بدھ 11 جمادی اولی 1440 - 16 جنوری 2019
اردو

والدین کرتے ہیں کہ وہ ولد زنا ہے تواب اس کی نسبت کس طرح ہوگی

5967

تاریخ اشاعت : 03-07-2003

مشاہدات : 3828

سوال

میرے والدین کااعتقاد ہے کہ میں زنی کی وجہ سے پیدا ہوا لھذا میں کس کی طرف منسوب ہوں گا اورمیرے گھر والے کون ہیں ؟

جواب کا متن

الحمد للہ
ہم نے یہ سوال فضیلۃ الشیخ عبداللہ بن جبرین حفظہ اللہ تعالی کے سامنے پیش کیا توانہوں نے ہمیں یہ جواب لکھ کر بھیجا :

صحیح بات تو یہ ہے کہ ولدزنا ( زنا سے پیداشدہ بچے ) پر والدین کے گناہ کی وجہ سے کوئی گناہ اورقصور نہیں ، اس لیے کہ اس معاملہ میں اس سے توکوئي معصیت اورگناہ نہیں ہوا ، بلکہ اس کا گناہ تواس کے والدین پر ہے اورانہوں نے ہی یہ زنا کا جرم کیا ۔

تواس بنا پر اس کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنے اس باپ کی طرف منسوب ہوجس نے یہ اعترا ف کیا ہے وہ اس کا بیٹا ہے تا کہ وہ کاغذات میں اس ملک کا باشندہ بن سکے ۔

اور اس کے لیے یہ بھی ہے کہ وہ اپنی والدہ کی طرف منسوب ہو جسے اس نے جنا ہے اس لیے کہ وہ ہی اس کی عصبہ ہے اورپھر وہ اس کے قبیلہ اورملک کی طرف منسوب ہوگا ۔

تو اس بنا پر اس بچے کو چاہیے کہ وہ اپنے اعمال صحیح اوردرست کرے اور اپنے معاملات وسلوک اوردین اسلام میں استقامت اختیار کرے جوجرم اس کے والدین نے کیا ہے وہ اسے کوئی نقصان نہیں دے گا ، کیونکہ اصول یہ ہے کہ جس کے اعمال صحیح نہ ہوں اسے اس کا نسب بھی کچھ فائدہ نہیں دے سکتا ۔

واللہ اعلم .

ماخذ: الشیخ عبداللہ بن جبرین

تاثرات بھیجیں