سوموار 25 ذو الحجہ 1440 - 26 اگست 2019
اردو

جانور تول كرفروخت كرنا

39507

تاریخ اشاعت : 02-07-2008

مشاہدات : 3542

سوال

كيا وہ جانور جس كا گوشت كھايا جاتا ہے وزن كركے فروخت كرنا جائز ہے، كيونكہ ہمارے يہ طريقہ عام ہے؟

جواب کا متن

الحمد للہ :

جي ہاں زندہ جانور كا وزن كركےفروخت كرنا جائزہے.

مستقل فتوي كميٹي سے مندرجہ ذيل سوال كيا گيا:

كيا زندہ يا مذبوح بكري اور مرغي وزن كركے فروخت كرنا جائز ہے ؟

كميٹي كا جواب تھا:

مسلمانوں كےمابين معاملات ميں تو اصل حلت ہي ہے ليكن وہ چيز جسے شريعت مطہرہ نے نصاحرام كرديا ہے، اس سےہميں يہ علم ہوا كہ مرغي اور بكري تول كرفروخت كرني جائز ہے، ہميں شريعت ميں ايسے كسي مانع كا علم نہيں جواس سےمنع كرتا ہو. اھ

ديكھيں فتاوي اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 13 / 290 ) .

اور ايك مستقل كميٹي كےايك دوسرے فتوي ميں ہےكہ:

بكري يا دوسرے جانور زندہ اور تول كرفروخت كرنے جائز ہيں، چاہے وزن كيلوگرام ميں يا كسي اور ميں اس ليے كہ مقصد فروخت كي جانےوالي چيز كا علم ہے جو كہ وزن سے حاصل ہوجاتا ہے. اھ

ديكھيں: فتاوي اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 13 / 290 )

اور فتاوي ميں يہ بھي ہےكہ:

وزن كےساتھ حيوان كي فروخت جائز ہے، اوراجماع كےمطابق اسے بغير تولے صرف ديكھ كر ہي فروخت كرنا جائز ہے، اور اس كےپيٹ ميں جوانتڑياں وغيرہ ہيں اس كي فروخت كےجواز پر اثر انداز نہيں ہونگي كيونكہ وہ اس كے تابع ہيں لھذا اس ميں جوكچھ ہےوہ تول كرفروخت كرنا جائز ہوا. اھ

ديكھيں: فتاوي اللجنۃ الدائمۃ ( 13 / 289 ) .

واللہ اعلم .

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں