منگل 16 صفر 1441 - 15 اکتوبر 2019
اردو

خاوند نے طلاق كا ليٹر لكھا كہ وہ مہينہ كے آخر ميں بيوى كو ارسال كرے گا

5225

تاریخ اشاعت : 21-02-2011

مشاہدات : 4149

سوال

بيوى نے طلاق پر اصرار كيا تو خاوند كہنے لگا: ايك ماہ تك سوچ لو، ليكن بيوى باز نہ آئى اور گھر سے چلى گئى، جب مہينہ ختم ہونے پر آيا تو خاوند نے طلاق كا ليٹر لكھا كہ مہينہ ختم ہونے كے بعد بيوى كو ارسال كر ديگا، ليكن مہينہ ختم ہونے سے ايك دن قبل بيوى نے رابطہ كيا اور كہنے لگى ميں واپس آنا چاہتى ہوں، تو كيا يہ طلاق ہو جائيگى يا نہيں ؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

ہم نے يہ سوال فضيلۃ الشيخ محمد بن صالح العثيمين حفظہ اللہ كے سامنے پيش كيا تو شيخ نے يہ جواب ديا:

يہ اس كى نيت كے مطابق ہوگا، اگر تو اس كى نيت طلاق واقع كرنے كى تھى تو طلاق واقع ہو گئى، ليكن ظاہر يہى ہوتا ہے كہ وہ طلاق واقع نہيں كرنا چاہتا تھا، حتى كہ مہينہ گزر جائے تو پھر طلاق دےگا، اس بنا پر طلاق واقع نہيں ہو گى " انتہى .

ماخذ: الشيخ محمد بن صالح العثيمين

تاثرات بھیجیں