بدھ 4 ربیع الثانی 1440 - 12 دسمبر 2018
اردو

حجرۃ النبى كے خادم كا جھوٹا خواب

31833

تاریخ اشاعت : 05-02-2009

مشاہدات : 8756

سوال

مجھے ايك ليٹر آيا جس ميں ليٹر بھيجنے والا كہتا ہے كہ يہ ليٹر مجھے اپنے دوست و احباب كو ضرور بھيجنا ہو گا وگرنہ مجھے بہت بڑى مصيبت كا شكار ہونا پڑے گا ليٹر درج ذيل ہے:
رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے حرم كے چابى بردار شيخ احمد كى جانب سے: حرم رسول صلى اللہ عليہ وسلم كے چابى بردار شيخ احمد مدينہ منورہ كى جانب سے مشرق و مغرب ميں بسنے والے مسلمانوں كے نام:
وصيت يہ ہے شيخ احمد كہتا ہے:
ميں ايك رات حرم نبوى ميں قرآن کريم كى تلاوت کررہا تھا كہ اسى دوران مجھے نيند كا غلبہ ہوا اور ميں نے خواب ميں رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كو ديكھا وہ مجھے كہہ رہے تھے كہ اس ہفتہ ميں چاليس ہزار لوگ بغير ايمان كے جاہليت كى موت مرے ہيں، اور عورتيں اپنے خاوندوں كى اطاعت نہيں كرتيں، اور بےپرد ہو كر اپنى زيبائش غير محرم مرد كے سامنے بے لباس ہو كر ظاہر ہوتى ہيں، اور اپنے گھروں سے خاوند كے علم كے بغير باہر نكلتى ہيں.
اور غنى اور مالدار افراد زكاۃ ادا نہيں كرتے، اور نہ ہى بيت اللہ كا حج كرتے ہيں اور نہ فقراء كى مدد كرتے ہيں، اور نہ ہى نيكى كا حكم ديتے اور برائى سے روكتے ہيں، اور رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
لوگوں كو بتا دو قيامت قريب ہے، اور آسمان ميں ايك ستارہ ظاہر ہو گا جسے تم واضح ديكھو گے، اور سورج تمہارے سروں كے دو نيزوں اور اس سے بھى قريب آ جائيگا، اس كے بعد اللہ تعالى تم ميں سے كسى كى توبہ قبول نہيں فرمائيگا، اور آسمان كے دروازے بند كر ديے جائينگے، اور قرآن كريم زمين سے آسمان كى طرف اٹھا ليا جائيگا.
شيخ احمد كہتا ہے: رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے خواب ميں اسے كہا: جب كوئى شخص اس وصيت كو مسلمانوں ميں نشر كريگا تو روز قيامت وہ ميرى شفاعت كا مستحق ٹھريگا، اور اسے خير كثير حاصل ہو گى، اور روزى ميں وسعت ہو گى، اور جو كوئى اس وصيت پر مطلع ہو اور اس نے اس وصيت كا اہتمام نہ كيا اور اسے ضائع كر ديا يا اسے دور پھينك ديا تو وہ گناہ كبيرہ كا مرتكب ٹھريگا.
اور يہ بھى كہ جو اس وصيت پر مطلع ہو اور اسے نشر نہ كرے تو وہ روز قيامت اللہ كى رحمت سے محروم ہو گا، اس ليے ميں اس وصيت كو پڑھنے والوں سے مطالبہ كرتا ہوں كہ وہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم پر فاتحہ پڑھيں، خواب ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے مجھ سے يہ طلب كيا ہے كہ ميں حرم شريف كے خادموں كے ذمہ دار كو بتا دوں قيامت قريب ہے، اس ليے اللہ سے استغفار كرو.
اور مجھے سوموار والے دن خواب آئى كہ جو شخص بھى اس وصيت كے تيس نسخے مسلمانوں ميں تقسيم كريگا اللہ تعالى اس كے تمام غم و پريشانيوں كو ختم كر ديگا، اور اس كى روزى ميں بركت ڈالے گا، اور اس كى مشكلات حل كر ديگا، اور اسے تقريبا چاليس يوم ميں روزى عطا فرمائيگا.
مجھے پتہ چلا ہے كہ ايك شخص نے تيس ورقے وصيت كاپى كروا كر تقسيم كيے تو اللہ تعالى نے اسے پچيس ہزار روپے عطا كيے، اسى طرح ايك اور شخص نے اسے نشر كيا تو اللہ تعالى نے اسے چھ ہزار روپے عطا كيے.
مجھے بتايا گيا ہے كہ ايك شخص نے اس وصيت كو جھٹلايا تو اسى دن اس كا بيٹا گم ہو گيا، بلاشك يہ معلومات صحيح ہيں، اللہ پر ايمان ركھو اور اعمال صالحہ كرو، حتى كہ اللہ تعالى ہميں ہمارى اميدوں كى توفيق دے، اور ہمارى دنيا و آخرت كى اصلاح فرمائے، اور ہم پر اپنى رحمت فرمائے.
اللہ تعالى كا فرمان ہے:
سو جو لوگ اس نبى پر ايمان لاتے ہيں اور ان كى حمايت كرتے ہيں اور ان كى مدد كرتے ہيں اور اس نور كى اتباع كرتے ہيں جو ان كے ساتھ بھيجا گيا ہے، ايسے لوگ پورى فلاح پانے والے ہيں الاعراف ( 157 ).
ان كے ليے دنيا كى زندگى اور آخرت ميں خوشخبرى ہے يونس ( 63 ).
ايمان والوں كو اللہ تعالى پكى بات كے ساتھ مضبوط ركھتا ہے دنيا كى زندگى ميں بھى اور آخرت ميں بھى، ہاں ناانصاف لوگوں كو اللہ تعالى كو بہكا ديتا ہے، اور اللہ جو چاہے كر گزرے ابراہيم ( 27 ).
يہ علم ميں رہے كہ يہ وصيت تقسيم كرنے اور دوسرے شخص كے پاس پہنچنے كے چار روز كے بعد اللہ كے حكم سے بہت سارى خير و بھلائى اور كاميابى لائے گى، يہ علم ميں ركھيں كہ يہ معاملہ كھيل تماشا نہيں، آپ اس وصيت كو پڑھنے كے چھيانويں گھنٹوں كے اندر تقسيم كريں.
بيان ہو چكا ہے كہ ايك تاجر كو يہ وصيت پہنچى تو اس نے فورا تقسيم كر ديا جس كے نتيجہ ميں اس كى تجارت ميں اسے نوے ہزار دينار توقع سے زيادہ فائدہ ہوا، اسى طرح ايك ڈاكٹر كے پاس يہ وصيت پہنچى تو اس كى قدر نہ كى اور وہ گاڑى كے حادثہ ميں ہلاك ہو گيا اور اس كى لاش بے حركت ہو گئى سب اس كے متعلق باتيں كرنے لگے.
ايك ٹھيكيدار نے اس سے غلفت برتى تو اس كا بڑا بيٹا قريبى عرب ملك ميں ہلاك ہو گيا، برائے مہربانى اس وصيت كے پچيس نسخے تقسيم كريں اور مرسل كو خوشخبرى دى جاتى ہے كہ اسے تقسيم كے چوتھے روز خوشى حاصل ہو گى اس ليے كہ يہ وصيت اہم ہے سارى دنيا ميں جانى ہے لہذا اپنے دوست كو اس كے پچيس نسخے ضرور ارسال كريں اور كچھ روز كے بعد آپ كو وہ كچھ ملے گا جو اوپر بيان ہوا ہے اللہ پر ايمان لاؤ اور اعمال كرو.
برائے مہربانى اس كا جواب ديں كيونكہ ميں نے اس پر عدم وثوق ہونے اور صحيح نہ سمجھنے كى بنا پر ابھى تك كسى دوسرے كو ارسال نہيں كيا ؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم كى جانب منسوب يہ جھوٹي وصيت ہم برسوں سے سنتے چلے آرہے ہيں جو وقتا فوقتا لوگوں ميں پھيلائي جاتي اور اس كى اشاعت كى جاتي ہے.

اس وصيت کے الفاظ مختلف ہيں مثلا مکار اور دغاباز ايک بار يہ کہتا ہے کہ انہوں نے نبي صلي اللہ عليہ وسلم کا ديدار بحالت خواب کيا، اور آپ صلى اللہ عليہ وسلم نے اس وصيت كى ذمہ داري سونپي، اور اس آخري پمفلٹ ميں جس کا ہم نے آپ کے سامنے ذکر کيا ہے، مکار اور دغاباز لکھتا ہےکہ جب انہوں نے سونے كى تياري كى تو انہيں نبي صلي اللہ عليہ وسلم کا ديدار ميسر ہوا، اس کا صاف مطلب يہ ہے کہ ديدار بحالت بيداري ہوا نہ کہ بحالت خواب.

کذاب نے اس وصيت ميں بہت سي باتيں ايسي ذکر كى ہيں جو کھلم کھلا جھوٹ اور واضح طور پر بےبنياد ہيں، ان شاءاللہ آج كى اس مختصر گفتگو ميں آپ کو حقائق سے باخبر کرونگا، جيسا کہ گزشتہ برسوں ميں لوگوں کو آگاہ کرچکا ہوں کہ ساري باتيں کھلم کھلا جھوٹ اور بے بيناد ہيں پھر جب مجھے اس آخري اشاعت كى اطلاع ملي اس كى بابت کچھ لکھنے ميں متردد ہوا کيونکہ اس کا باطل ہونا روز روشن كى طرح عياں اوراس کے گھڑنے والے کاعظيم جھوٹ پوري طرح واضح ہے.

ميرے وہم وگمان ميں بھي نہ تھا کہ اس طرح كى باطل چيز معمولي سوجھ بوجھ رکھنے والے يا سليم الفطرت لوگوں کے درميان پھيل جائے گي، ليکن مجھے بہت سے بھائيوں نے بتلايا کہ يہ وصيت نامہ لوگوں ميں انتہائي تيزي کے ساتھ پھيل رہا ہے، اور بعض لوگ اسے سچ بھي مان رہے ہيں، چنانچہ ميں نے سوچا کہ مجھ جيسے لوگوں پر ذمہ داري ہے کہ اس بارے ميں کچھ تحرير کريں تاکہ اس کا باطل ہونا اور رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم پر جھوٹ باندھنا بے نقاب ہو جائے، اور ہر شخص خود کو دھوکہ سے بچا سکے، اگر کوئي صاحب علم وايمان يا سليم الفطرت صحيح سوج بوجھ رکھنے والا شخص اس وصيت نامہ پر غور کرے تو وہ اس حقيقت سے آگاہ ہو جائے گا کہ يہ مختلف وجوہات سے جھوٹ اور جعل سازي پر مبني ہے.

ہم نے شيخ احمد کے بعض رشتہ داروں سے اس وصيت نامہ کے بارے ميں پوچھا تو انہوں نے مجھے جواب ديا کہ يہ ايک جھوٹي بات ہے، جو شيخ احمد كى جانب منسوب کر دي گئى ہے، جب کہ انہوں نے قطعا يہ باتيں نہيں کہي ہيں، وہ اس دارفاني سے مدتوں پہلے کوچ کر گئے ہيں.

اگر بالفرض شيخ احمد يا ان سے بھي بزرگ کوئي شخصيت يہ دعوي کرے کہ وہ نيند يا بيداري كى حالت ميں ديدار نبوي سے مشرف ہوا اور آپ نے اسے يہ وصيتيں کيں تو ہم بلاريب و تردد يہ کہيں گے کہ وہ جھوٹا ہے، يا اس طرح كى وصيتيں کرنے والا شيطان ہے، وہ رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم كى ذات مقدسہ ومطہرہ نہيں ہے، اس كى مختلف وجوہات ہيں جنہيں ہم ذيل ميں ذکر کرتے ہيں:

پہلي وجہ: وفات نبوي کے بعد آپ صلي اللہ عليہ وسلم کا ديدار بحالت بيداري ممکن نہيں ہے، جو جاہل صوفي يہ دعوي کرتا ہے کہ اس نے بحالت بيداري نبي صلي اللہ عليہ وسلم کا ديدار کيا يا آپ صلي اللہ عليہ وسلم عيد ميلاد النبي کے اجتماعات ميں حاضر ہوتے ہيں، يا اس جيسے ديگر باطل عقائد رکھے تو وہ غايت درجہ قبيح غلطي پر ہے، اس پر حق خلط ملط ہوگيا اوروہ ايک عظيم غلطي کا شکار ہوا، نيز اس نے کتاب وسنت اور اہل علم اجماع كے مخالفت کي، کيونکہ مردے اپني قبروں سے بروز قيامت ہي نکليں گے، اس سے پہلے دنيا ميں ہرگز نہيں نکليں گے.

جيسا کہ اللہ سبحانہ وتعالي نے فرمايا:

ثم إنکم بعد ذلك لميتون ثم إنکم يوم القيامة تبعثون المومنون ( 23 / 15 - 16 ).

اس کے بعد پھر تم سب يقينا مرجانے والے ہو پھر قيامت کے دن بلا شبہ تم سب اٹھائے جاؤ گے.

اللہ سبحانہ وتعالي نے اس آيت کريمہ ميں بتلا ديا کہ مردوں کو بروز قيامت ہي ان كى قبروں سے اٹھايا جائے گا، اس سے پہلے اس دنيا ميں نہيں، چنانچہ جو شخص اس کے خلاف عقيدہ رکھے وہ صريح طور پر جھوٹا اور غلطي کا مرتکب اورحق اس پر خلط ملط ہے، وہ اس حق سے نا آشنا ہے جس حق کو سلف صالحين نے پہچانا تھا اور رسول اللہ صلي اللہ عليہ وسلم کے صحابہ کرام اور ان کے نقش قدم كى پيروي کرنے والے اس پر چلےتھے.

دوسري وجہ: رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم بقيد حيات ہوں، يا اس دارفاني سےکوچ کرچکے ہوں كسى بھي صورت ميں خلاف حق بات نہيں کہہ سکتے ، يہ وصيت نامہ واضح طور پر بہت سي خلاف شريعت باتوں پر مشتمل ہے، ان شاء اللہ ہم ذيل كى سطور ميں ان کا ذکر کريں گے، ہم مانتے ہيں کہ بحالت خواب نبي صلي اللہ عليہ وسلم کا ديدار ہوسکتا ہے اور جس نے بحالت خواب آپ کو آپ كى مبارک شکل ميں ديکھا اس نے درحقيقت آپ کو ہي ديکھا، کيونکہ شيطان آپ كى شکل اختيار نہيں کرسکتا ہے، جيسا کہ صحيح حديث ميں وارد ہوا ہے.

ليکن سارا معاملہ خواب ديکھنے والے کے ايمان، صداقت، عدالت، حفظ، اور امانت وديانت کا ہے، کيا اس نے درحقيقت نبي صلي اللہ عليہ وسلم کو ہي آپ كى شکل ميں ديکھا يا کوئي اور صورت تھي؟

محدثين کا اصول ہےکہ اگر کوئي حديث نبي صلي اللہ عليہ وسلم سے وارد ہو اور اس کے بيان کرنے والے ثقہ، عادل اور صحيح الحفظ نہ ہوں تو وہ حديث قابل قبول اور لائق استدلال نہيں ہے.

يا اس کے بيان کرنے والے ثقہ، صحيح الحفظ تو ہوں ليکن حفظ وثقاہت ميں ان سے آگے بڑھے ہوئے راويوں كى روايت سے ان كى بات ٹکراتي ہواور ان دونوں ميں تطبيق بھي ممکن نہ ہو تو نسخ كى شرطوں کے پائے جانے كى صورت ميں ايک کو ناسخ اور دوسرے کو منسوخ قرار ديا جائے گا، ناسخ پر عمل اور منسوخ کو رد کرديا جائے گا.

اور اگر تطبيق اور نسخ دونوں ہي ممکن نہ ہوں تو حفظ ميں کم اور عدالت ميں کمزور راويوں كى روايت کو رد کرديا جائے گا، اس کا حکم شاذ کا ہوگا اور اس پر عمل نہيں کيا جائے گا.

