اتوار 14 رمضان 1440 - 19 مئی 2019
اردو

تصوير مٹانے كى كونسى صورت ہے جس سے حرام نہيں رہتى ؟

3332

تاریخ اشاعت : 19-03-2008

مشاہدات : 4709

سوال

رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ہميں تصاوير مٹانے كا حكم ديا ہے، تو كيا صرف آنكھيں يا چہرہ يا سر مٹانا كافى ہے ؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

تصوير چہرہ ہے، اس ليے چہرہ كو ختم كرنا ضرورى ہے تا كہ تصوير كى حقيقت ختم ہو جائے، كيونكہ حديث ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے چہرے پر مارنے سے منع فرمايا ہے.

اسے بخارى نے روايت كيا ہے.

دوسرى حديث ميں چہرے پر مارنے سے مراد كى وضاحت يہ كى گئى ہے كہ: چہرے پر نہ مارا جائے تو پھر صورت سے مراد چہرہ ہوا اس ليے چہرے كے نشانات ختم كرنا ضرورى ہيں.

ماخذ: الشيخ عبد الكريم الخضير

تاثرات بھیجیں