سوموار 15 رمضان 1440 - 20 مئی 2019
اردو

خاوند نے کفار کےملک ساتھ جانے یا نہ جانے کا اختیاردے دیا

3477

تاریخ اشاعت : 08-05-2004

مشاہدات : 4611

سوال

خاوند تعلیم کے لیے کفار کے ملک میں جانا چاہتا ہےاسے یہ اختیار دیا ہے کہ وہ اس کے ساتھ جائے یا مسلم ملک میں رہے ، وہ وہاں صرف دنیاوی نفع کی خاطر جانا چاہتا کہ اس کا مقام زيادہ ہو اورتنخواہ حاصل کرسکے توکیا وہ اس کے ساتھ جائے یہ نہ ؟

جواب کا متن

الحمدللہ

ہم نے یہ سوال فضیلۃ الشيخ محمد بن صالح عثیمین رحمہ اللہ تعالی کے سامنے پیش کیا تو انہوں نے مندرجہ ذيل جواب دیا :

الحمد للہ رب العالمین ، وصلی اللہ وسلم علی نبینا محمد وعلی آلہ وصحبہ اجمعین :

میرے خیال میں آپ اس کے ساتھ ہی جائيں اس لیے کہ ایسا کرنا اس کے لیے فتنہ وفساد سے بچنے کے لیے زيادہ بہتر اورقریب ہے ، اورعورت پر بھی کوئي ضرر نہیں جبکہ وہ مکمل پردہ اوراپنی حشمت کوبرقرار رکھے اورجوکچھ اس پرواجب ہے اس کی ادائيگي کرتی رہے ۔

لیکن خاوند کا اکیلے جانےمیں خدشہ ہے کہ کہيں وہ فتنہ میں نہ پڑ جائے اوراسی طرح وہ بھی خاوند کےبغیر ہوگي جس سے اسے بھی تنگی محسوس ہوگی ۔

واللہ تعالی اعلم ۔ .

ماخذ: الشيخ محمد بن صالح العثيمين

تاثرات بھیجیں