جمعہ 17 ذو القعدہ 1440 - 19 جولائی 2019
اردو

اگر جلدى كرنے والا شخص دوبارہ منى ميں واپس آ جائے تو كيا پھر بھى وہ جلدى كرنے والوں ميں شامل رہے گا ؟

45051

تاریخ اشاعت : 01-01-2009

مشاہدات : 3725

سوال

ہم بارہ تاريخ والے دن جمرات كو كنكرياں مار كر غروب آفتاب سے قبل ہى منى سے نكل گئے اور جلدى جانے كى نيت كر لى، ليكن پھر رات كے وقت دوبارہ كسى كام كے ليے منى واپس چلے گئے، تو كيا ہم جلدى كرنے والوں ميں شمار ہونگے يا كہ ہميں رات وہيں بسر كر كے تيرہ تاريخ كو بھى كنكرياں مارنى ہونگى ؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

جلدى كر لينے كے آپ آپ كى ليے منى ميں رات بسر كرنا اور كنكرياں مارنا لازم نہيں، كيونكہ آپ جلدى كرنے والوں ميں شمار ہونگے.

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالى سے درج ذيل سوال كيا گيا:

اگر حاجى جلدى كى نيت كرتے ہوئے بارہ تاريخ والے دن غروب آفتاب سے قبل منى سے نكل جائے، اور اسے منى ميں كچھ كام ہو اور وہ غروب آفتاب كے بعد منى ميں واپس آ جائے تو كيا وہ جلدى كرنے والا شمار ہو گا ؟

شيخ رحمہ اللہ كا جواب تھا:

" جى ہاں وہ جلدى كرنے والا شمار ہوگا كيونكہ اس نے اپنا حج ختم كر ليا ہے، اور كام كے ليے منى ميں واپس آنے كى نيت اسے جلدى كرنے ميں مانع نہيں؛ كيونكہ اس نے منى ميں واپسى كى نيت كسى كام كى غرض سے كى ہے نہ كہ مناسك حج كى ادائيگى كے ليے "

ديكھيں: الحج والعمرۃ سوال نمبر ( 10 ).

واللہ اعلم .

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں