بدھ 18 جمادی اولی 1440 - 23 جنوری 2019
اردو

تعاونى كميٹياں

3346

تاریخ اشاعت : 21-03-2006

مشاہدات : 3230

سوال

تجارتى تعاونى كميٹى كے نظام ميں يہ شرط ہے كہ اس كےمنافع سے دس فيصد خيراتى كاموں ميں صرف كيا جائے گا، تو كيا اس منافع پر زكاۃ واجب ہوتى ہے ؟

جواب کا متن

الحمد للہ :

اس تعاونى كميٹى كے اموال ميں زكاۃ واجب ہونے كا حكم تجارتى كمپنيوں جيسا ہى ہے، اور آپ نے جو بيان كيا ہے كہ اس كے نظام ميں شامل ہے كہ اس كے منافع ميں سے صافى دس فيصد خيراتى كاموں ميں صرف ہوتا ہے، اس سے اس پر واجب زكاۃ ساقط نہيں ہو گى، كيونكہ وہ دس فيصد جس كى طرف اشارہ كيا گيا ہے وہ نفلى صدقہ كى جگہ ہے، اور نفلى صدقہ كرنے سے فرض كردہ زكاۃ ساقط نہيں ہو جاتى، كيونكہ زكاۃ ايك ايسى واجب عبادت ہے جو ادائيگى ميں نيت كى محتاج ہے، اور يہ ادا كردہ دس فيصد بطور زكاۃ ادا نہيں كيا گيا، بلكہ نفلى صدقہ كے طور پر ادا ہوا ہے.

لہذا اس كميٹى كے اموال پر زكاۃ نكالنا واجب ہے.

ماخذ: ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 9 / 287 )

تاثرات بھیجیں