بدھ 18 جمادی اولی 1440 - 23 جنوری 2019
اردو

زنا نے اس کی نیند حرام کردی اوربیٹے کا غم کھاۓ جارہا ہے

3625

تاریخ اشاعت : 24-07-2003

مشاہدات : 5074

سوال

میں ایک مجبور لڑکی تھی حتی کہ میں نے اپنے خاوند سے ملاقات کی توالحمد للہ اس نے مجھے اسلام کی دعوت دی ، مجھ سے زنا کا ارتکاب ہوچکا ہے مجھے اس جیسی برائي کی امید نہیں تھی اورنہ ہی کبھی میرے وہم و گمان میں آیا تھا ۔
اس کی وجہ سے میں اب راتوں کو سوبھی نہیں سکتی ( رات کا کچھ حصہ تودعا میں گزرتا ہے ) مجھے محسوس ہوتا ہے کہ اللہ تعالی میرے گناہوں کی کثرت کی وجہ سے مجھے معاف نہیں کر ےگا ۔
مجھے اپنے خاوند سے حمل ہے لیکن ابھی تک ہم منگنی کے عرصہ میں ہی گزر رہے ہیں اورنکاح نہیں ہوا اس وقت بچے کی عمر سات برس ہے جو کہ ولد زنا ہے تو کیا اللہ تعالی مطلقا مجھے معاف فرماۓ گا ؟

جواب کا متن

الحمد للہ
اول :

جوبھی اللہ تعالی کی طرف رجوع کرتا ہوا اپنے گناہوں سے سچی توبہ کرے اللہ تعالی اس کی توبہ قبول فرماتا ہے ۔

دوم :

جب حمل اوربچے کی پیدائش شرعی نکاح سے پہلے ہی ہوجاۓ تو بچے کی نسبت زنا کرنے والی والدہ کی طرف ہوتی ہے نا کہ زانی کی طرف ، لیکن یہ بات یاد رکھیں کہ اس بچے کے بھی شرعی حقوق جس کا ادا کرنا ضروری ہے اوراس کی تربیت بھی احسن انداز میں کرنی چاہیے ۔

سوم :

آپ اللہ تعالی کی رحمت سے ناامید نہ ہوں اوریہ بھی نہ کہيں کہ اللہ تعالی مجھے معاف نہیں فرماۓ گا ، اس لیے کہ اللہ تعالی کی رحمت سے توصرف کافر ہی ناامید ہوتے ہیں ، اوراللہ تعالی کی رحمت سے ظالموں کے علاوہ کوئی اورناامید نہیں ہوتا ، جب آپ نے اس فعل سے توبہ کرلی ہے تواب آپ اللہ تعالی کی مغفرت اوراوررحمت کی امید رکھیں ۔

چہارم :

آپ زنا جیسے جرم سے توبہ کے بارہ میں اللہ تعالی کے حکم سے تفصیلی جواب کتاب " ارید ان اتوب ولکن ۔۔۔ " میں توبہ توکرنا چاہتا ہوں لیکن ۔۔۔ کے عنوان سے اسی ویب سائٹ کی قسم کتب میں پڑھ سکتی ہیں ۔

پنجم :

جوکچھ ہوچکا ہے اس کا علاج توبہ کے ساتھ ہی کیا جاۓ ، اب آپ پر ضروری ہے کہ آپ کثرت سے اچھائي اورنیکی و بھلائی کے کام کریں اس لیے کہ نیکیاں برائيوں کوختم کرڈالتی اوردرجات کوبلند کرتی ہيں ۔

ہم اللہ تعالی سے دعاگو ہیں کہ وہ آپ کے گناہ معاف فرماۓ اور آپ کودین پر ثابت قدمی سے نوازے ، ہم مستقبل میں آپ سے اللہ تعالی کی اطاعت و فرمانبرداری کی امید رکھتے ہیں ۔

اللہ تعالی ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی رحمتیں برساۓ آمین یا رب العالمین ۔

واللہ اعلم .

ماخذ: الشیخ محمد صالح المنجد

تاثرات بھیجیں