جمعہ 6 محرم 1446 - 12 جولائی 2024
اردو

کیا یہ درست ہے کہ قرآن پڑھ کر دم کرنے سے پانی کی ساخت بدل جاتی ہے؟

343360

تاریخ اشاعت : 23-05-2023

مشاہدات : 1044

سوال

ایک شخص کا دعوی ہے کہ پانی بھی چیزوں کو یاد رکھتا ہے اور جب اس پر قرآن اور اذکار کی تلاوت کی جاتی ہے تو اس کی جسمانی ساخت بدل جاتی ہے۔ میں ایک تعلیم یافتہ شخص ہوں اور یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہوں، میرے لیے یہ بات تسلیم کرنا ممکن نہیں ہے۔ مجھے امید ہے کہ آپ پانی کی ترکیب پر قرآن کے اثر کی وضاحت فرمائیں گے۔

جواب کا متن

الحمد للہ.

یہ معلومات جو کچھ لوگوں نے پانی کی ساخت پر قرآن کے اثر کے بارے میں پھیلائی ہیں وہ سب ایک مشرک جاپانی آدمی کی طرف سے آئی ہیں۔ جس نے ہمیں ان کے بارے میں کچھ معلومات فراہم کی ہیں ان کے الفاظ سے جو بات ہم سمجھے ہیں وہ یہ ہے کہ یہ جاپانی شخص متبادل ادویات کا ماہر ہے اور وہ کسی معتبر سائنسی شعبے میں مہارت نہیں رکھتا۔

جب مسلمان اس نوعیت کی خبریں سنے تو اسے چاہیے کہ اس کے بارے میں چھان بین کرے اور اس کی تصدیق کرنے کی کوشش کرے جیسے کہ قرآن کریم نے ہماری رہنمائی کی ہے فرمانِ باری تعالی ہے:

يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا 
ترجمہ: اے ایمان والو اگر تمہارے پاس کوئی فاسق خبر لے کر آئے تو تحقیق کر لیا کرو ۔ [الحجرات: 6]

ہمیں ایسے کوئی شواہد نہیں ملے کہ جس سے یہ ظاہر ہو کہ اس جاپانی شخص نے قرآن مجید کی تلاوت کے پانی کی ساخت پر اثر کے بارے میں جو کچھ کہا تھا اسے پھیلانے والے معزز لوگوں نے اس معاملے کی تحقیق کی ہو اور مناسب سائنسی طریقوں سے اس کی تصدیق کرنے کی کوشش کی ہو۔

ہونا تو یہ چاہیے کہ ایسی معلومات کے بارے میں بات کرنے سے گریز کیا جائے جو کسی معتمد سائنسی ادارے سے تصدیق شدہ نہ ہو اور اس ادارے کی گواہی اسلامی تعلیمات کے مطابق قابل بھی قبول ہو، کیونکہ ایسی معلومات کو بغیر تصدیق کیے پھیلانا الٹا نقصان دہ ہو سکتا ہے کہ لوگوں کے ہاں مذہب اور مذہبی لوگوں کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا ہو جائیں گے۔

امام مسلم رحمہ اللہ نے صحیح مسلم کے مقدمہ (1/11) میں عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے روایت کی ہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: تم لوگوں کو کبھی ایسی بات نہیں بتاؤ گے جو ان کی سمجھ سے بالا تر ہو۔ بصورتِ دیگر ایسی باتیں کچھ کے لیے الجھن کا سبب بن جائیں گی۔

مسلمان کے لیے وحی پر اس کا ایمان ہی اسے یقین دلانے کے لیے کافی ہے کہ زمزم کے پانی کی برکت اور دم کی برکت کے بارے میں جو کچھ اسلامی تعلیمات میں بیان ہوا ہے اس پر ایمان رکھے۔ اس لیے ہمیں کسی ایسی چیز کے بارے میں دھیان دینے کی ضرورت نہیں ہے جس کا ہمیں علم نہیں ہے کہ پانی اور دم کے جسم پر ہونے والے اثرات کی کیفیت کیا ہے۔

فرمانِ باری تعالی ہے:
قُلْ مَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ 
ترجمہ: کہہ دیجئے کہ میں تم سے قرآن کا کوئی معاوضہ نہیں مانگتا اور نہ ہی میں تکلف میں پڑنے والوں میں سے ہوں۔ [ص: 86]

مسروق کہتے ہیں کہ ہم عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے گئے تو انہوں نے کہا:" لوگو! جسے کسی چیز کا علم ہو تو وہ اس کے بارے میں بتائے اور جو نہیں جانتا وہ کہے کہ: اللہ بہتر جانتا ہے۔ کیونکہ یہ کہنا بھی علم کا حصہ ہے کہ اگر کوئی کچھ نہ جانتا ہو تو کہے کہ: اللہ بہتر جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا: قُلْ مَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ ترجمہ: کہہ دیجئے کہ میں تم سے قرآن کا کوئی معاوضہ نہیں مانگتا اور نہ ہی میں تکلف میں پڑنے والوں میں سے ہوں۔ [ص: 86] ۔ اس حدیث کو امام بخاری: (4809) اور مسلم : (2798) نے روایت کیا ہے۔

طبری رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"فرمانِ باری تعالی: وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ یعنی: میں تکلف کر کے خود سے قرآن بنانے اور گھڑنے والا نہیں ہوں کہ تمہیں یہ کہنے کا موقع ملے کہ: إِنْ هَذَا إِلا إِفْكٌ افْتَرَاهُ یہ تو یقیناً ایک جھوٹ ہے جو اس کا خود ساختہ ہے ۔ [الفرقان:4] یا پھر إِنْ هَذَا إِلا اخْتِلاقٌ یہ تو یقیناً گھڑا ہوا ہے۔[ص:7]

جیسے کہ مجھے یونس نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ مجھے ابن وہب نے ، وہ کہتے ہیں کہ مجھے ابن زید نے قُلْ مَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ کے متعلق فرمایا: میں تم سے قرآن کے عوض کسی اجرت کا مطالبہ نہیں کرتا، نہ ہی میں تکلف میں پڑ کر اسے خود سے بنانے اور گھڑنے والا ہوں؛ جس کا اللہ تعالی نے مجھے حکم ہی نہیں دیا" ختم شد
"تفسیر طبری" (20 / 150)

ابن رجب رحمہ اللہ کہتے ہیں:
جن چیزوں کے متعلق بال کی کھال اتارتے ہوئے بحث و تحقیق سے روکا گیا ہے ان میں ایسے غیبی امور بھی شامل ہیں جن کا تعلق خبروں سے ہے جن پر ہمیں ایمان لانے کا حکم دیا گیا ہے، لیکن ان کی کیفیت بیان نہیں کی گئیں، بعض تو ایسی ہیں جن کا مشاہدہ اس حسی دنیا میں ممکن ہی نہیں، ایسی صورت میں ان کی کیفیت کے متعلق تلاش کرنا لا یعنی کوشش ہو گی، اور ایسی ہی چیزوں سے منع بھی کیا گیا ہے، بسا اوقات ممکن ہے کہ ایسی کوشش سے حیرت و شک مزید بڑھ جائیں اور انسان تکذیب تک پہنچ جائے۔۔۔
اسی لیے اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں: خالق کی اصل ماہیت کے متعلق غور و فکر کرنا جائز نہیں ہے، البتہ لوگ مخلوقات کے بارے میں جو سنیں اس کے متعلق سوچ و بچار کر سکتے ہیں تاہم ان کے بارے میں بھی اس سے بڑھ اقدام نہ کریں؛ کیونکہ اگر کوئی مزید آگے بڑھنے کی کوشش کرتا ہے تو راہ سے ہٹ جاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ: فرمانِ باری تعالی :  وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ  یقیناً ہر چیز ہی اس کی حمد کے ساتھ تسبیح بیان کرتی ہے۔ [الاسراء:44] تو اب یہ کہنا جائز نہیں ہے کہ: تھال، برتن، روٹی اور کپڑے اللہ کی تسبیح کیسے کرتے ہیں؟ ہمیں یقین ہے کہ یہ سب چیزیں اللہ تعالی کی تسبیح کرتی ہیں، اور یہ اللہ تعالی کے اختیار میں ہے کہ وہ جس طریقے سے جب چاہے ان کی تسبیح کا طریقہ کار مقرر کرے، انسان ایسے موضوعات پر اپنی معلومات کے دائرے میں رہتے ہوئے ہی گفتگو کر سکتے ہیں۔ چنانچہ لوگوں کو اس مسئلے میں اور اسی طرح کے دیگر مسائل کے بارے میں صرف اتنی ہی بات کرنی چاہیے جتنی اللہ تعالی نے ہمیں بتلائی ہے اس سے آگے ہرگز نہ بڑھیں ۔ لہٰذا اللہ سے ڈرو اور ان مبہم معاملات میں بحث نہ کرو، کیونکہ یہ بحث تمہیں راہ حق سے بھٹکا سکتی ہے" ختم شد
جامع العلوم والحکم :(2/172-173)

واللہ اعلم

ماخذ: الاسلام سوال و جواب