جمعہ 16 رجب 1440 - 22 مارچ 2019
اردو

بے نماز اور شراب فروخت كرنے والے كے پاس كھانا پينا

6030

تاریخ اشاعت : 02-07-2006

مشاہدات : 4547

سوال

اگر ميرا دوست اپنى سپر ماركيٹ ميں شراب فروخت كرتا ہو، اور سپر ماركيٹ ميں بكنے والى اشياء ميں اساسى چيز يہى ہے، اسى طرح وہ نماز بھى ادا نہيں كرتا، تو كيا ميں اس كے گھر ميں كھا پى سكتى ہوں ؟

جواب کا متن

الحمد للہ :

كسى بھى مسلمان عورت كے ليے كسى اجنبى مرد سے دوستى لگانى جائز نہيں، اور جو شخص نماز ادا نہيں كرتا وہ تو مسلمان ہى نہيں، كيونكہ حديث ميں آيا ہے:

نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" آدمى اور كفر كے درميان نماز كا ترك كرنا ہے "

اور اگر اس كى كمائى حرام ہے تو آپ اس كے پاس سے نہ كھائيں، اور پھر يہ شخص تو آپ كے ليے نماز ترك كرنے كى بنا پر كافر اور اجنبى ہے، اور اس كے مال كا مصدر حرام كمائى ہے، اس ليے اس كے ساتھ دوستى لگانے اور اس كا كھانا كھانے ميں كيا فائدہ اور بہترى ہو گى.

چنانچہ آپ اللہ تعالى سے ڈرتے ہوئے فورا اس سے عليحدگى كرليں، اللہ تعالى سے ہمارى دعاء ہے كہ وہ آپ كو سلامتى اور عافيت سے نوازے.

واللہ اعلم .

ماخذ: الشیخ محمد صالح المنجد

تاثرات بھیجیں