منگل 17 جمادی اولی 1440 - 22 جنوری 2019
اردو

بيٹى نے سونا اپنى والدہ كے پاس امانت ركھا ہوا ہے، تو كيا وہ اس كى زكاۃ ادا كرے يا نہ ؟

31014

تاریخ اشاعت : 07-11-2005

مشاہدات : 2904

سوال

ميرے پاس دو سونے كے دو كنگن ہيں جنكا وزن پچاسى گرام ہے، ميں نے يہ اپنى والدہ كے پاس بطور امانت ركھے ہوئے ہيں، كيونكہ ميرے ملك كا قانون سونا باہر لے جانے كى اجازت نہيں ديتا، ميں اسے ہر وقت پہنے ركھتى تھى، اور اب ميں كسى اور ملك ميں ہوں، تو كيا ميں اس كى زكاۃ ادا كروں ؟

جواب کا متن

الحمد للہ :

سوال نمبر ( 19901 ) كے جواب ميں مستقل فتوى كميٹى كا استعمال كے ليے تيار كردہ زيور كے متعلق فتوى بيان كيا گيا ہے، اس ميں انہوں نے ذكر كيا ہے كہ اہل علم كا راجح قول يہى ہے كہ استعمال كے ليے تيار كردہ زيور ميں زكاۃ ہے، اور استعمال كے ليے تيار كردہ زيور ميں زكاۃ ہے سے يہ نہيں سمجھنا چاہيے كہ وہ ہر وقت استعمال كيا جائے.

اور اس بنا پر آپ كا يہ سونا آپ كى والدہ كے پاس امانت ہونا اسے استعمال سے خارج نہيں كرتا، اور وہ آپ كى ملكيت ہے، تو نصاب ميں پہنچنے پر اس ميں زكاۃ ہو گى، كيونكہ سونے كا نصاب پچاسى گرام ہے.

آپ مزيد تفصيل كے ليے سوال نمبر ( 2795 ) كے جواب كا مطالعہ كريں.

اور اس بنا پر اس سونے ميں زكاۃ ہے، جو آپ ہر سال نكاليں گى، اس كى مقدار اس كى قيمت سے اڑھائى فيصد ہے.

واللہ اعلم .

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں