منگل 3 ربیع الثانی 1440 - 11 دسمبر 2018
اردو

نماز ميں سورۃ فاتحہ سے قبل كوئى اور سورۃ تلاوت كرنے كا حكم

5451

تاریخ اشاعت : 17-03-2007

مشاہدات : 3844

سوال

اگر سورۃ فاتحہ سے قبل كوئى اور سورۃ تلاوت كى جائے تو كيا آدمى كى نماز جائز ہے، برائے مہربانى وضاحت فرمائيں ؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

اگر كوئى شخص سورۃ فاتحہ سے قبل كوئى اور سورۃ پڑھ لے اور بعد ميں سورۃ فاتحہ كى قرآت كرے تواس كى نماز صحيح ہے، ليكن يہ فعل مشروع نہيں ايسا كرنے والا گنہگار ہے.

واجب يہ ہے كہ پہلے سورۃ فاتحہ كى تلاوت كى جائے، اور پھر آسانى سے جو قرآن كى سورۃ يا آيات پڑھ سكتا ہو ان كى تلاوت كرے.

كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ و سلم كا فرمان ہے:

" تم نماز اس طرح ادا كرو جس طرح تم نے مجھے نماز ادا كرتے ہوئے ديكھا ہے "

جب رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے نماز ادا كى تو اپنى نماز ميں سورۃ فاتحہ كو پہلے پڑھا، نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اپنى زندگى ميں جتنى بھى نمازيں ادا كيں ان ميں سے كسى ايك نماز ميں بھى اس ترتيب كے خلاف نہيں كيا، چنانچہ سنت كى اتباع و پيروى كرنا واجب ہے.

واللہ اعلم .

ماخذ: الشیخ محمد صالح المنجد

تاثرات بھیجیں