بدھ 24 صفر 1441 - 23 اکتوبر 2019
اردو

بینک البرکہ الاسلامی میں رقم ڈیپازٹ کروانے کا حکم

308082

تاریخ اشاعت : 08-10-2019

مشاہدات : 185

سوال

میں ایک کمپنی کا اکاؤنٹنٹ ہوں ، اس کمپنی کے سودی لین دین کرنے والے بینکوں میں کھاتے ہیں، لیکن اتنا ہے کہ کمپنی مالکان نے صرف کرنٹ اکاؤنٹ ہی کھلوائے ہوئے ہیں، اسی طرح وہ سودی منافع بھی وصول نہیں کرتے، تو کیا یہ بہتر ہو گا کہ پڑی ہوئی دولت کو کسی اسلامی بینک -جیسے کہ البرکہ اسلامی بینک- کے کسی ایسے اکاؤنٹ میں رکھ دیا جائے جو ہر بار مختلف مقدار میں نفع دیتا ہو؟ اگر کسی ایسے بینک میں رقم رکھنا ممکن ہے تو کیا حاصل ہونے والے نفع کو ٹیکس، کسٹم یا اسی طرح کی دوسری مدوں میں صرف کیا جاسکتا ہے؟ یا اس نفع کو کسی بھی جگہ استعمال کر سکتے ہیں؟

جواب کا متن

الحمدللہ:

اول:

سودی بینکوں میں رقم رکھنا حرام ہے، ہاں صرف اپنی دولت کو محفوظ رکھنے کی ضرورت کے پیش نظر جواز کی گنجائش ہے وہ بھی صرف کرنٹ اکاؤنٹ کی حد تک، اس لیے بچت اکاؤنٹ میں بھی رقم رکھنا جائز نہیں ہے چاہے آپ نفع وصول نہ بھی کریں؛ کیونکہ بچت اکاؤنٹ میں رقم رکھنے سے آپ سودی قرض دیتے ہیں، جبکہ کرنٹ اکاؤنٹ میں ایسا نہیں ہوتا، کرنٹ اکاؤنٹ کھلوانے سے انسان اگرچہ بینک کا معاون تو بنتا ہے لیکن رقم رکھوانے والا شخص بینک کے ساتھ سودی معاہدے میں شامل نہیں ہوتا۔

دائمی فتوی کمیٹی کے فتاوی (13/ 346) میں ہے کہ:
"سودی بینکوں اور دیگر سودی مالیاتی اداروں میں نقدی وغیرہ ڈیپازٹ کروانا جائز نہیں ہے، چاہے ڈیپازٹ کروانے پر نفع ملے یا نہ ملے؛ کیونکہ ایسے بینکوں میں نقدی جمع کروانے سے گناہ اور شریعت کے خلاف کاموں میں تعاون ہوتا ہے، حالانکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:  وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ گناہ اور زیادتی کے کاموں پر ایک دوسرے کا تعاون مت کرو [المائدة: 2]
ہاں اگر دولت چوری یا ڈاکے وغیرہ کی صورت میں ضائع ہونے کا خطرہ ہو، اور انسان کے پاس دولت کی حفاظت کا ایک یہی طریقہ ہو کہ صرف سودی بینکوں میں ہی رقوم رکھوائی جائیں؛ تو ایسی صورت میں سودی بینکوں یا اسی طرح کے مالی اداروں میں نفع کے بغیر رقوم رکھوانا جائز ہے، صرف اس لیے کہ دولت کی حفاظت ہو سکے، اس صورت میں دو ممنوعہ کاموں میں سے ہلکی نوعیت کے ممنوعہ کام کا ارتکاب لازم آئے گا۔" ختم شد

دوم:

ایسے بینکوں میں سرمایہ کاری کرنا جائز ہے جس میں لین دین شرعی اصول و ضوابط کے مطابق ہو، ایسی صورت میں حاصل ہونے والے نفع کو کہیں بھی استعمال کر سکتے ہیں۔

سوال میں مذکور بینک سائل کے ملک میں بڑی مقدار میں حکومتی سودی بانڈ خریدنے میں ملوث ہے، یہ بات اس بینک کی ویب سائٹ پر موجود سالانہ رپورٹ میں بیان کی گئی ہے، اس لیے اس بینک میں سرمایہ کاری کرنا جائز نہیں ہے، لہذا صرف ضرورت پڑنے پر کرنٹ اکاؤنٹ کھلوایا جائے گا۔

اور اگر یہ ممکن ہو سکے کہ اس سے بھی اچھا اور صاف ستھرا بینک ہو تو یہ زیادہ بہتر اور احسن ہو گا۔

اس بارے میں مزید کے لیے آپ سوال نمبر: (126073) کا جواب ملاحظہ کریں۔

واللہ اعلم

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں