ہفتہ 20 ذو القعدہ 1441 - 11 جولائی 2020
اردو

کیا عورت کو روزہ افطار کروانے کا اجر ملے گا کیونکہ وہ گھر والوں کے لیے کھانا تیار کرتی ہے؟

313402

تاریخ اشاعت : 28-04-2020

مشاہدات : 597

سوال

کیا عورت کو افطاری کا سامان تیار کرنے کی وجہ سے روزہ افطار کروانے کا اجر ملے گا؟ یا یہ ضروری ہے کہ افطاری کا سامان بھی وہ خود ہی خرید کر لائی ہو؟

جواب کا متن

الحمد للہ

ظاہر یہی ہوتا ہے کہ روزہ افطار کروانے کا ثواب محض کھانا کھلانے تک ہی محدود نہیں ہے کہ جو اپنی جیب سے روزے داروں کے لیے کھانے کا انتظام کرے اسی کو ثواب ملے گا، بلکہ جب کوئی آدمی اپنی طرف سے افطاری کا سامان لے کر آئے اور خاتون کھانا تیار کرے اور روزے داروں کے لیے کھانا پکائے، تو اس صورت میں آدمی کو اپنی جیب سے خرچ کرنے کا اجر و ثواب ملے گا کہ اس نے روزے داروں کی افطاری کے لیے دوڑ دھوپ کی، اور اسی طرح عورت کے لیے بھی اجر کی امید کی جا سکتی ہے؛ کیونکہ اس نے بھی محنت اور مشقت برداشت کی ہے اور اپنے ہاتھوں سے افطاری کا کھانا تیار کیا۔

اس پر درج ذیل احادیث دلالت کرتی ہیں:

صحیح بخاری: (1425) میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (جب کوئی عورت خرابی پیدا کیے بغیر اپنے گھر کا کھانا کسی کو دے دے، تو اس خاتون کو کھانا دینے کا اجر و ثواب ملے گا اور اس کے خاوند کو کمانے کا ، اور خزانچی کو بھی کو اتنا ہی اجر ملے گا، ان میں سے کسی کا بھی اجر کم نہیں کیا جائے گا۔)

اسی طرح صحیح بخاری: (1440) ہی میں ہے کہ : (جس وقت کوئی عورت خرابی پیدا کیے بغیر اپنے خاوند کے گھر میں سے کسی کو کھانا کھلا دے، تو اس عورت کو کھانا کھلانے کا ثواب ملے گا، اور اس کے خاوند کو بھی اتنا ہی اجر ملے گا، بلکہ خزانچی کو بھی برابر کا اجر دیا جائے گا، خاوند کو کمانے کی وجہ سے اور بیوی کو کھانا کھلانے کی وجہ سے۔)

تو اس حدیث میں ہے کہ اس عورت اور خزانچی کو بھی صدقہ کرنے کا اجر ملے گا چاہے جس چیز کا صدقہ کیا گیا ہے وہ خاوند کی کمائی سے خریدی گئی تھی۔

اسی طرح صحیح بخاری : (1438) اور مسلم: (1023) میں ابو موسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (ایسا مسلمان امانت دار خزانچی جسے جو حکم دیا جاتا ہے وہ نافذ کرتا ہے -بسا اوقات آپ نے فرمایا: وہ دے دیتا ہے- اس میں کسی قسم کی کمی نہیں کرتا، اس کا دل بھی دیتے ہوئے خوش ہوتا ہے، اور صدقے کی چیز کو اس شخص تک پہنچا دیتا ہے جس کا اسے حکم دیا گیا: وہ بھی صدقہ کرنے والوں میں سے ایک ہے۔)

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فتح الباری میں لکھتے ہیں:
"حدیث نبوی کے الفاظ کہ: (اس کے لیے بھی اسی جیسا) یعنی مطلب یہ ہے کہ اسی جتنا اجر ملے گا، پھر حدیث کے الفاظ کہ: (خزانچی کے لیے بھی اسی جیسا اجر ہو گا) یعنی ابو موسی رضی اللہ عنہ کی حدیث میں مذکور شرائط کے ساتھ خزانچی کو بھی اتنا ہی اجر ملے گا۔
اس حدیث کے ظاہری الفاظ تو اس چیز کا تقاضا کرتے ہیں کہ وہ سب اجر میں یکساں برابر ہوں، تاہم اس مفہوم کا بھی احتمال ہے کہ یہاں مثل سے مراد مجموعی طور پر اجر ملنا ہو، جبکہ کما کر لانے والے کا اجر زیادہ ہی ہو گا۔" ختم شد

امام نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ:
"ان احادیث کا معنی یہ ہے کہ جو شخص کسی نیکی میں شریک ہو تو اسے اجر میں بھی شراکت ملے گی۔
تو یہاں پر شراکت کا مطلب یہ ہے کہ اسے بھی اجر ملے گا جیسے کام کرنے والے کو ملے گا، یہاں اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ اس کے اجر میں کمی کا باعث بنے گا۔

یعنی مطلب یہ ہوا کہ وہ دونوں بنیادی طور پر ثواب میں شریک ہوں گے، یعنی پہلے شخص کو بھی ثواب ملے گا اور دوسرے شخص کو بھی یہ الگ بات ہے کہ دونوں میں سے ایک کا ثواب دوسرے سے زیادہ ہو سکتا ہے، لہذا یہ ضروری نہیں ہے کہ دونوں کو برابری کی بنیاد پر ثواب ملے، بلکہ یہ ہو سکتا ہے کہ ایک کا ثواب دوسرے سے زیادہ ہو، چنانچہ اگر صاحب دولت شخص اپنے خزانچی یا بیوی کو یا کسی اور کو ایک سو درہم یا کچھ اور دیتا ہے کہ وہ اس رقم کو دروازے وغیرہ پر موجود مستحق شخص کو پہنچا دیں ؛ تو ایسی صورت میں مالک کا اجر زیادہ ہو گا۔ اور اگر وہ اسے ایک انار یا روٹی وغیرہ دے جو کہ بہت زیادہ قیمتی نہیں ہوتی، کہ کسی محتاج کو کافی دور جگہ دے کر آئے، اور اس کی مسافت اتنی دور ہو کہ اجرت کے ساتھ کسی کو بھیجا جائے تو وہ اجرت انار یا روٹی کی مالیت سے زیادہ بنے تو ایسے میں نمائندے یعنی خزانچی وغیرہ کا ثواب زیادہ ہو گا، اور ایسا بھی ممکن ہے کہ اس وکیل اور نمائندے کی ممکنہ اجرت روٹی کی مالیت کے برابر ہو تو پھر دونوں ہی اجر میں یکساں ہو ں گے۔" ختم شد

جیسے کہ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (یقیناً اللہ عزوجل ایک تیر کی وجہ سے تین افراد کو جنت میں داخل فرمائے گا: تیر بنانے والا جو کہ تیر بناتے ہوئے اللہ تعالی سے خیر کی امید رکھے، تیر چلانے والا، اور تیرے تھمانے والا۔)
حدیث میں مذکور عربی لفظ: "مُنَبِّلَهُ" کا معنی ہے تیر انداز کو تیر تھمانے والا۔

اس حدیث کو امام احمد، ابو داود، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے، امام ترمذی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ: یہ حدیث حسن صحیح ہے، نیز ارناؤوط ؒ نے اس حدیث کو اس کے شواہد کی بنا پر مسند احمد کی تحقیق میں حسن قرار دیا ہے۔

تو اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ : عورت کو بھی روزے داروں کے لیے کھانا تیار کرنے کی بنا پر ثواب ملے گا، اسی طرح خاوند کو بھی اجر ملے گا، بلکہ جو شخص روزے داروں کے پاس کھانا لے کر جاتا ہے اسے بھی اجر ثواب ملے گا، اور ان میں سے کوئی کسی دوسرے کے اجر میں کمی کا باعث نہیں بنے گا۔

واللہ اعلم

ماخذ: الاسلام سوال و جواب