جمعرات 15 رجب 1440 - 21 مارچ 2019
اردو

نماز عشاء ميں دوسرے روز صبح تك تاخير كرنے كا حكم

5448

تاریخ اشاعت : 10-07-2006

مشاہدات : 4563

سوال

اس وقت سنت يہ ہے كہ عشاء كى نماز رات دس بجكر پچيس منٹ پر ادا ہو ( 25. 10 ) دوسرے روز صبح ميں نے سكول جانا ہوتا ہے، ميرے والدين اس وقت تك رات بيدار رہنے نہيں ديتے، ميں جاننا چاہتا ہوں كہ آيا دوسرے صبح كے وقت عشاء كى نماز ادا كرنا حرام ہے ؟
اگر دوسرے روز صبح تك عشاء كى نماز ميں تاخير كرنا حرام ہو تو ميرے والدين مجھے بيدار رہنے كى اجازت دے دينگے ؟

جواب کا متن

الحمد للہ :

عشاء كى نماز وقت سے مؤخر كر كے ادا كرنى جائز نہيں، اور اسى طرح بقيہ نمازيں بھى بروقت ادا كرنا ہونگى ان ميں وقت سے تاخير كرنى جائز نہيں اور جس كسى نے بھى نماز بروقت ادا نہ كى بلكہ اس ميں تاخير كى تو وہ گنہگار ہو گا، اور كبيرہ گناہ كا مرتكب ٹھرے گا.

كيونكہ اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

يقينا نماز مومنوں كے ليے وقت مقررہ پر ادا كرنا فرض كى گئى ہے .

اور ايك مقام پر ارشاد بارى تعالى ہے:

نمازوں كى حفاظت كرو اور پابندى كے ساتھ ادا كرو اور خاص كر درميانى نماز، اور قيام كرنے والوں كے ساتھ اللہ تعالى كے ليے كھڑے ہو جاؤ .

اس ليے آپ نماز بروقت ادا كريں، اور اس ميں تاخير كرنے كى كوشش مت كريں، اور اپنے والدين كو نماز كے اوقات كے مسئلہ ميں نصحيت كريں اور انہيں بتائيں كہ نماز كى ادائيگى كے ليے آپ كا بيدار رہنا ضرورى ہے.

ليكن اس كمى كو پورا كرنے كے ليے آپ دوپہر كے وقت قيلولۃ كر ليں تا كہ آپ عشاء كى نماز كا انتظار كر سكيں.

اور پھر نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے عشاء كى نماز سے قبل سونے سے منع فرمايا ہے، اور اگر آپ كے والدين آپ كو سونے پر مجبور كريں تو ان كى بات تسليم نہ كريں، چاہے اس ميں آپ كو ليٹ كر يہ ظاہر كرنا پڑے كہ آپ سوئے ہوئے ہيں، حتى كہ نماز كا وقت ہو تو آپ اٹھ كر نماز ادا كرليں.

اللہ تعالى آپ كو توفيق نصيب فرمائے، اور آپ كى مدد كرے، اور صراط مستقيم پر آپ كو ثابت قدم ركھے. آمين

واللہ اعلم.

ماخذ: الشیخ محمد صالح المنجد

تاثرات بھیجیں