جمعہ 16 رجب 1440 - 22 مارچ 2019
اردو

اگر یہودی اور عیسائی اللہ تعالی کی توحید کے قائل ہوں لیکن قرآن کو حاکم نہ مانے

سوال

اگر کوئی یہودی یا عیسائی شخص اللہ تعالی پر ایمان رکھے کہ وہ وحدہ لا شریک ہے اور اللہ تعالی کے مبعوث کردہ رسولوں علیہم السلام پر بھی ایمان رکھے لیکن قرآن کریم کو حاکم نا مانے حالانکہ وہ یہ مانتا ہے کہ یہ اللہ تعالی کی طرف سے نازل کردہ ہے لیکن وہ کہتا ہے کہ اصلی تورات کو بھی حاکم ماننا جائز ہے تو کیا یہ مسلمان شمار کیا جائے گا ؟

جواب کا متن

الحمد للہ :

ہم نے یہ سوال اپنے شیخ الشیخ عبدالرحمن البراک کو بھیجا تو انہوں نے مندرجہ ذیل جواب دیا :

الحمد للہ وبعد :

بیشک ایمان کے اصول میں سے ہے کہ :

اللہ تعالی کی طرف سے نازل کردہ سب کتب اور رسولوں پر ایمان لانا اور ان دو اصول میں یہ بھی شامل ہے کہ اشرف الکتب قرآن کریم پر اور افضل الرسل محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا جو کہ خاتم المرسلین اور سب لوگوں کی طرف مبعوث کۓ گۓ ہیں اور ان کی رسالت تا قیامت ہے ۔

تو ہر قوم کے انسان پر یہ واجب ہے کہ وہ ان کی اتباع اور پیروی کرے اور ان کی شریعت کو حاکم مانے تو جو شخص اس پر اور قرآن پر ایمان کا دعوی تو کرے لیکن اسے حاکم نہ مانے اور نہ ہی ان کی ہر وہ چیز جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم لآئے ہیں اس میں اتباع کا التزام کرے اور ان کی خبروں کی تصدیق نہ کرے نہ تو وہ مسلمان اور نہ ہی مومن ہے ۔

اور اگر وہ اسی حالت پر فوت ہو جائے تو وہ جہنمی ہے اگرچہ وہ یہ دعوی کرے کہ وہ اللہ کو وحدہ لا شریک مانتا اور سب رسولوں پر ایمان لاتا ہو کیونکہ رسولوں اور قرآن پر ایمان صرف تصدیق کا نام نہیں ہے بلکہ اتباع اور اطاعت اور انہیں حاکم ماننا ضروری ہے اس کے بغیر ایمان کا کوئی فائدہ نہیں ۔

ایسے تو بہت سے مشرک بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دل کے ساتھ تصدیق کرتے بلکہ بعض تو زبان اور دل دونوں کے ساتھ تصدیق کرتے تھے:

مثلا آپ کا چچا ابو طالب لیکن جب وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت نہ کرنے پر مصر رہا تو اسے اس تصدیق نے کوئی فائدہ نہیں دیا ۔

تو اسی طرح وہ یہودی اور عیسائی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے جانتے اور پہچانتے تھے جس طرح کہ وہ اپنی اولاد کو پہچانتے تھے اور ان میں سے وہ بھی تھے جو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اظہار بھی کرتے تھے تو جب انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرنے سے انکار کیا تو انہیں یہ تصدیق اور معرفت کوئی کام نہ آئی تو وہ کافر کے کافر ہی رہے اور اللہ تعالی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لۓ ان کا مال و جان حلال کر دیا جس کی بنا پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے جہاد وقتال کیا تو اللہ تعالی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان پر اور ان کے دین کو سب ادیان پر غالب کر دیا ۔

فرمان باری تعالی ہے :

( اللہ وہ ذات ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا تا کہ اسے سب ادیان پر غالب کر دے اگرچہ کافر اسے ناپسند ہی کرتے رہیں ) اھـ

تو ہر یہودی اور عیسائی پر یہ واجب اور ضروری ہے کہ وہ اس دین اسلام میں داخل ہو اور اسے قبول کرے جسے اللہ تعالی نے اپنے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمایا ہے کیونکہ رسالت محمدیہ یہ سب ادیان اور رسالتوں کی خاتم اور باقی سارے ادیان سابقہ کو منسوخ کر دینے والی ہے ۔

اللہ سبحانہ وتعالی کا ارشاد ہے :

( جو کوئی اسلام کے علاوہ کوئی اور دین تلاش کرے گا اس کا وہ دین قابل قبول نہیں )

اور صحیح حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

( اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے اس امت کا کوئی یہودی اور عیسائی جو کہ میرے متعلق سنے اور پھر جو میں دے کر بھیجا گیا ہوں اس پر ایمان لآئے بغیر فوت ہو جائے تو جہنمی ہے ) صحیح مسلم حدیث نمبر 218

تو اس بناء پر کسی یہودی اور عیسائی کا دین صحیح نہیں جب تک کہ وہ شریعت اسلامیہ پر ایمان نہ لآئے اور قرآن کریم کے احکامات کا التزام نہ کرے تو قرآن مجید سابقہ کتب کا محافظ اور ناسخ ہے جب کہ تورات اور انجیل تحریف تبدیل کا شکار ہو چکی ہیں۔

واللہ اعلم .

ماخذ: الشیخ عبدالرحمن البراک

تاثرات بھیجیں