اتوار 14 رمضان 1440 - 19 مئی 2019
اردو

بغير كسى وجہ كے مال لينا والا شخص كيسے توبہ كرے

43100

تاریخ اشاعت : 07-05-2005

مشاہدات : 3709

سوال

ايك شخص سركارى دفتر ميں افيسر تھا، اور اس كے پاس غير قانونى طور پر كچھ اشياء آتى تھيں، پھر اللہ تعالى نے اسے صراط مستقيم پر چلنے كى توفيق عطا فرمائى.
لہذا اسے ان اشياء كا كيا كرنا چاہيے جو اس نے كسى اور جگہ پر صرف كرديں ہيں، يہ علم ميں رہے كہ اس كى تعداد كا علم نہيں ؟

جواب کا متن

الحمد للہ :

اس پر واجب ہے كہ وہ ہر شخص يا اس كے ورثاء كو اس كا حق ادا كرے، اگر كسى بھى طريقہ سے وہ شخص نہ مل سكے تو اسے اس مال كو اصل مالك كى طرف سے صدقہ كردينا چاہيے.

اللہ تعالى ہى توفيق بخشنے والا ہے .

ماخذ: ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميہ والافتاء ( 14 / 25 )

تاثرات بھیجیں