جمعرات 5 ربیع الثانی 1440 - 13 دسمبر 2018
اردو

علاجی بتی کے استعمال سے روزہ فاسد نہيں ہوتا

سوال

میں رمضان میں دن کے وقت تھکاوٹ اورسردرد محسوس کرتا ہوں بعض لوگوں نے مجھے علاج کے لیے بتیاں ( جودبرکےراستے استعمال کی جاتی ہیں )استعمال کرنے کا کہا تا کہ سردرد کی حدت میں کمی پیدا ہوسکے ، توکیا یہ علاج روزہ توڑ فاسد کردیتا ہے ، مجھے مستفید کریں اللہ تعالی آپ کو استفادہ سے نوازے گا ؟

جواب کا متن

الحمدللہ

دن میں روزے کی حالت میں علاج کی بتیاں استعمال کرنے سے روزہ نہيں ٹوٹتا ، اوراسی طرح اگر روزہ دار کوانیما کی ضرورت پیش آئے تو اس کی وجہ سے بھی اس کا روزہ خراب نہيں ہوگا ، کیونکہ اس کی دلیل نہیں ملتی کہ انیما کرنا روزہ توڑنے والی اشیاء میں شامل ہے ۔

کیونکہ نہ تویہ کھانے میں اور نہ ہی پینے میں شامل ہوتا ہے اورنہ ہی کھانے پینے کے معنی میں ہے ۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالی نے الاختیارات میں کہا ہے :

سرمہ ڈالنے اورانیما کرنے سے روزہ نہيں ٹوٹتا ۔۔۔ بعض اہل علم کہ یہی کہنا ہے ۔ ا ھـ

دیکھیں : الاختیارات ( 6 / 381 ) ۔

اورشیخ ابن ‏عثیمین رحمہ اللہ تعالی الشرح الممتع میں کہتے ہيں :

اس مسئلہ میں راجح قول شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالی ہی کا قول ہے : یعنی انیما سے روزہ نہيں ٹوٹتا ۔

دیکھیں : الشرح الممتع ( 6 / 381 ) ۔

واللہ اعلم .

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں