جمعرات 8 ربیع الثانی 1441 - 5 دسمبر 2019
اردو

كيا خاوند فوت ہونے كى عدت ميں ہى حج كے ليے جا سكتى ہے ؟

سوال

ايك عورت كا خاوند فوت ہو گيا، اور حج كى قرعہ اندازى ميں اس كا نام نكل آيا ہے، ليكن اس كى عدت ابھى ختم نہيں ہوئى، كيا وہ عورت حج كے ليے جا سكتى ہے ؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

آئمہ كرام كا اتفاق ہے كہ خاوند فوت ہونے كے بعد دوران عدت ( يعنى عدت كے ايام ميں ) عورت كے ليے حج كا سفر كرنا جائز نہيں.

شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ تعالى سے درج ذيل سوال كيا گيا:

خاوند اور بيوى دونوں نے حج كرنے كا عزم كيا، ليكن ايام حج سے قبل شعبان ميں خاوند فوت ہو گيا، تو كيا بيوى حج كر سكتى ہے ؟

شيخ الاسلام رحمہ اللہ كا جواب تھا:

" آئمہ اربعہ كا مذہب ہے كہ خاوند كى وفات كى عدت ميں عورت حج كا سفر نہيں كر سكتى " انتہى.

ديكھيں: مجموع الفتاوى ( 34 / 29 ).

اور شيخ محمد بن ابراہيم رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" دوران عدت عور كے ليے حج كا سفر كرنا جائز نہيں، جيسا كہ آئمہ اربعہ كا مسلك ہے، اور آپ كا يہ ذكر كرنا كہ آپ كو حج كى اجازت اسى وقت مل سكتى ہے، يہ كوئى ايسا سبب نہيں جس كى بنا پر عورت كے ليے خاوند كے فوت ہونے كى عدت كے دوران سفر كرنا جائز ہوتا ہو " انتہى.

ديكھيں: فتاوى المراۃ المسلۃ ( 2 / 899 - 900 ).

واللہ اعلم .

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں