جمعرات 24 شوال 1440 - 27 جون 2019
اردو

گمشدہ چيز کا اعلان مکمل ایک برس تک کیا جاۓ گا

4046

تاریخ اشاعت : 27-07-2003

مشاہدات : 3362

سوال

مجھے گمشدہ سونا ملا جسے میں نے بيچ کر اس کی قیمت صدقہ کردی میری نیت ہے کہ اگر اس کا مالک آیا اوروہ صدقہ کرنے پر راضي نہ ہوا تومیں اسے قیمت ادا کردونگا ، اس لیے کہ مجھے وہ ایک بڑے شہر کے وسط سے ملا تھا ، توکیا مجھ پر کوئی گناہ تونہیں ؟

جواب کا متن

الحمد للہ
آپ اوردوسروں پر یہ ضروری ہے کہ جب بھی کوئي گمشدہ اہم چيز ملے اس کا ایک برس تک لوگوں کے جمع ہونے والی جگہوں پر مہینہ میں دویا تین بار اعلان کرے ، اگر اس کا مالک آجاۓ تواسے واپس کردیا جاۓ ، اوراگر نہ آۓ توایک برس گزرنے کے بعد وہ اس کی ملیکیت ہو گا ، اس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کا حکم دیا ہے ۔

لیکن اگر وہ حرمین یعنی مکہ اورمدینہ میں حرم کی حدود میں سے ملے تووہ اس کی ملکیت نہیں بن سکتا بلکہ اسے ہروقت اس کا اعلان کرنا چاہيۓ تا کہ اس کا مالک اسے حاصل کرلے یاپھر وہ حرمین کے گمشدہ اشیاء کے ادارہ کے سپرد کردے تا کہ وہ اس کے مالک کے لیے اسے محفوظ کرلیں ۔

اس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ کے بارہ میں فرمایا :

( اس کی گمشدہ اشیاء کسی کے لیے حلال نہیں صرف اس کے لیے جواس کا اعلان کرے ) ۔

اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ بھی فرمان ہے :

( میں نے بھی مدینہ کوحرام کیا جس طرح ابراھیم علیہ السلام نے مکہ کوحرام کیا تھا ) اس حدیث کی صحت پر اتفاق ہے ۔

لیکن اگر گمشدہ چيز حقیر ہواورمالک اس کا اہتمام نہ کرے مثلا رسی ، اورجوتے کا تسمہ ، اورتھوڑی سی رقم ، تواس کی تعریف اوراعلان واجب نہیں ، اسے اٹھانے والے کے لیےجائز ہے کہ وہ اس سے نفع حاصل کرے یا پھر مالک کی جانب سے صدقہ کردے ۔

گمشدہ اونٹ اوراس طرح کے دوسرے جانور جوچھوٹے درندوں مثلا بھيڑیے وغیرہ سے محفوظ رہ سکتے ہوں اس سے مستثنی ہیں ، انہیں پکڑنا جائز نہيں کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ کے متعلق سوال کے جواب میں فرمایا تھا :

( اسے رہنے دو ، کیونکہ اس کے ساتھ چلنے کے لیے پاؤ‎ں اورپینے کے لیے پانی ہے وہ پانی پر جاۓ اوردرخت کے پتے کھاتا پھرے حتی کے اپنے مالک کے پاس پہنچ جاۓ ) متفق علیہ ۔

اللہ سبحانہ وتعالی ہی توفیق بخشنے والا ہے ۔ .

ماخذ: الشیخ ابن باز رحمہ اللہ تعالی دیکھیں فتاوی اسلامیۃ ( 3 / 8 )

تاثرات بھیجیں