پھر وہ وصيت کيسے قبول كى جاسکتي ہے جس کا بيان کرنے والا غيرمعروف اور اس كى عدالت وامانت پردہ خفا ميں ہے، درحقيقت اس طرح كى وصيت جو اگرچہ خلاف شريعت باتوں سے خالي ہو بلاتامل ردي كى ٹوکري ميں ڈال دي جاني چاہيئے.

پھر اس وصيت کے بارے ميں آپ كى کيا رائے ہے جو بہت سي ايسي باتوں پر مشتمل ہو جو بذات خود اس کے غلط اور رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم پر جھوٹ بولنے کا پتہ دے رہي ہوں نيز دين ميں ايسي باتوں کے ايجاد کرنے پر مشتمل ہوں جن كى اللہ نے اجازت نہيں دي ہے.

رسول اللہ صلي اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" من قال علي مالم أقل فليتبوأ مقعده من النار "

جس نے ميري جانب ايسي بات منسوب كى جو ميں نے نہيں کہي ہے تو وہ اپنا ٹھکانہ جہنم ميں بنا لے.

جعل ساز نے اس وصيت ميں رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم كى جانب ايسي باتيں منسوب كى ہيں جوآپ صلي اللہ عليہ وسلم نے نہيں فرمائي ہيں، اور آپ صلي اللہ عليہ وسلم پر انتہائي خطرناک واضح جھوٹ بولا ہے، اگر وہ جلدازجلد توبہ نہ کرے اور لوگوں ميں اپنے سفيد جھوٹ کا اعلان نہ کرے تو وہ سخت وعيد کا مستحق ہے، کيونکہ شريعت کا اصول ہے کہ جوشخص کوئي غلط بات دين كى جانب منسوب کر کے لوگوں ميں پھيلائے تو اس كى توبہ اس وقت تک صحيح نہ ہوگي جب تک کہ لوگوں ميں اس کے غلط ہونے کا اعلان نہ کرے تا کہ لوگوں کو پتہ چل جائے کہ وہ اپني غلطي سے پھرگيا اور اسے تسليم کرليا ہے.

جيسا کہ اللہ عزوجل نے فرمايا:

إن الذين يکتمون ما أنزلنا من البينات والهدى من بعد مابيناه للناس في الکتاب أولئك يلعنهم الله ويلعنهم اللاعنون إلا الذين تابوا وأصلحوا وبينوا فولئك أتوب عليهم وأنا التواب الرحيم البقرۃ ( 2/159-160 ) .

جولوگ ہماري اتاري ہوئي دليلوں اورہدايت کو چھپاتے ہيں باوجوديکہ ہم اسے اپني کتاب ميں لوگوں کے لئے بيان کرچکے ہيں، ان لوگوں پر اللہ كى اور تمام لعنت کرنے والوں كى لعنت ہے، مگر وہ لوگ جو توبہ کرليں اور اصلاح کرليں اور بيان کرديں، تو ميں ان كى توبہ قبول کرليتا ہوں اور ميں توبہ قبول کرنے والا اور رحم وکرم کرنے والاہوں.

اللہ سبحانہ وتعالي نے اس آيت کريمہ ميں واضح فرما ديا کہ جو حق كى معمولي بات بھي چھپالے اس كى توبہ اس وقت تک درست نہيں ہوگي جب تک کہ وہ خرابيوں كى اصلاح اور حق كى وضاحت کا کام انجام نہ دے.

اللہ سبحانہ وتعالي نے بندوں کے لئے اس دين کو مکمل فرماديا اور رسول اللہ صلي اللہ عليہ وسلم کو مبعوث فرما کر اور مکمل شريعت عطا فرما کراپني نعمت کا اتمام اور اپنے نبي صلي اللہ عليہ وسلم کو وفات اس وقت دي جب کہ دين مکمل ہوگيا اور اس کے تمام تر احکام كى وضاحت ہو گئى.

جيسا کہ اللہ عزوجل نے فرمايا:

اليوم أکملت لکم دينکم وأتممت عليکم نعمتي و رضيت لکم الإسلام دينا أالمائدۃ( 5/3 )

آج ميں نے تمہارے لئے تمہارے دين کو مکمل کر ديا اور تم پر اپنا انعام بھر پور کرديا اور تمہارے لئے اسلام کے دين ہونے پر راضي ہوگيا.

اس وصيت نامہ کو گھڑنے والا چودہويں صدي ميں ظہور پزير ہوا ہے جو لوگوں کے دين کو خلط ملط کرنا چاہتا اور ان کے لئے ايک ايسا نيا دين ايجاد کرنا چاہتا ہے کہ جس کے اپنانے ہي پر جنت وجہنم کے داخلہ کا دارومدار ہو، چنانچہ اس کے خود ساختہ دين کو اپنانے والا جنت سے لطف اندوز اور اس کا انکار کرنے والا جہنم کا مستحق ہوا.

نيز وہ اس وصيت نامہ کو قرآن کريم سے افضل اور عظيم تر بنانا چاہتا ہے چنانچہ وہ اس ميں لکھتا ہے:

" جب كوئى شخص اس وصيت كو مسلمانوں ميں نشر كريگا تو روز قيامت وہ ميرى شفاعت كا مستحق ٹھريگا، اور اسے خير كثير حاصل ہو گى، اور روزى ميں وسعت ہو گى "

يہ انتہائي قبيح جھوٹ اوراس بات كى واضح دليل ہے کہ اس کا گھڑنے والا شرم وحيا سے عاري اور دروغ بياني پر انتہائي دلير ہے، کيونکہ يہ فضيلت تو قرآن کريم کے لکھنے والے اور اسے ايک شہر سے دوسرے شہر بھيجنے والے کو حاصل نہيں ہے، اگر وہ اس پر عمل نہ کرے تو پھر اس جھوٹي بات کو لکھنے اور اسے دوسروں كے پاس منتقل کرنے والے کو مذکورہ بالا فضائل کيسے حاصل ہو سکتے ہيں؟

اور جو شخص قرآن کريم نہ تو لکھے اور نہ ہي ايک شہر سے دوسرے شہر بھيجے وہ نبي صلى اللہ عليہ وسلم كى شفاعت سے محروم نہيں ہو گا، بشرطيکہ وہ آپ صلي اللہ عليہ وسلم كى رسالت پرايمان رکھتا ہو، اور آپ كى لائي ہوئي شريعت كى پيروي کرتا ہو، صرف يہي ايک جھوٹي بات اس وصيت نامہ کے باطل اور اس کے ناشرکے جھوٹے، بے شرم، کنند ذہن اور رسول اللہ صلي اللہ عليہ وسلم كى لائي ہوئي ہدايت سے کورے ہونے کے لئے کافي ہے.

اس وصيت نامہ ميں مذکورہ باتوں کے علاوہ بھي بہت سي ايسي چيزيں ہيں جو اس کے باطل اور غلط ہونے کا بين ثبوت ہيں، اگرچہ اس کا گھڑنے والا اس کے صحيح ہونے پر ہزار قسميں کھائے اور اپنے خلاف سخت ترين عذابوں كى بد دعائيں کرے، کہ وہ اپني اس بات ميں سچا ہے پھر بھي قطعا وہ سچا نہيں ہے، اور اس كى باتيں قابل اعتبار نہيں ہيں، بلکہ قسم بالائے قسم يہ وصيت نامہ کھلم کھلا جھوٹ اور غلط ہے.

ہم اللہ سبحانہ وتعالي، اپنے پاس موجود فرشتوں اور ان تحريروں سے باخبر ہرمسلمان کو گواہ بنا کر کہتے ہيں ايسي گواہي جسے ہم لے کر اپنے رب كى بارگاہ ميں حاضر ہونگے کہ يہ وصيت نامہ سرا سر جھوٹ اور رسول اللہ صلي اللہ عليہ وسلم پر الزام تراشي ہے، افترا پرداز کو اللہ تعالي ذليل و رسوا کرے اور اسے ايسي سزائيں دے جسکا وہ مستحق ہے.

نيز اس وصيت نامہ کے باطل اور جھوٹے ہونے پر سابقہ امور کے علاوہ ديگر بہت سي چيزيں بھي دلالت کرتي ہيں، ان ميں سے بعض ذيل ميں ذکر كى جاتي ہيں:

پہلي دليل: جو چيزيں اس وصيت نامہ کے باطل ہونے پر دلالت کرتي ہيں ان ميں سے ايک جعل ساز کا يہ کہنا کہ:

" اس ہفتہ ميں چاليس ہزار لوگ بغير ايمان كے جاہليت كى موت مرے ہيں "

اس بات کا تعلق علم غيب سے ہے اور نبي صلي اللہ عليہ وسلم اپني حيات مبارکہ ميں غيب نہيں جانتے تھے تو وفات کے بعد غيب داني كى بات کيسے کہي جاسکتي ہے، اور واضح رہے کہ آپ صلي اللہ عليہ وسلم كى وفات کے بعد وحي کا سلسلہ بھي منقطع ہوگيا "تو پھر آپ اپني امت کے احوال سے باخبر کيسے ہوسکتے ہيں "

جيسا کہ ارشاد باري تعالى ہے:

قل لاأقول لکم عندي خزائن الله ولاأعلم الغيب الانعام (6/50).

اے نبي صلي اللہ عليہ وسلم آپ کہہ ديجئے کہ نہ تو ميں تم سے يہ کہتا ہوں کہ ميرے پاس اللہ کے خزانے ہيں اور نہ ہي ميں غيب جانتا ہوں.

اور ايک دوسرےمقام پر اللہ تعالي نے فرمايا:

قل لايعلم من في السموات والأرض الغيب إلا الله النمل ( 27/65 ).

اے نبي صلي اللہ عليہ وسلم لوگوں کوبتلا ديجئے کہ آسمان وزمين والوں ميں سے سوائے اللہ کے کوئي غيب نہيں جانتا.

صحيح حديث ميں وارد ہے کہ نبي صلي اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" يرد رجال عن حوضي يوم القيامة فأقول يارب أصحابي أصحابي فيقال لي إنك لا تدري ما أحدثوا بعدک فأقول کما قال العبد الصالح" وکنت عليهم شهيدا مادمت فيهم فلما توفيتني کنت أنت الرقيب عليهم وأنت على کل شيء شهيد " بروز قيامت کچھ لوگوں کوميرے حوض سے بھگايا جائےگاتوميں کہوں گا اے ميرے رب يہ ميرے اصحاب ہيں يہ ميرے اصحاب ہيں، تو مجھ سے کہا جائے گا اے محمد صلي اللہ عليہ وسلم آپ نہيں جانتے کہ آپ کے دنيا سے رحلت فرما جانے کے بعد انہوں نے دين ميں کيا کيا بدعتيں ايجاد کرلي تھيں، آپ صلي اللہ عليہ و سلم نے فرمايا: ميں اس وقت وہي کہوں گا جو نيک بندے ( عيسي عليہ الصلاۃ والسلام ) نے کہا تھا:

ميں ان پر گواہ رہا جب تک ميں ان ميں رہا پھر جب تو نےمجھ کو اٹھاليا تو تو ہي ان مطلع رہاا اورتو ہر چيز كى پوري خبر رکھتا ہے.

دوسري دليل : اس وصيت کے باطل اور جھوٹے ہونے پر دوسري دليل جعل ساز کا يہ کہنا ہے کہ:

" جب كوئى شخص اس وصيت كو مسلمانوں ميں نشر كريگا تو روز قيامت وہ ميرى شفاعت كا مستحق ٹھريگا، اور اسے خير كثير حاصل ہو گى، اور روزى ميں وسعت ہو گى.... آخر تک "

يہ بہت بڑا جھوٹ اور دھوکہ باز کے جھوٹا اور بے شرم ہونے كى واضح دليل ہے کہ اسے اللہ تعالي اور نہ ہي اس کے بندوں سے شرم آتي ہے، اوپر جن تين فضائل کا ذکر ہوا وہ تو قرآن کريم کے لکھنے پر حاصل نہيں ہوتے ہيں توپھر اس باطل وصيت نامہ کو لکھنے سے کيسے حاصل ہوسکتا ہے.

ظاہر يہ ہوتا ہےکہ يہ خبيث لوگوں پر حق وباطل کو خلط ملط کرنا اور انہيں اسي نامہ ميں پھنسا کر رکھنا چاہتا ہے، تا کہ لوگ اسے لکھيں اور اسي من گھڑت فضيلت پر انحصار کريں اور اللہ کے مشروع کردہ اسباب کو ترک کرديں جنہيں اللہ نے بندوں کے لئے مالداري کے حصول، قرضوں كى ادائيگي اور گناہوں كى مغفرت کا ذريعہ بنايا ہے.

ہم اللہ تعالي کے ذريعہ ذلت ورسوائي کے اسباب، خواہشات نفس اور شيطان كى پيروي سے پناہ مانگتے ہيں.

تيسري دليل: اس وصيت نامہ کے باطل اور جھوٹے ہونے پر تيسري دليل دھوکہ باز يہ کہتا ہے:

" اور جو كوئى اس وصيت پر مطلع ہو اور اس نے اس وصيت كا اہتمام نہ كيا اور اسے ضائع كر ديا يا اسے دور پھينك ديا تو وہ گناہ كبيرہ كا مرتكب ٹھريگا.

اور يہ بھى كہ جو اس وصيت پر مطلع ہو اور اسے نشر نہ كرے تو وہ روز قيامت اللہ كى رحمت سے محروم ہو گا"

يہ بات بھي بدترين جھوٹ اور اس وصيت نامہ کے باطل اور اس کے گھڑنے والے کے جھوٹے ہونے كى واضح دليل ہے.

ايک دانشمند اس بات کو کيسے تسليم کرسکتا ہے کہ وہ ايک ايسے وصيت نامہ کو لکھے جسے چودہويں صدي ميں ايک غير معروف شخص نےرسول اللہ صلي اللہ عليہ وسلم پر گھڑ کر پيش کيا ہے، اور وہ يہ کہتا ہے کہ جو شخص اسے نہيں لکھے گا دنيا وآخرت ميں اس کا چہرہ سياہ ہوجائے گا، اور جو اسے لکھے اگر وہ فقير ہے تو مالدار ہو جائے گا، قرضوں کے بوجھ سے لدا ہوا ہے تو اس سے نجات پائے گا، اور گناہگار ہے تو اس کے سب گناہ بخش دئے جائيں گے، اے اللہ تو پاک ہے يہ بہت بڑا بہتاں ہے.

دلائل اورحقائق دونوں اس امر كى شہادت ديتے ہيں کہ اس وصيت نامہ کا گھڑنے والا جھوٹا اور اللہ پربہت جرات وجسارت کرنے والا ہے، اور اسے اللہ تعالى اور لوگوں تک سے شرم نہيں آتي ہے.

اس دنيا ميں ہزاروں لوگ ايسے ہيں جنہوں نے يہ وصيت نامہ شائع نہيں كيا اس کے باوجود ان كو كوئى نقصان نہيں ہوا، اور بےشمار لوگ ايسے بھي ہيں جنہوں نے اسے کئي بار لکھا اس کے باوجود ان کا قرض ادا نہ ہوا اور غربت وافلاس جوں کا توں رہا، ہم اللہ تعالي كى پناہ ميں آتےہيں کہ کہيں ہمارے دل کجي اور گناہ سے زنگ آلود نہ ہو جائيں.

شريعت مطہرہ نےافضل ترين کتاب قرآن مجيد کے لکھنے والے کے لئے بھي مذکورہ فضائل اور اجرو ثواب کا وعدہ نہيں فرمايا ہے، تو اس جھوٹے وصيت نامہ کے لکھنے والے کو يہ ثواب کيسےحاصل ہوسکتا ہے جبکہ يہ وصيت نامہ باطل چيزوں اور بہت سےکفريہ جملوں پر مشتمل ہے، اللہ سبحانہ وتعالي ان باتوں سے پاک ہے، وہ اپنے اوپر جرات کے ساتھ جھوٹ گھڑنے والے پر بھي کس قدر مہربان اور بردبار ہے.

چوتھي دليل: اس وصيت نامہ کے کلي طور پر باطل اور واضح طور پر جھوٹ ہونے كى چوتھي دليل دھوکہ باز کا يہ کہنا ہےکہ:

" جو شخص بھى اس وصيت كے تيس نسخے مسلمانوں ميں تقسيم كريگا اللہ تعالى اس كے تمام غم و پريشانيوں كو ختم كر ديگا، اور اس كى روزى ميں بركت ڈالے گا، اور اس كى مشكلات حل كر ديگا، اور اسے تقريبا چاليس يوم ميں روزى عطا فرمائيگا"

يہ بھي جھوٹ پر ايک بہت بڑي جرات اور قبيح درجہ كى غلط بات ہے، دھوکہ باز ترغيب وترہيب پر مشتمل ان جملوں کےذريعہ لوگوں کو اپنے اس جھوٹ كى تصديق كى جانب بلانا چاہتا ہے اور انہيں يہ باور کرانا چاہتا ہے کہ وہ اس وصيت نامہ كو شائع كر كے روزى حاصل كريں اور مشكلات سے نجات پائينگے، اور جھٹلانے كى صورت ميں نقصان اٹھائينگے.

اللہ كى قسم اس کذاب نے اللہ تعالي پر بہت بڑي تہمت لگائي ہے، اللہ كى قسم اس نے ناحق کفريہ بات کہي ہے، بلکہ ميں کہتا ہوں کہ اس وصيت نامہ كى تصديق کرنے والا ہي کافر ہونے کا مستحق ہے، اور جو اسے جھٹلائے وہ ہرگز کافر نہيں ہوگا، کيونکہ يہ سراسر جھوٹ اور غلط بات ہے جس كى ازروئے صحت کوئي سند نہيں ہے، ہم اللہ تعالي کو گواہ بنا کر کہتے ہيں کہ يہ وصيت نامہ جھوٹ اور اس کا گھڑنے والا کذاب ہے، وہ لوگوں کے لئے اللہ تعالي كى مرضي کےخلاف شريعت پيش کرنا چاہتا ہے، اور دين ميں ايسي باتيں داخل کرنا چاہتا ہےجن کا دين سے دور کا بھي واسطہ نہيں ہے، اللہ سبحانہ وتعالي نے اس امت کے لئے دين اسلام کو اس جھوٹ سے چودہ سوسال پہلے مکمل فرماديا.

قارئين کرام اور ديني بھائيو! آپ اس طرح كى خود ساختہ باتوں كى تصديق اور باہم ان كى اشاعت سےخود کو بچائيں کيونکہ حق ايک روشني ہے جو اس کے طلبگار پر مشتبہ نہيں ہوتا، لہذا حق کو دلائل سےطلب کريں اور جس مسئلہ ميں دقت پيش آئے اسےاہل علم سے معلوم کرليا کريں، کبھي بھي دھوکہ بازوں كى قسموں سے دھوکہ نہ کھائيں کيونکہ ابليس لعين نے بھي تمہارے والدين آدم وحوا سے قسميں کھائي تھيں کہ ميں تمہارا خيرخواہ ہوں، جبکہ وہ سب سے بڑا غدار اور دغاباز تھا.

جيسا کہ اللہ تعالي نے سورۃ اعراف ميں اس كى بابت فرمايا:

وقاسمهما إني لکما لمن الناصحينالاعراف (7 / 21).

اور ( شيطان نے ) ان دونوں ( آدم وحوا ) کے روبرو قسم کھا کر کہا کہ يقين جانيئے کہ ميں تم دونوں کا خيرخواہ ہوں.

شيطان اور اس کے نقش قدم پر چلنے والے دھوکہ بازوں سے بچو کيونکہ ان کے پاس لوگوں کو راہ حق سے گمراہ کرنے کے لئے بےشمار جھوٹي قسميں، بد عہدياں اور بناوٹي باتيں ہيں.

اللہ تعالي مجھے اور تمام مسلمانوں کوشيطان کے شر، گمراہ کن لوگوں کے فتنوں، جادہ حق سے منحرف لوگوں كىگمراہيوں اور باطل پرست اللہ کے دشمنوں کے مکروفريب سے محفوظ رکھے، جو اللہ تعالى کے نور (دين اسلام ) کو اپني پھونکوں سے بجھانا چاہتے ہيں، اور لوگوں پر ان کے دين کو خلط ملط کرنا چاہتے ہيں، حالانکہ اللہ تعالى اپنے دين کو مکمل فرمانے والا اور اس كىمدد کرنے والا ہے، اگرچہ اللہ تعالي کے دشمن شيطان اور اس کے پيروکار کفار وملحدين کو ناگوار گزرے.

جہاں تک برائيوں کےعام ہونے کے متعلق اس دھوکہ باز نے لکھا ہے، تو وہ امر واقعہ ہے، قرآن کريم اور سنت مطہرہ نے منکرات وفواحش سے انتہائي ڈرايا دھمکايا ہے، دراصل کتاب وسنت ہي كىپيروي ميں ہدايت ہےاور بس يہي دونوں چيزيں ہدايت کے لئے کافي ہيں.

ہم اللہ عزوجل سے دعا کرتےہيں کہ مسلمانوں کے احوال كى اصلاح فرمادے، اور انہيں حق كى پيروي اور اس پر ثابت قدم رہنے كى توفيق عطا فرمائے، تمام تر گناہوں سے توبہ كى توفيق بخشے بيشک وہ اللہ توبہ قبول کرنے والا، رحم وکرم کرنے والا ، ہر چيز پر قادرہے.

رہي يہ بات کہ اس وصيت نامہ ميں قيامت كى نشانيوں کا ذکر ہے، تواحاديث نبويہ ميں علامات قيامت کا مفصل ذکر موجود ہے، قرآن کريم نے بھي بعض كى جانب اشارہ کيا ہے، لھذا جو شخص اس بارے ميں جاننا چاہتا ہو تو اسے يہ چيزيں احاديث كى کتابوں اور اہل علم كى تاليفات ميں مل سکتي ہيں ، لوگوں کو اس دھوکہ باز اور اس طرح كىگمراہيوں كى جانب توجہ دينے كى قطعا کوئي ضرورت نہيں ہے، ہمارے لئے اللہ تعالى ہي کافي ہے، وہ بہترين کارساز ہے اور ہم بلند وبرتر اللہ كى مدد کے بغير گناہوں سے بچنے اور نيکيوں کے بجالانے كى طاقت نہيں رکھتے ہيں. اھـ

اس وصيت سے بچنے اور احتراز كرنے كے متعلق شيخ صالح الفوزان كا كالم مجلۃ الدعوۃ عدد نمبر ( 1082 ) ميں نشر ہوا وہ كہتے ہيں:

يہ وصيت بہت قديم و پرانى لكھى ہوئى ہے، مصر ميں اسى برس قبل ظاہر ہوئى تھى، اہل علم نے اس كا بطلان بيان كيا اور اسے كھوٹى اور بناوٹى قرار ديا اور اس ميں جو كذب و باطل تھا بيان كيا ان علماء ميں محمد رشيد رضا رحمہ اللہ شامل ہيں انہوں نے اس كا رد كرتے ہوئے كہا تھا:

ہم اس مسئلہ كا جواب 1322 ھـ ميں دے چكے ہيں، ہميں ياد ہے كہ جب ہم حروف تہجى اور خط كے طالب علم تھے اس وقت بھى ہم نے اس وصيت كو ديكھا تھا اور اب تك كئى بار ديكھ چكے ہيں، يہ سب حجرہ نبويہ كے خادم شيخ احمد نامى شخص كى طرف منسوب ہيں، اور يہ وصيت قطعى طور پر جھوٹى ہے، جس نے بھى علم و دين كى ہلكى سے خوشبو سونگھ ركھى ہے وہ اس كے جھوٹا ہونے ميں اختلاف نہيں ركھتا، اس كى تصديق صرف ان پڑھ اور عامۃ الناس ہى كرتے ہيں.

پھر انہوں نے اس كا طويل رد كيا ہے جس ميں انہوں نے جھوٹ و افترا كو باطل كرتے ہوئے مفيد كلام كى ہے، پھر يہ وصيت بعض جاہلوں كے ہاتھ لگى اور انہوں نے اسے شائع كرنا شروع كر ديا، اور اس ميں جو وعدہ اور وعيد و دھمكى سنائى گئى ہے اس سے متاثر ہو كر تقسيم كرنى شروع كر دى، كيونكہ جس فاجر شخص نے اس كى اختراع كى ہے وہ اس وصيت ميں كہتا ہے:

جو شخص اس كے اتنے نسخے چھاپ كر تقسيم كرے گا وہ اپنى غرض و مقصد حاصل كر ليگا، چاہے وہ گنہگار ہو تو اللہ اس كے گناہ معاف كر ديگا، اور اگر وہ ملازم ہے اس كى ترقى ہو جائيگى، اور اگر وہ مقروض ہے تو اس كے قرض كى ادائيگى ہو جائيگى.

اور جو شخص اس وصيت كو جھٹلائے گا اس كا چہرہ سياہ ہو جائيگا، اور اسے يہ يہ سزا ملے گى، چنانچہ جب اسے كچھ جاہلوں نے پڑھا تو اس سے متاثر ہو كر اس پر عمل كرتے ہوئے خوف و طمع و لالچ ميں اسے شائع كرنا شروع كر ديا.

اسى ليے علماء كرام نے اس وصيت كى كذب بيانى و جھوٹ و افترا واضح كيا اور لوگوں كو اس كى تصديق اور اسے نشر كرنے سے روكا، ان علماء كرام ميں الشيخ عبد العزيز بن باز رحمہ اللہ بھى شامل ہيں انہوں نے اس كا بہت اچھا اور مفيد رد كيا ہے جس ميں كذب و دجل كى وضاحت كى ہے، وہ كہتے ہيں يہ وصيت كئى ايك اعتبار سے باطل ہے:

پہلي وجہ: وفات نبوي کے بعد آپ صلي اللہ عليہ وسلم کا ديدار بحالت بيداري ممکن نہيں ہے، جو جاہل صوفي يہ دعوي کرتا ہے کہ اس نے بحالت بيداري نبي صلي اللہ عليہ وسلم کا ديدار کيا يا آپ صلي اللہ عليہ وسلم عيد ميلاد النبي کے اجتماعات ميں حاضر ہوتے ہيں، يا اس جيسے ديگر باطل عقائد رکھے تو وہ غايت درجہ قبيح غلطي پر ہے، اس پر حق خلط ملط ہوگيا اوروہ ايک عظيم غلطي کا شکار ہوا، نيز اس نے کتاب وسنت اور اہل علم اجماع كے مخالفت کي، کيونکہ مردے اپني قبروں سے بروز قيامت ہي نکليں گے، اس سے پہلے دنيا ميں ہرگز نہيں نکليں گے.

جيسا کہ اللہ سبحانہ وتعالي نے فرمايا:

ثم إنکم بعد ذلك لميتون ثم إنکم يوم القيامة تبعثون المومنون ( 23 / 15 - 16 ).

اس کے بعد پھر تم سب يقينا مرجانے والے ہو پھر قيامت کے دن بلا شبہ تم سب اٹھائے جاؤ گے.

اللہ سبحانہ وتعالي نے اس آيت کريمہ ميں بتلا ديا کہ مردوں کو بروز قيامت ہي ان كى قبروں سے اٹھايا جائے گا، اس سے پہلے اس دنيا ميں نہيں، چنانچہ جو شخص اس کے خلاف عقيدہ رکھے وہ صريح طور پر جھوٹا اور غلطي کا مرتکب اورحق اس پر خلط ملط ہے، وہ اس حق سے نا آشنا ہے جس حق کو سلف صالحين نے پہچانا تھا اور رسول اللہ صلي اللہ عليہ وسلم کے صحابہ کرام اور ان کے نقش قدم كى پيروي کرنے والے اس پر چلےتھے.

دوسري وجہ: رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم بقيد حيات ہوں، يا اس دارفاني سےکوچ کرچکے ہوں كسى بھي صورت ميں خلاف حق بات نہيں کہہ سکتے ، يہ وصيت نامہ واضح طور پر بہت سي خلاف شريعت باتوں پر مشتمل ہے، ان شاء اللہ ہم ذيل كى سطور ميں ان کا ذکر کريں گے، ہم مانتے ہيں کہ بحالت خواب نبي صلي اللہ عليہ وسلم کا ديدار ہوسکتا ہے اور جس نے بحالت خواب آپ کو آپ كى مبارک شکل ميں ديکھا اس نے درحقيقت آپ کو ہي ديکھا، کيونکہ شيطان آپ كى شکل اختيار نہيں کرسکتا ہے، جيسا کہ صحيح حديث ميں وارد ہوا ہے.

ليکن سارا معاملہ خواب ديکھنے والے کے ايمان، صداقت، عدالت، حفظ، اور امانت وديانت کا ہے، کيا اس نے درحقيقت نبي صلي اللہ عليہ وسلم کو ہي آپ كى شکل ميں ديکھا يا کوئي اور صورت تھي؟

محدثين کا اصول ہےکہ اگر کوئي حديث نبي صلي اللہ عليہ وسلم سے وارد ہو اور اس کے بيان کرنے والے ثقہ، عادل اور صحيح الحفظ نہ ہوں تو وہ حديث قابل قبول اور لائق استدلال نہيں ہے.

يا اس کے بيان کرنے والے ثقہ، صحيح الحفظ تو ہوں ليکن حفظ وثقاہت ميں ان سے آگے بڑھے ہوئے راويوں كى روايت سے ان كى بات ٹکراتي ہواور ان دونوں ميں تطبيق بھي ممکن نہ ہو تو نسخ كى شرطوں کے پائے جانے كى صورت ميں ايک کو ناسخ اور دوسرے کو منسوخ قرار ديا جائے گا، ناسخ پر عمل اور منسوخ کو رد کرديا جائے گا.

اور اگر تطبيق اور نسخ دونوں ہي ممکن نہ ہوں تو حفظ ميں کم اور عدالت ميں کمزور راويوں كى روايت کو رد کرديا جائے گا، اس کا حکم شاذ کا ہوگا اور اس پر عمل نہيں کيا جائے گا.

پھر وہ وصيت کيسے قبول كى جاسکتي ہے جس کا بيان کرنے والا غيرمعروف اور اس كى عدالت وامانت پردہ خفا ميں ہے، درحقيقت اس طرح كى وصيت جو اگرچہ خلاف شريعت باتوں سے خالي ہو بلاتامل ردي كى ٹوکري ميں ڈال دي جاني چاہيئے.

پھر اس وصيت کے بارے ميں آپ كى کيا رائے ہے جو بہت سي ايسي باتوں پر مشتمل ہو جو بذات خود اس کے غلط اور رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم پر جھوٹ بولنے کا پتہ دے رہي ہوں نيز دين ميں ايسي باتوں کے ايجاد کرنے پر مشتمل ہوں جن كى اللہ نے اجازت نہيں دي ہے.

رسول اللہ صلي اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" من قال علي مالم أقل فليتبوأ مقعده من النار "

جس نے ميري جانب ايسي بات منسوب كى جو ميں نے نہيں کہي ہے تو وہ اپنا ٹھکانہ جہنم ميں بنا لے.

جعل ساز نے اس وصيت ميں رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم كى جانب ايسي باتيں منسوب كى ہيں جوآپ صلي اللہ عليہ وسلم نے نہيں فرمائي ہيں، اور آپ صلي اللہ عليہ وسلم پر انتہائي خطرناک واضح جھوٹ بولا ہے، اگر وہ جلدازجلد توبہ نہ کرے اور لوگوں ميں اپنے سفيد جھوٹ کا اعلان نہ کرے تو وہ سخت وعيد کا مستحق ہے، کيونکہ شريعت کا اصول ہے کہ جوشخص کوئي غلط بات دين كى جانب منسوب کر کے لوگوں ميں پھيلائے تو اس كى توبہ اس وقت تک صحيح نہ ہوگي جب تک کہ لوگوں ميں اس کے غلط ہونے کا اعلان نہ کرے تا کہ لوگوں کو پتہ چل جائے کہ وہ اپني غلطي سے پھرگيا اور اسے تسليم کرليا ہے.

جيسا کہ اللہ عزوجل نے فرمايا:

إن الذين يکتمون ما أنزلنا من البينات والهدى من بعد مابيناه للناس في الکتاب أولئك يلعنهم الله ويلعنهم اللاعنون إلا الذين تابوا وأصلحوا وبينوا فأولئك أتوب عليهم وأنا التواب الرحيم البقرۃ ( 2/159-160 ) .

جولوگ ہماري اتاري ہوئي دليلوں اورہدايت کو چھپاتے ہيں باوجوديکہ ہم اسے اپني کتاب ميں لوگوں کے لئے بيان کرچکے ہيں، ان لوگوں پر اللہ كى اور تمام لعنت کرنے والوں كىلعنت ہے، مگر وہ لوگ جو توبہ کرليں اور اصلاح کرليں اور بيان کرديں، تو ميں ان كى توبہ قبول کرليتا ہوں اور ميں توبہ قبول کرنے والا اور رحم وکرم کرنے والاہوں.

اللہ سبحانہ وتعالي نے اس آيت کريمہ ميں واضح فرما ديا کہ جو حق كى معمولي بات بھي چھپالے اس كى توبہ اس وقت تک درست نہيں ہوگي جب تک کہ وہ خرابيوں كى اصلاح اور حق كى وضاحت کا کام انجام نہ دے.

اللہ سبحانہ وتعالي نے بندوں کے لئے اس دين کو مکمل فرماديا اور رسول اللہ صلي اللہ عليہ وسلم کو مبعوث فرما کر اور مکمل شريعت عطا فرما کراپني نعمت کا اتمام اور اپنے نبي صلي اللہ عليہ وسلم کو وفات اس وقت دي جب کہ دين مکمل ہوگيا اور اس کے تمام تر احکام كى وضاحت ہو گئى.

جيسا کہ اللہ عزوجل نے فرمايا:

اليوم أکملت لکم دينکم وأتممت عليکم نعمتي و رضيت لکم الإسلام دينا أالمائدۃ( 5/3 )

آج ميں نے تمہارے لئے تمہارے دين کو مکمل کر ديا اور تم پر اپنا انعام بھر پور کرديا اور تمہارے لئے اسلام کے دين ہونے پر راضي ہوگيا.

اس وصيت نامہ کو گھڑنے والا چودہويں صدي ميں ظہور پذير ہوا ہے جو لوگوں کے دين کو خلط ملط کرنا چاہتا اور ان کے لئے ايک ايسا نيا دين ايجاد کرنا چاہتا ہے کہ جس کے اپنانے ہي پر جنت وجہنم کے داخلہ کا دارومدار ہو، چنانچہ اس کے خود ساختہ دين کو اپنانے والا جنت سے لطف اندوز اور اس کا انکار کرنے والا جہنم کا مستحق ہوا.

اس وصيت نامہ ميں مذکورہ باتوں کے علاوہ بھي بہت سي ايسي چيزيں ہيں جو اس کے باطل اور غلط ہونے کا بين ثبوت ہيں، اگرچہ اس کا گھڑنے والا اس کے صحيح ہونے پر ہزار قسميں کھائے اور اپنے خلاف سخت ترين عذابوں كى بد دعائيں کرے، کہ وہ اپني اس بات ميں سچا ہے پھر بھي قطعا وہ سچا نہيں ہے، اور اس كى باتيں قابل اعتبار نہيں ہيں، بلکہ قسم بالائے قسم يہ وصيت نامہ کھلم کھلا جھوٹ اور غلط ہے.

ہم اللہ سبحانہ وتعالي، اپنے پاس موجود فرشتوں اور ان تحريروں سے باخبر ہرمسلمان کو گواہ بنا کر کہتے ہيں ايسي گواہي جسے ہم لے کر اپنے رب كى بارگاہ ميں حاضر ہونگے کہ يہ وصيت نامہ سرا سر جھوٹ اور رسول اللہ صلي اللہ عليہ وسلم پر الزام تراشي ہے، افترا پرداز کو اللہ تعالي ذليل و رسوا کرے اور اسے ايسي سزائيں دے جسکا وہ مستحق ہے.

نيز اس وصيت نامہ کے باطل اور جھوٹے ہونے پر سابقہ امور کے علاوہ ديگر بہت سي چيزيں بھي دلالت کرتي ہيں، ان ميں سے بعض ذيل ميں ذکر كى جاتي ہيں:

اول:

احكام دين اور وعدہ و وعيد اور مستقبل كى خبريں دينا يہ سب امور ايسے ہيں جو اللہ كى جانب سے رسولوں كى جانب وحى كے بغير ثابت نہيں ہو سكتے، ـ اب جبكہ ہمارے ليے اللہ تعالى نے دين مكمل كر ديا ہے اور ہميں وارث بنايا ہے ـ اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى موت كى بنا پر وحى كا سلسلہ منقطع ہو چكا ہے، كتاب وسنت ميں ہى كفائت و ہدايت ہے.

خوابوں اور حكايات سے كچھ ثابت نہيں ہوتا كيونكہ يہ غالبا شيطان كى جانب سے ہوتى ہيں تا كہ لوگوں كو ان كے دين سے گمراہ كرے، اس وصيت كو گھڑنے والا يہ وعدہ كر رہا ہے كہ جو اس كى تصديق كريگا اور اسے نشر كريگا وہ جنت ميں داخل ہو گا، اور اس كى ضروريات پورى ہونگى اور مشكلات و مصائب سے چھٹكارا حاصل ہو جائيگا.

اس كے برعكس اس وصيت كو جھٹلانے والے كو آگ ميں داخل ہونے كى وعيد سنا رہا ہے، اور كہتا ہے كہ جھٹلانے والے كا چہرہ سياہ ہو جائيگا، يہ ايك نيا دين ايجاد كرنا اور اللہ سبحانہ و تعالى پر جھوٹ و افترا ہے، اللہ اس سے محفوظ ركھے.

دوم:

نيز وہ اس وصيت نامہ کو قرآن کريم سے افضل اور عظيم تر بنانا چاہتا ہے چنانچہ وہ اس ميں لکھتا ہے:

" جوشخص اس وصيت کو لکھوا کرايک شہر سے دوسرے شہر اور ايک جگہ سے دوسري جگہ بھيجے گا اس کے لئے جنت ميں ايک محل بنايا جائے گا، اور جو اسے لکھوا کرايک جگہ سے دوسري جگہ نہ بھيجے گا وہ بروز قيامت نبي صلي اللہ عليہ وسلم كى شفاعت سے محروم ہوگا"

يہ انتہائي قبيح جھوٹ اوراس بات كى واضح دليل ہے کہ اس کا گھڑنے والا شرم وحيا سے عاري اور دروغ بياني پر انتہائي دلير ہے، کيونکہ يہ فضيلت تو قرآن کريم کے لکھنے والے اور اسے ايک شہر سے دوسرے شہر بھيجنے والے کو حاصل نہيں ہے، اگر وہ اس پر عمل نہ کرے تو پھر اس جھوٹي بات کو لکھنے اور اسے ايک شہر سے دوسرے شہر منتقل کرنے والے کو مذکورہ بالا فضائل کيسے حاصل ہو سکتے ہيں؟

اور جو شخص قرآن کريم نہ تو لکھے اور نہ ہي ايک شہر سے دوسرے شہر بھيجے وہ نبي صلى اللہ عليہ وسلم كى شفاعت سے محروم نہيں ہو گا، بشرطيکہ وہ آپ صلي اللہ عليہ وسلم كى رسالت پرايمان رکھتا ہو، اور آپ كى لائي ہوئي شريعت كى پيروي کرتا ہو، صرف يہي ايک جھوٹي بات اس وصيت نامہ کے باطل اور اس کے ناشرکے جھوٹے، بے شرم، کنند ذہن اور رسول اللہ صلي اللہ عليہ وسلم كى لائي ہوئي ہدايت سے کورے ہونے کے لئے کافي ہے.

سوم:

جو چيزيں اس وصيت نامہ کے باطل ہونے پر دلالت کرتي ہيں ان ميں سے ايک جعل ساز اس ميں علم غيب كا دعوى كرتے ہوئے كہتا ہے:

" ايک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک چاليس ہزار مسلمان مرتد اور کافر ہوکر مرگئے"

اس بات کا تعلق علم غيب سے ہے اور نبي صلي اللہ عليہ وسلم اپني حيات مبارکہ ميں غيب نہيں جانتے تھے تو وفات کے بعد غيب داني كى بات کيسے کہي جاسکتي ہے، اور واضح رہے کہ آپ صلي اللہ عليہ وسلم كى وفات کے بعد وحي کا سلسلہ بھي منقطع ہوگيا "تو پھر آپ اپني امت کے احوال سے باخبر کيسے ہوسکتے ہيں "

جيسا کہ ارشاد باري تعالى ہے:

قل لاأقول لکم عندي خزائن الله ولاأعلم الغيب الانعام (6/50).

اے نبي صلي اللہ عليہ وسلم آپ کہہ ديجئے کہ نہ تو ميں تم سے يہ کہتا ہوں کہ ميرے پاس اللہ کے خزانے ہيں اور نہ ہي ميں غيب جانتا ہوں.

اور ايک دوسرےمقام پر اللہ تعالي نے فرمايا:

قل لايعلم من في السموات والأرض الغيب إلا الله النمل ( 27/65 ).

اے نبي صلي اللہ عليہ وسلم لوگوں کوبتلا ديجئے کہ آسمان وزمين والوں ميں سے سوائے اللہ کے کوئي غيب نہيں جانتا.

صحيح حديث ميں وارد ہے کہ نبي صلي اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" يرد رجال عن حوضي يوم القيامة فأقول يارب أصحابي أصحابي فيقال لي إنك لا تدري ما أحدثوا بعدک فأقول کما قال العبد الصالح" وکنت عليهم شهيدا مادمت فيهم فلما توفيتني کنت أنت الرقيب عليهم وأنت على کل شيء شهيد " بروز قيامت کچھ لوگوں کوميرے حوض سے بھگايا جائےگاتوميں کہوں گا اے ميرے رب يہ ميرے اصحاب ہيں يہ ميرے اصحاب ہيں، تو مجھ سے کہا جائے گا اے محمد صلي اللہ عليہ وسلم آپ نہيں جانتے کہ آپ کے دنيا سے رحلت فرما جانے کے بعد انہوں نے دين ميں کيا کيا بدعتيں ايجاد کرلي تھيں، آپ صلي اللہ عليہ و سلم نے فرمايا: ميں اس وقت وہي کہوں گا جو نيک بندے ( عيسي عليہ الصلاۃ والسلام ) نے کہا تھا:

ميں ان پر گواہ رہا جب تک ميں ان ميں رہا پھر جب تو نےمجھ کو اٹھاليا تو تو ہي ان مطلع رہاا اورتو ہر چيز كى پوري خبر رکھتا ہے.

اس وصيت کے باطل اور جھوٹے ہونے پر ايك دليل جعل ساز کا يہ کہنا ہے کہ:

" جوشخص اس وصيت کو لکھے اگر وہ فقير ہوگا تو اللہ اسے مالدار کردےگا مقروض ہوگا تو اس کے قرضوں كى ادائيگي فرمادےگا اور اگر گناہگار ہوگا تواس وصيت كى برکت سے اللہ اسے اور اس کے والدين کو بخش دےگا.... آخر تک "

يہ بہت بڑا جھوٹ اور دھوکہ باز کے جھوٹا اور بے شرم ہونے كى واضح دليل ہے کہ اسے اللہ تعالي اور نہ ہي اس کے بندوں سے شرم آتي ہے، اوپر جن تين فضائل کا ذکر ہوا وہ تو قرآن کريم کے لکھنے پر حاصل نہيں ہوتے ہيں توپھر اس باطل وصيت نامہ کو لکھنے سے کيسے حاصل ہوسکتا ہے.

ظاہر يہ ہوتا ہےکہ يہ خبيث لوگوں پر حق وباطل کو خلط ملط کرنا اور انہيں اسي نامہ ميں پھنسا کر رکھنا چاہتا ہے، تا کہ لوگ اسے لکھيں اور اسي من گھڑت فضيلت پر انحصار کريں اور اللہ کے مشروع کردہ اسباب کو ترک کرديں جنہيں اللہ نے بندوں کے لئے مالداري کے حصول، قرضوں كى ادائيگي اور گناہوں كى مغفرت کا ذريعہ بنايا ہے.

ہم اللہ تعالي کے ذريعہ ذلت ورسوائي کے اسباب، خواہشات نفس اور شيطان كى پيروي سے پناہ مانگتے ہيں.

اس وصيت نامہ کے باطل اور جھوٹے ہونے كى ايك دليل يہ بھى ہے كہ دھوکہ باز يہ کہتا ہے:

" اللہ کے بندوں ميں سے جوشخص اس وصيت نامہ کو نہيں لکھے گا اس کا چہرہ دنيا وآخرت ميں سياہ ہوگا"

يہ بات بھي بدترين جھوٹ اور اس وصيت نامہ کے باطل اور اس کے گھڑنے والے کے جھوٹے ہونے كى واضح دليل ہے.

ايک دانشمند اس بات کو کيسے تسليم کرسکتا ہے کہ وہ ايک ايسے وصيت نامہ کو لکھے جسے چودہويں صدي ميں ايک غير معروف شخص نےرسول اللہ صلي اللہ عليہ وسلم پر گھڑ کر پيش کيا ہے، اور وہ يہ کہتا ہے کہ جو شخص اسے نہيں لکھے گا دنيا وآخرت ميں اس کا چہرہ سياہ ہوجائے گا، اور جو اسے لکھے اگر وہ فقير ہے تو مالدار ہو جائے گا، قرضوں کے بوجھ سے لدا ہوا ہے تو اس سے نجات پائے گا، اور گناہگار ہے تو اس کے سب گناہ بخش دئے جائيں گے، اے اللہ تو پاک ہے يہ بہت بڑا بہتاں ہے.

دلائل اورحقائق دونوں اس امر كى شہادت ديتے ہيں کہ اس وصيت نامہ کا گھڑنے والا جھوٹا اور اللہ پربہت جرات وجسارت کرنے والا ہے، اور اسے اللہ تعالى اور لوگوں تک سے شرم نہيں آتي ہے.

اس دنيا ميں ہزاروں لوگ ايسے ہيں جنہوں نے يہ وصيت نامہ نہيں لکھا اس کے باوجود ان کے چہرے سياہ نہيں ہوئے اور بےشمار لوگ ايسے بھي ہيں جنہوں نے اسے کئي بار لکھا اس کے باوجود ان کا قرض ادا نہ ہوا اور غربت وافلاس جوں کا توں رہا، ہم اللہ تعالي كى پناہ ميں آتےہيں کہ کہيں ہمارے دل کجي اور گناہ سے زنگ آلود نہ ہو جائيں.

شريعت مطہرہ نےافضل ترين کتاب قرآن مجيد کے لکھنے والے کے لئے بھي مذکورہ فضائل اور اجرو ثواب کا وعدہ نہيں فرمايا ہے، تو اس جھوٹے وصيت نامہ کے لکھنے والے کو يہ ثواب کيسےحاصل ہوسکتا ہے جبکہ يہ وصيت نامہ باطل چيزوں اور بہت سےکفريہ جملوں پر مشتمل ہے، اللہ سبحانہ وتعالي ان باتوں سے پاک ہے، وہ اپنے اوپر جرات کے ساتھ جھوٹ گھڑنے والے پر بھي کس قدر مہربان اور بردبار ہے.

چہارم:

دنيا و آخرت ميں اجروثواب اور سزا صرف كتاب اللہ اور سنت رسول اللہ سے ہى ثابت ہو سكتى ہے، ليكن يہ مفترى اور جھوٹ پرداز اس وصيت كى تصديق كرنے والے كو ثواب دے رہا ہے، اور اس وصيت كو جھٹلانے

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں