سوموار 15 صفر 1441 - 14 اکتوبر 2019
اردو

حج كے مہينوں ميں عمرہ كرنے سے حج فرض نہيں ہو جاتا

سوال

ميں ذوالحجہ كا چاند نظر آنے سے قبل عمرہ كيا تو مجھے ايك شخص كہنے لگا كہ تم پر حج فرض ہو گيا ہے، حالانكہ ميں نے دو برس قبل حج كر ليا تھا، كيا اس كى بات صحيح ہے ؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

اس شخص كى بات صحيح نہيں، كيونكہ عمر ميں صرف ايك بار ہى حج فرض ہوتا ہے، اس كى دليل درج ذيل حديث ہے:

ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہما بيان كرتے ہيں كہ اقرع بن حابس رضى اللہ تعالى عنہ نے نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے دريافت كرتے ہوئے كہا:

اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم كيا ہر سال حج فرض ہے يا كہ ايك بار ؟

تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" بلكہ ايك بار، اور جو زيادہ كرے تو وہ نفلى ہے "

سنن ابو داود حديث نمبر ( 1721 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے اسے صحيح قرار ديا ہے.

اس ليے كہ آپ ايك بار فريضہ حج كى ادائيگى كر چكے ہيں دوبارہ آپ پر حج فرض نہيں ہوتا.

حج كے مہينے ( اشھر الحج ) تين ہيں، شوال، ذوالقعدۃ، اور ذوالحجہ، شائد اس شخص نے يہ سمجھا ہے كہ ان مہينوں كے نام حج كے مہينے ہيں لہذا جو بھى ان مہينوں ميں عمرہ كرےگا اس پر حج فرض ہو جاتا ہے، اس كى يہ سمجھ اور مفہوم غلط ہے، بلكہ حج كے مہينوں كا معنى تو يہ ہے كہ حج كا وقوع ان مہينوں ميں ہونا ضرورى ہے، نہ تو اس سے قبل اور نہ ہى اس كے بعد.

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ سے درج ذيل سوال كيا گيا:

ايك شخص نے حج تمتع كا احرام باندھا اور پھر عمرہ كرنے كے بعد حج كيے بغير ہى اپنے ملك واپس آ گيا تو كيا اس پر كچھ لازم آتا ہے ؟

شيخ رحمہ اللہ كا جواب تھا:

" اس پر كچھ لازم نہيں آتا كيونكہ متمتع شخص جب عمرے كا احرام باندھے اور پھر حج كا احرام باندھنے سے قبل اس كى نيت حج نہ كرنے بن جائے تو اس پر كچھ لازم نہيں آتا، ليكن اگر اس نے اس برس حج كرنے كى نذر مانى ہو تو پھر اسے يہ نذر پورى كرنا واجب ہے " اھـ

ديكھيں: فتاوى ابن عثيمين ( 2 / 679 ).

واللہ اعلم .

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں