کہ یوسف علیہ السلام کے ساتھ جو کچھ بھی ہوا وہ شیطان کی طرف سے یوسف اور ان کے بھائیوں کے درمیان جھگڑا ڈالنے کی وجہ سے تھا۔

جبکہ اللہ تعالی کا یہ فرمان کہ:

 فَلَمَّا ذَهَبُوا بِهِ وَأَجْمَعُوا أَنْ يَجْعَلُوهُ فِي غَيَابَتِ الْجُبِّ وَأَوْحَيْنَا إِلَيْهِ لَتُنَبِّئَنَّهُمْ بِأَمْرِهِمْ هَذَا وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ

ترجمہ: تو جب وہ یوسف کو لے گئے اور انہوں نے پختہ عزم کر لیا کہ اسے کسی تاریک کنویں میں پھینک دیں گے، تو ہم نے یوسف کی طرف وحی کی کہ تم انہیں ان کی اس حرکت کے بارے میں ضرور بتلاؤ گے، اور انہیں اس کا شعور ہی نہیں ہوگا۔[یوسف: 15] تو اس میں تو بالکل واضح ہے کہ { وَأَوْحَيْنَا إِلَيْهِ} یعنی اللہ تعالی نے وحی یوسف علیہ السلام کی طرف کی تھی ، نہ کہ یوسف کے بھائیوں کی جانب، اس لیے آیت میں ایسی کوئی بات ہی نہیں ہے کہ اللہ تعالی نے یوسف کے بھائیوں کی جانب الہام فرمایا۔

اللہ تعالی کبھی بھی ظلم وغیرہ جیسی برائی کا حکم نہیں دیتا، اللہ تعالی ہمیشہ عدل کا حکم دیتا ہے۔

جیسے کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

قُلْ إِنَّ اللَّهَ لَا يَأْمُرُ بِالْفَحْشَاءِ أَتَقُولُونَ عَلَى اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ * قُلْ أَمَرَ رَبِّي بِالْقِسْطِ وَأَقِيمُوا وُجُوهَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَادْعُوهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ كَمَا بَدَأَكُمْ تَعُودُونَ

ترجمہ: کہہ دو: بے شک اللہ بے حیائی کا حکم نہیں دیتا، کیا تم اللہ کے ذمے وہ بات لگاتے ہو جو تم نہیں جانتے۔ [28]کہہ دو: میرے رب نے انصاف کا حکم دیا ہے اور اپنے رخ ہر نماز کے وقت سیدھے رکھو اور اس کے لیے عبادت کو خالص کرتے ہوئے اسی کو پکارو۔ جس طرح اس نے تمہاری ابتدا کی، اسی طرح تم دوبارہ پیدا ہو گے۔ [الاعراف: 28، 29]

اسی آیت کی روشنی میں اہل علم نے اللہ تعالی کے اس فرمان کی تفسیر بیان کی ہے:

وَإِذَا أَرَدْنَا أَنْ نُهْلِكَ قَرْيَةً أَمَرْنَا مُتْرَفِيهَا فَفَسَقُوا فِيهَا فَحَقَّ عَلَيْهَا الْقَوْلُ فَدَمَّرْنَاهَا تَدْمِيرًا 

ترجمہ: اور جب ہم کسی بستی کی ہلاکت کا ارادہ کر لیتے ہیں تو وہاں کے خوشحال لوگوں کو احکامات دیتے ہیں تو وہ اطاعت سے رو گردانی کرنے لگتے ہیں تو ان پر (عذاب کی) بات ثابت ہو جاتی ہے پھر ہم اسے تباہ و برباد کر دیتے ہیں۔ [الاسراء: 16]

تو اس آیت کی تفسیر میں الشیخ المفسر محمد الامین شنقیطی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"اس آیت میں اللہ تعالی کا فرمان:  أَمَرْنَا مُتْرَفِيهَا  کے معنی کے متعلق علمائے تفسیر کے ہاں تین موقف مشہور ہیں:

پہلا موقف: اور یہی موقف صحیح بھی ہے؛ کیونکہ قرآن کریم اس کی تائید کرتا ہے اور جمہور علمائے کرام اسی کے قائل ہیں کہ یہاں { أَمَرْنَا} سے مراد امر ہے جو نہی کا متضاد ہوتا ہے، تاہم امر کا متعلق محذوف ہے؛ کیونکہ وہ بالکل واضح ہے، تو مطلب یہ ہوا کہ:   أَمَرْنَا مُتْرَفِيهَا   ہم نے وہاں کے خوشحال لوگوں کو اطاعت الہی ، وحدانیت ، رسولوں کی تصدیق اور ان کی لائی ہوئی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کا حکم دیا تو وہ  فَفَسَقُوْا  یعنی اپنے پروردگار کے حکم کی تعمیل سے رو گرداں ہو گئے، اللہ کی نافرمانی کی اور رسولوں کو جھٹلا دیا،   فَحَقَّ عَلَيْهَا الْقَوْلُ  یعنی ان پر وعید آن پڑی تو   فَدَمَّرْنَاهَا تَدْمِيرًا  یعنی ہم نے انہیں جڑ سے اکھاڑ کر تباہ و برباد کر دیا، یہاں پر اللہ تعالی نے تدمیر کا مصدر اس لیے ذکر کیا ہے تا کہ ان کی ہونے والی تباہی کی شدت واضح ہو۔

