منگل 21 ذو القعدہ 1440 - 23 جولائی 2019
اردو

كيا وضوء ميں ہئير كلر پر مسح كرنا جائز ہے ؟

33724

تاریخ اشاعت : 16-04-2010

مشاہدات : 6080

سوال

اگر عورت نيل پالش لگائے تو وضوء كرنے سے قبل اسے اتارنا ضرورى ہے، ليكن ہيئر كلر كے متعلق كيا حكم ہے، آيا وضوء ميں سر پر مسح كرنے سے قبل اسے اتارنا ضرورى ہے ؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

ظاہر تو يہى ہوتا ہے كہ سر پر مہندى وغيرہ لگانا وضوء كرنے ميں اثر انداز نہيں ہوتى، بلكہ اس پر مسح كرنا كافى ہے.

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

" جب عورت سر پر مہندى وغيرہ كا ليپ كرے تو وہ اس پر مسح كرےگى اور اس مہندى كو اتارنے كى كوئى ضرورت نہيں، كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے ثابت ہے كہ آپ نے احرام كى حالت ميں ليپ كر ركھا تھا، چنانچہ سر پر جو ليپ كيا جائے وہ اس كے تابع ہے، يعنى سر كے تابع ہے، يہ اس بات كى دليل ہے كہ سر كى تطہير ميں سہولت ہے.

ديكھيں: الشرح الممتع للشيخ ابن عثيمين ( 1 / 196 ) فتاوى المراۃ المسلمۃ.

تلبيد سے مراد يہ ہے كہ مہندى كى طرح كا كوئى اور مادہ بالوں پر لگايا جائے جس سے بال چپك جائيں.

واللہ اعلم .

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں