بدھ 14 صفر 1440 - 24 اکتوبر 2018
اردو

ايسے پروگرام ميں كام كرنا جس سے كفار كو عسكرى فائدہ پہنچے

3659

تاریخ اشاعت : 11-06-2006

مشاہدات : 3120

سوال

آپ كى جانب سے ديے گئے بہت سے جوابات كا مطالعہ كرنے كے بعد الحمد للہ ميں ان معقدہ مسائل ميں آپ كى آراء سے مطمئن ہوا ہوں جن سے اس وقت امت دوچار ہے، اللہ تعالى سے دعا ہے كہ وہ آپ پر اپنى رحمت برسائے، جيسا كہ آپ اپنے علم سے مسلمانوں كى مدد كر رہے ہيں. آمين
ميرا سوال يہ ہے كہ:
كيا دنياوى علوم سيكھنے كے ليے مسلمان شخص كا كفار ممالك جانا جائز ہے؟
اور كيا ہمارے ليے ايسے پروگرام بنانے جائز ہيں جو كفار كى عسكرى ضروريات ميں ممد و معاون ثابت ہوں، كيونكہ وہ ہمارے ساتھ حالت امن ميں ہيں؟
اور كيا اس كام كے ذريعہ حاصل كردہ مال حرام ہے يا حلال؟
ميرى گزارش ہے كہ برائے مہربانى ميرے سوال كا جواب ضرور ديں، ميں طالب علم ہوں اور خيالات بكھرے ہوئے ہيں كہ آيا ميں صحيح كر رہا ہوں يا غلط؟
اس كے متعلق ميں نے اپنے كچھ دوست واحباب سے بات كى تو انہوں نے اسے حلال كہا، كيونكہ ہمارے ليے يہ اہم نہيں كہ وہ ہمارے تيار كردہ پروگرام كو كس چيز ميں استعمال كريں گے، ہم تو صرف كام كرتے اور اس كى مزدورى حاصل كرتے ہيں، اس ميں ہم كسى اسلامى ملك كے بارہ ميں نہيں سوچتے ؟

جواب کا متن

الحمد للہ :

اگر تو يہ دنياوى علوم مسلمانوں كو فائدہ مند ہيں، اور ان كى تعليم مسلمان ممالك ميں ميسر اور مہيا نہيں، تو پھر ايك شرط كے ساتھ ديار كفار ميں جا كر اسے حاصل كرنے ميں كوئى حرج نہيں:

يہ كہ: تعليم حاصل كرنے والا متدين يعنى دين پر عمل پيرا ہو، اور دينى تعليم يافتہ ہو، تا كہ شہوات اور شبھات سے بچ سكے.

اور ہمارے ليے كسى ايسے پروگرام ميں كفار كى مدد و معاونت كرنى جائز نہيں جس سے مسلمانوں كو ضرر اور اذيت پہنچے، اور كافروں كو مزيد تسلط حاصل ہو.

فرمان بارى تعالى ہے:

اور تم نيكى و بھلائى كے كاموں ميں ايك دوسرے كا تعاون كرتے رہو، اور برائى وگناہ اور معصيت ونافرمانى اور ظلم و زياتى ميں ايك دوسرے كا تعاون مت كرو.

چاہے يہ ضرر اور نقصان مستقبل ميں ہونے كا انديشہ ہو، جيسا كہ امن و سلامتى كے وقت حالت ہے، يا پھر حربى اور جنگ كرنے والے كفار سے جلد نقصان اور ضرر حاصل ہو.

آپ يہ ياد ركھيں كہ رزق حلال حاصل كرنے كے دروازے بہت زيادہ اور كئى ايك ہيں، اور پھر حديث ميں بھى ہے:

" جو كوئى شخص كسى چيز كو اللہ تعالى كے ليے ترك كرتا ہے، تو اللہ تعالى اسے اس بھى بہتر اور اچھى چيز عطا فرماتا ہے"

واللہ اعلم .

ماخذ: الشیخ عبداللہ بن جبرین

تاثرات بھیجیں