آیت کے اس مفہوم میں یہی موقف حق اور سچ ہے، اس کی تائید متعدد آیات سے ہوتی ہے، مثلاً: اللہ تعالی کا فرمان ہے:  وَإِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً قَالُوا وَجَدْنَا عَلَيْهَا آبَاءَنَا وَاللَّهُ أَمَرَنَا بِهَا قُلْ إِنَّ اللَّهَ لَا يَأْمُرُ بِالْفَحْشَاءِ ...  ترجمہ: جب وہ کوئی بے حیائی کرتے ہیں تو کہتے ہیں ہم نے اپنے باپ دادا کو اس پر پایا اور اللہ نے ہمیں اس کا حکم دیا ہے۔ کہہ دے بے شک اللہ بے حیائی کا حکم نہیں دیتا۔۔۔ [الاعراف: 28] تو یہاں پر بالکل واضح ترین الفاظ میں صراحت کے ساتھ اللہ عزوجل نے بیان کیا ہے کہ اللہ تعالی بے حیائی کا حکم نہیں دیتا ، اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آیت کے الفاظ:   أَمَرْنَا مُتْرَفِيهَا فَفَسَقُوا کا مطلب یہ ہے: ہم نے انہیں اطاعت گزاری کا حکم دیا تو انہوں نے نافرمانی کی، یہاں یہ مفہوم بالکل نہیں ہے کہ ہم نے انہیں فسق کا حکم دیا تو انہوں نے فسق کا ارتکاب کیا؛ کیونکہ اللہ تعالی کبھی بھی بے حیائی اور برائی کا حکم نہیں دیتا۔۔۔

تو یہ موقف صحیح ترین ہے اور عربی زبان کے معروف اسلوب سے بھی مطابقت رکھتا ہے، جیسے کہ اہل عرب کہتے ہیں: { أَمَرْتُهُ فَعَصَانِيْ} یعنی میں نے اسے نیکی کا حکم دیا تو اس نے میری نافرمانی کی، اس جملے کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ میں نے اسے نافرمانی کا ہی حکم دیا تھا، اور یہ بات بالکل واضح ہے۔ " ختم شد
"أضواء البيان" (3 / 574 - 575)

اس آیت کے مفہوم کے متعلق دیگر اقوال ذکر کرنے کی یہاں گنجائش نہیں ہے کہ انہیں ذکر کر کے ان کا محاکمہ کیا جائے۔

دوم:

یہ سمجھنا کہ گناہ بھی کبھی خیر کا رستہ بن سکتے ہیں، یہ بہت بڑی خرابی ہے، یہ سوچ اور بدیہی چیزوں کی معلومات میں بگاڑ ہے، یہ تلبیس محض اور شیطان مردود کا وسوسہ ہے، اس فہم کے مسلمان کے عقیدے اور دین پر برے اثرات مخفی نہیں ہیں، یہ تو گناہوں کو انسانی ذہن میں آسان اور معمولی چیز بنانے کے لئے شیطان کی طرف سے وسوسہ ہے ۔

اس لیے دنیا ہو یا آخرت دونوں کی خوشحالی ایمان اور عمل صالح سے ہی ممکن ہے، گناہوں کا گناہگار پر براہ راست اثر پڑتا ہے، تو یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس کے بارے میں معمولی شک یا تردد رکھنا بھی جائز نہیں ہے، اسی بات کی تبلیغ کے لئے تو اللہ تعالی نے اپنے تمام رسول مبعوث فرمائے ہیں:

وَمَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِينَ إِلَّا مُبَشِّرِينَ وَمُنْذِرِينَ فَمَنْ آمَنَ وَأَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ * وَالَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا يَمَسُّهُمُ الْعَذَابُ بِمَا كَانُوا يَفْسُقُونَ

 ترجمہ: اور ہم جو رسول بھیجتے ہیں تو صرف اس لیے (بھیجتے ہیں) کہ لوگوں کو بشارت دیں اور ڈرائیں، پھر جو کوئی ایمان لے آیا اور اس نے اپنی اصلاح کر لی تو ایسے لوگوں کو نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غم زدہ ہوں گے [48] اور جن لوگوں نے ہماری آیات کو جھٹلا دیا تو ان کی نافرمانیوں کی انہیں ضرور سزا ملے گی ۔[الأنعام:48 - 49]

اس لیے یہ نظریہ رکھنا کہ اللہ تعالی اپنے بندوں کو گناہ کا الہام کرتا ہے تا کہ بندے برائی کے ذریعے خیر تک پہنچ جائیں یہ قطعی طور پر غلط نظریہ ہے، ایسے خراب نظریات رکھنے والے شخص کے بارے میں خدشہ ہے کہ وہ صغیرہ گناہوں سے کبیرہ گناہوں کا رسیا بن جائے، اور پھر کبیرہ سے گناہ اکبر تک جا پہنچے! اللہ ہم سب کی حفاظت فرمائے۔

یوسف علیہ السلام کی اللہ تعالی نے اس دنیا میں بہت بلند شان بنائی ، صرف اس لیے کہ یوسف علیہ السلام نے اللہ تعالی کی اطاعت میں انتہائی اعلی کردار کا مظاہرہ فرمایا، تو ان کو یہ بلند مقام اپنے بھائیوں کی غلطی کی وجہ سے نہیں ملا، اللہ تعالی کا فرمان ہے:

 وَكَذَلِكَ مَكَّنَّا لِيُوسُفَ فِي الْأَرْضِ يَتَبَوَّأُ مِنْهَا حَيْثُ يَشَاءُ نُصِيبُ بِرَحْمَتِنَا مَنْ نَشَاءُ وَلَا نُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ

 ترجمہ: اس طرح ہم نے یوسف کو اس سرزمین میں اقتدار عطا کیا، وہ جہاں چاہتے رہتے ہم جسے چاہیں اپنی رحمت سے (ایسے ہی) نوازتے ہیں۔ اور اچھی کارکردگی دکھانے والے لوگوں کا اجر ضائع نہیں کرتے [یوسف: 56]

اس آیت کی تفسیر میں امام طبری رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"اللہ تعالی فرماتا ہے کہ ہم نے یوسف کے لئے اس طرح مصر کی سر زمین ہموار کی کہ  يَتَبَوَّأُ مِنْهَا حَيْثُ يَشَاءُ  یعنی مطلب یہ ہے کہ وہ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے کے بعد اب سر زمین مصر میں جہاں چاہیں اپنا ٹھکانا بنائیں   نُصِيبُ بِرَحْمَتِنَا مَنْ نَشَاءُ  یعنی ہم اپنی رحمت اپنی مخلوق میں سے جسے چاہیں عطا کر دیتے ہیں، تو ہم نے ہی یوسف کو زمین پر سلطنت عطا کی کہ انہیں غلامی، قیدی، اور اندھیرے کنویں میں رہنے کے بعد ہم نے نوازا۔  وَلَا نُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ  یہاں اللہ تعالی نے یہ فرمایا ہے کہ: ہم کسی ایسے شخص کا بدلہ ضائع نہیں کر تے جو حسن کارکردگی کا حامل ہو، جس نے اپنے رب کی اطاعت کی ہو اور اللہ تعالی کے احکامات پر عمل پیرا رہا ہو، اللہ نے جن کاموں سے روکا ان سے رکا رہے، تو ہم یوسف کا بدلہ بھی ضائع نہیں کریں گے؛ کیونکہ انہوں نے انتہائی بہترین انداز میں اللہ تعالی کی اطاعت کی تھی" ختم شد
"تفسیر طبری" (13 / 220)

تو خلاصہ یہ ہے کہ: مسلمان جس وقت کوئی نافرمانی کرے تو وہ نافرمانی اس کے اپنے نفس اور شیطان کی جانب سے ہوتی ہے، اس لیے اسے اس نافرمانی سے توبہ میں بالکل بھی تاخیر نہیں کرنی چاہیے؛ تا کہ گناہ کے منفی اثرات سے محفوظ ہو سکے۔

اللہ کے بندے! آپ شیطانی تلبیس سے خبردار رہیں، شیطان نے آپ کو وسوسوں میں ملوث کر رکھا ہے ان سے بچیں، زیادہ سے زیادہ اللہ کا ذکر کریں، قرآن کریم کی تلاوت کریں، نیک لوگوں کی صحبت اختیار کریں، علم اور وعظ و نصیحت کی مجالس میں بیٹھیں، اپنے آپ کو نیکی اور سچی باتوں میں مشغول رکھیں، اپنے آپ کو فارغ مت رہنے دیں؛ کیونکہ اگر آپ فارغ رہیں گے تو بے سود سرگرمیوں میں مصروف ہو جائیں گے، جن سے آپ کی دنیا بھی متاثر ہوگی اور دین پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

واللہ اعلم

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں