سوموار 14 جمادی ثانیہ 1443 - 17 جنوری 2022
اردو

کسی نے لڑکی کی وراثت اس کی رضا مندی کے بغیر لے لی تو کیا یہ لڑکی خاموشی سے اپنا حصہ اس کے مال سے نکال سکتی ہے؟

سوال

اگر کوئی شخص میرا مال میری رضا مندی کے بغیر لے جائے حالانکہ مجھے اس مال کی ضرورت بھی ہو، اور یہ مال مجھے وراثت میں ملا ہو تو کیا میرے لیے خاموشی سے اس مال کو نکال لینا جائز ہو گا؟ اور اگر واقعی میں لے جانے میں کامیاب ہو جاؤں تو کیا مجھے اس طرح کرنے پر گناہ ہو گا؟

جواب کا خلاصہ

اگر کسی کا مال کسی کے پاس ہو، اور کسی بھی شرعی طریقے سے اپنا مال واپس نہ لے سکتا ہو یعنی باہمی رضا مندی، یا کسی ثالثی کے ذریعے یا کیس دائر کر کے تو اگر ایسے شخص کے ہاتھ دوسرے کا مال لگ جائے اور وہ اس میں سے اپنا حقیقی حصہ نکال سکتا ہے فقہائے کرام کے دو اقوال میں سے راجح قول یہی ہے۔ فقہائے کرام کے ہاں اس مسئلے کو "مسألة الظفر بالحق" کا نام دیا جاتا ہے، لیکن اس طرح کرنے کی کچھ شرائط ہیں جو کہ تفصیلی جواب میں بیان کر دی گئی ہیں، چنانچہ اگر یہ شرائط موجود ہوں تو آپ کے لیے جائز ہے کہ آپ اپنے حقیقی حصے کے برابر اس میں سے لے سکتی ہیں۔

الحمد للہ.

"مسألة الظفر بالحق" کا مفہوم

 اگر کسی کا مال کسی کے پاس ہو، اور وہ کسی بھی شرعی طریقے سے اپنا مال واپس نہ لے سکتا ہو یعنی باہمی رضا مندی، یا کسی ثالثی کے ذریعے یا کیس دائر کر کے تو اگر ایسے شخص کے ہاتھ دوسرے کا مال لگ جائے اور وہ اس میں سے اپنا حقیقی حصہ نکال سکتا ہے فقہائے کرام کے دو اقوال میں سے راجح قول یہی ہے۔ فقہائے کرام کے ہاں اس مسئلے کو "مسألة الظفر بالحق" کا نام دیا جاتا ہے۔

عراقی رحمہ اللہ "طرح التثريب" (8/ 226)میں سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی حدیث: سیدنا عقبہ بن عامر کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے عرض کیا کہ آپ ہمیں کسی مہم جوئی پر بھیجتے ہیں اور ہم کسی قوم کے مہمان بنتے ہیں جو کہ ہماری ضیافت نہیں کرتے تو آپ اس بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ہمیں فرمایا: (جب تم کسی قوم کے مہمان بنو اور وہ تمہاری کما حقہ ضیافت کا حکم دیں تو تم اسے قبول کر لو، اور اگر وہ ایسا نہ کریں تو پھر ان سے مہمان نوازی کا اتنا حق وصول کرو جتنا بنتا ہے۔) بخاری: (2461)

اس حدیث کے بارے میں علامہ عراقی ؒ لکھتے ہیں:
"اس حدیث سے امام بخاری رحمہ اللہ نے "مسألة الظفر" کے لیے دلیل لی ہے کہ اگر کسی انسان کا کسی کے پاس کوئی حق دبا ہوا ہے، اور وہ دینے کے لیے تیار نہیں یا سرے سے انکار ہی کر رہا ہے، تو اس مظلوم انسان کے لیے جائز ہے کہ وہ ہاتھ لگنے والا اس کا مال اپنے دبے ہوئے مال کے بدلے میں لے سکتا ہے، چنانچہ اس پر باب اس عنوان کے ساتھ قائم کیا: "مظلوم شخص اگر ظالم کا مال پا لے تو مظلوم اس میں سے بدلہ لے لے" ساتھ میں ابن سیرین سے حکایت کیا ہے کہ وہ بھی کہتے ہیں: مظلوم بدلہ لے لے۔ انہوں نے ساتھ میں یہ آیت بھی پڑھی:  وَإِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوْا بِمِثْلِ مَا عُوْقِبْتُمْ بِهِ   ترجمہ: اور اگر تم بدلہ لینا چاہو تو اسی کی مثل بدلہ لو جتنی تمہیں تکلیف دی گئی ہے۔[النحل: 126] "

اسی کے امام شافعی قائل ہیں، لہذا انہوں نے صراحت اور واضح لفظوں میں کہا ہے کہ اگر قاضی کے ذریعے اپنے حق کو وصول نہیں کر سکتا، بایں طور کہ وہ سرے سے حق تسلیم ہی نہ کرے اور حقدار کے پاس اس کی کوئی دلیل نہ ہو، تو امام شافعی کہتے ہیں: جب ظالم کی وہی جنس ہاتھ لگ رہی ہو جس جنس میں اس کا حق تھا تو پھر وہی لے گا کوئی اور نہیں لے سکتا، اور اگر اسے ملتی ہی کوئی اور جنس ہے تو پھر اسی میں سے لے لے۔

اور اگر قاضی کے ذریعے حق حاصل کرنا ممکن ہو بایں طور کہ وہ حق مانتا تو ہو لیکن ٹال مٹول کر رہا ہے، یا وہ خود تو سرے سے انکار کر رہا ہو لیکن اس کے خلاف دلیل موجود ہو ، یا جب اسے قاضی کے سامنے قسم کے ساتھ پیش کیا جائے تو امید ہو کہ وہ مان جائے گا تو ایسی صورت میں خود ہی وصولی کر لے یا لازمی طور پر قاضی کے سامنے پیش کرے؟ شافعی فقہائے کرام کے ہاں دو موقف ہیں، ان میں سے اکثر فقہائے کرام کے ہاں صحیح ترین موقف یہ ہے کہ وہ خود ہی براہ راست لے سکتا ہے۔

ابن بطال کہتے ہیں کہ: امام مالک کے اس میں مختلف اقوال ہیں چنانچہ ابن القاسم نے یہ موقف روایت کیا ہے کہ وہ ایسا نہ کرے، نیز ان سے یہ بھی منقول ہے کہ اگر اس میں مال مطلوبہ مقدار سے زیادہ نہ ہو تو لے لے۔ جبکہ ابن وہب نے امام مالک سے یہ نقل کیا ہے کہ اگر انکار کرنے والے پر کسی کا قرض نہیں ہے تو پھر بلا جھجک لے سکتا ہے، لیکن اگر اس پر دیگر لوگوں کا قرض بھی ہے تو پھر اتنا ہی حصہ لے سکتا ہے جتنا دیگر قرض خواہوں کا حصہ بنتا ہے۔

جبکہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کہتے ہیں : سونے کے بدلے سونا لے لے، چاندی کے بدلے چاندی لے، اور ماپی جانے والی چیز کے بدلے میں قابل ماپ چیز لے، اور وزن کی جانے والی چیز کے بدلے قابل وزن چیز لے۔ اس کے علاوہ کسی چیز کا آپس میں تبادلہ نہ کرے۔ جبکہ امام زفر کہتے ہیں : قیمت لگا کر کوئی اور چیز بھی بدلے میں لے سکتا ہے۔

ابن بطال رحمہ اللہ کہتے ہیں: صحیح ترین موقف اس شخص کا ہے جو آیت اور [ابو سفیان رضی اللہ عنہ کی اہلیہ] ہند رضی اللہ عنہا کی حدیث کو سامنے رکھتے ہوئے لینے کی اجازت دیتا ہے، کیا آپ اس حدیث میں دیکھتے نہیں ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے انہیں اپنے خاوند کے بچوں کو کھلانے کے لیے خاوند کے مال میں سے عرف کے مطابق لینے کی اجازت دی؛ جو کہ ابو سفیان رضی اللہ عنہ کے اپنے بچوں کے بارے میں کوتاہی کے بدلے میں تھی۔ لہذا اس کے تحت ہر وہ شخص آ جائے گا جس پر کوئی حق واجب ہو اور وہ اسے ادا نہ کرے، یا حق کا منکر ہی ہو جائے، تو ایسی صورت میں اس سے عوض لیا جا سکتا ہے۔" ختم شد

"مسألة الظفر بالحق" کے بارے میں ضوابط

پہلے سوال نمبر: (171676) کے جواب میں گزر چکا ہے کہ "مسألة الظفر" کی تین قیود ہیں، یہ تینوں قیود مقاصدِ شریعت اور قواعدِ شریعت سے ماخوذ ہیں، چنانچہ اہل علم اس کے متعلق کہتے ہیں:
1- اپنے حق سے زیادہ نہ لے۔

2- لینے والا شخص رسوائی اور سزا سے بچ سکتا ہو۔

3- عدالت کے ذریعے انسان اپنا حق لینے سے قاصر ہو، چاہے عدم دلیل کی وجہ سے، یا حصول انصاف کا طریقہ اچھا نہ ہو کہ اس میں مشقت بھی ہو اور تاخیر بھی ہو۔

چنانچہ اگر ان تینوں شرائط میں سے کوئی ایک شرط بھی نہ پائی جائے تو اس کے لیے "مسألة الظفر بالحق" پر عمل کرنا جائز نہیں ہو گا۔

اور اگر یہ تینوں شرائط پائی جائیں تو پھر آپ کے لیے اپنے حق کے برابر اس شخص کے مال میں سے لینا جائز ہو گا جس نے آپ کا مال آپ کی رضا مندی کے بغیر لیا ہے۔

واللہ اعلم

ماخذ: الاسلام سوال و جواب