جمعہ 6 ربیع الثانی 1440 - 14 دسمبر 2018
اردو

كيا حج كى ادائيگى ميں كوتاہى كرنے والے فوت شدہ شخص كى جانب سے حج كيا جا سكتا ہے ؟

سوال

اگر كوئى چاليس برس كى عمر ميں فوت ہو جائے اور اس نے استطاعت ا ور طاقت ركھنے كے باوجود حج نہ كيا ہو باوجود اس كے كہ وہ نماز كا پابند تھا اور ہر برس يہى كہتا كہ ميں اس برس حج كرونگا، ليكن بغير حج كيے ہى فوت ہو گيا تو كيا اس كے ورثاء اس كى جانب سے حج كريں؟ اور كيا اس پر كوئى گناہ تو نہيں ؟

جواب کا متن

الحمد للہ :

" اس مسئلہ ميں علماء كرام كا اختلاف ہے:

بعض علماء كا كہنا ہے كہ اس كى جانب سے حج كيا جائے اور يہ اس كے ليے فائدہ مند ہو گا، اور اسى طرح ہو گا جس طرح كسى نے اپنى طرف سے حج كيا ہو.

اور بعض علماء كا كہنا ہے كہ: اس كى جانب سے حج نہيں كيا جائيگا اگر اس كى جانب سے ہزار بار بھى حج كيا جائے تو قبول نہيں ہو گا، يعنى وہ اپنے ذمہ سے برى نہيں ہو گا، اور يہى قول حق اور صحيح ہے.

كيونكہ اس نے ايسى عبادت ترك كى ہے جو اس پر بغير كسى عذر كے فورى طور فرض تھى، تو اس نے وہ كيسے ادا نہ كى اور اس كى موت كے بعد اس پر كيسے لازم كريں، اور پھر تركہ تو ورثاء كا حق ہے ہم اس ورثہ ميں سے انہيں اس حج پر رقم خرچ كر كے انہيں اس رقم سے كيسے محروم كر سكتے ہيں جو كہ مالك كے ليے كفائت بھى نہ كرے.

ابن قيم رحمہ اللہ تعالى نے " تھذيب السنن " ميں يہى بيان كيا ہے، اور ميں بھى يہى كہتا ہوں:

اگر كسى شخص نے استطاعت اور قدرت ہونے كے باوجوذ سستى كرتے ہوئے حج كى ادائيگى نہ كى تو اس كى جانب سے كبھى بھى حج كرنا كفائت نہيں كرے گا، اگر لوگ اس كى جانب سے ہزار بار بھى حج كر ليں.

ليكن زكاۃ كے متعلق كچھ علماء كرام كا كہنا ہے كہ:

اگر فوت ہونے كے بعد اس كى جانب سے زكاۃ ادا كى گئى تو وہ ادا ہو جائيگى اور وہ برى الذمہ ہو جائيگا.

ليكن ميں نے جو قاعدہ اور اصول بيان كيا ہے اس كا تقاضا ہے كہ وہ زكاۃ سے برى الذمہ نہيں ہو گا، ليكن ميرى رائے يہ ہے كہ زكاۃ اس كے تركہ سے نكالى جائے، كيونكہ يہ فقراء اور زكاۃ كے مستحقين كے حق سے متعلق ہے، بخلاف حج كے كہ اس كا خرچ تركہ سے نہيں ليا جائيگا، كيونكہ وہ كسى انسان كے حق كے ساتھ متعلق نہيں، اور زكاۃ تو انسان كے حق سے تعلق ركھتى ہے اس ليے زكاۃ اس كے مستحقين كے ليے نكالنا ہو گى، ليكن يہ زكاۃ والے كى جانب كفائت نہيں كرے گى، جو زكاۃ ادا نہيں كرتا اسے عذاب سے دوچار ہونا پڑے گا، اللہ تعالى سے ہم سلامتى و عافيت كى دعاء كرتے ہيں.

اور اسى طرح روزے كا مسئلہ ہے: اگر يہ علم ہو جائے كہ اس شخص نے روزے ترك كيے اور روزہ كى قضاء ميں حقارت سمجھى تو اس كى جانب سے قضاء نہيں كى جائيگى، كيونكہ اس نے حقارت كى بنا پر اس عبادت كو ترك كيا جو كہ اركان اسلام ميں سے ايك ركن تھا، اسے بغير كسى عذر كے ترك كيا اور اسكى بجاآورى نہ كى، تو اگر اس كى جانب سے اس كى قضاء بھى كى جائے تو اسے كوئى نفع نہيں ہو گا.

اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا يہ فرمانا:

" جو شخص فوت ہو جائے اور اس كے ذمہ روزے ہوں تو اس كا ولى اس كى جانب سے روزے ركھے "

يہ اس شخص كے متعلق ہے جو اس ميں كوتاہى نہ كرے، ليكن جو شخص على الاعلانيہ اور بغير كسى شرعى عذر كے قضاء نہيں كرتا تو اس كى طرف سے ہمارا قضاء كرنے كا كيا فائدہ " انتہى .

ماخذ: ديكھيں: فتاوى ابن عثيمين ( 21 / 226 )

تاثرات بھیجیں