منگل 10 ربیع الاول 1442 - 27 اکتوبر 2020
اردو

ميڈيسن كمپنى كى طرف سے ڈاكٹر كو ہديہ دينے كا حكم

36757

تاریخ اشاعت : 02-06-2007

مشاہدات : 3034

سوال

ميڈيسن كمپنيوں كى جانب سے كمپيٹشين كو مدنظر ركھتے ہوئے كمپنى كا سيلز مين آكر ڈاكٹر حضرات كو مختلف قسم كے ہديہ جات ديتا ہے مثلا بال پوائنٹ يا گھڑى، يا ٹيپ ريكارڈ جس پر كمپنى كا نام اور ٹريڈ مارك لگا ہوتا ہے..... الخ
يہ ہديہ اس ليے ہے كہ ڈاكٹر مريض كے ليے اس كمپنى كى دوائى تجويز كر كے دے، يہ علم ميں رہے كہ كمپنى كى ايك شق ميں كمپنى كى مشہورى اور اعلان بھى شامل ہے، اور بعض اوقات كمپنى ڈاكٹر كو اس وقت ہديہ ديتى ہے جب وہ ايك معين تعداد مريضوں كو دوائى تجويز كر كے دے، اور بعض اوقات بغير تعداد متعين كيے ہى ڈاكٹر كو ہديہ ديتى ہے، اور بعض اوقات دوائى تو ايك ہى ہوتى ہے جس كى تاثير بھى ايك ہى ہے، ليكن كمپنياں اسے مختلف تجارتى نام سے ماركيٹ ميں لاتى ہيں، تو اس طرح كمپنى كے نمائندہ كى دوائى لكھ كر ديتا اور نمائندہ كچھ روز بعد آكر ڈاكٹر كو ہديہ اور تحفہ ديتا ہے.
تو كيا اس صورت ميں كمپنى كى مشہورى اور اعلان حلال ہے يا حرام، اور ڈاكٹر كو ديے گئے ہديہ كا حكم كيا ہے ؟

جواب کا متن

الحمد للہ.

ڈاكٹر كے ليے ميڈيسن كمپنيوں كى جانب سے تحفہ قبول كرنا جائز نہيں، كيونكہ يہ رشوت اور حرام شمار ہوگا، چاہے اسے كوئى اسے ہديہ يا كوئى اور نام ہى كيوں نہ ديا جائے، كيونكہ نام كسى چيز كى حقيقت كو تبديل نہيں كرتے، اور اس ليے بھى كہ يہ ہديہ اسے دوسرى كمپنيوں كے ساتھ ظلم پر ابھارے گا، اور اس طرح دوسرى كمپنيوں كو نقصان ہوگا.

ماخذ: ماخوذ از: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 23 / 570 )