جمعہ 11 ربیع الثانی 1442 - 27 نومبر 2020
اردو

پرانا سونا دیکر نیا سونا خریدنا اور ساتھ میں اضافی رقم دینا جائز نہیں ہے

49045

تاریخ اشاعت : 16-10-2014

مشاہدات : 3123

سوال

سوال: کیا یہ جائز ہے کہ میں ڈھلائی کرنے والے کو پرانا سونا دیکر نیا سونا خرید لوں، اور قیمت میں آنے والا فرق بھی ادا کروں؟

جواب کا متن

الحمد للہ.

اضافی قیمت کیساتھ غیر معیاری سونے کو معیاری سونے کے ساتھ تبادلے میں لینا جائز نہیں ہے، یہ حرام ہے، اسکی دلیل صحیح بخاری و مسلم وغیرہ میں بلال رضی اللہ عنہ کے قصہ میں ہے کہ : وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عمدہ کوالٹی کی کھجوریں لیکر آئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: (یہ کہاں سے آئی ہیں؟) تو بلال نے جواب دیا: "ہمارے پاس غیر معیاری کھجوریں تھیں، تو میں نے ان کے دو صاع [یہ ایک پیمانہ ہے، مترجم] کے بدلے میں ایک صاع معیاری کھجوروں کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کھانے کیلئے خرید لیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اُفّ ! یہ تو خالص سود ہے، خالص سود ہے، ایسا مت کرو) "

اس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح کردیا کہ جن چیزوں [کی خریداری ]میں برابری ضروری ہے، ان چیزوں کو کچھ صفات میں کمی زیادتی کی وجہ سے برابری کی بجائے کمی بیشی کیساتھ خریدنا خالص سود ہے، اور کسی کو ایسا کرنے کی اجازت نہیں ہے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی عادت مبارکہ کی طرح یہاں بھی ایسی صورت حال میں صحیح انداز سے معاملہ کرنے کی راہنمائی فرمائی اور کہا: غیر معیاری کھجوروں کو درہموں کے بدلے میں فروخت کرو، پھر ان دراہم کے بدلے میں معیاری کھجوریں خرید لو۔

چنانچہ مذکورہ بالا تفصیل کی بنا پر ہم کہیں گے کہ: اگر کسی خاتون کے پاس غیر معیاری سونا ہے، یا اس [ڈیزائن کا] زیور لوگوں نے پہننا چھوڑ دیا ہے تو بازار میں اسے نقدی رقم کے بدلے میں فروخت کرے، اور پھر اس رقم سے سونا خریدے، اس لئے آپکو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بیان کردہ طریقہ اپنا چاہئے۔

فضيلۃ الشيخ ابن عثیمین رحمہ الله .

ماخذ: (فقه وفتاوى البيوع / جمع وترتيب: اشرف عبد المقصود ،صفحہ: 386)