اتوار 23 محرم 1441 - 22 ستمبر 2019
اردو

ایک حدیث: (منگنی خفیہ رکھو اور نکاح اعلانیہ کرو) کا حکم

سوال

کیا یہ حدیث (منگنی خفیہ رکھو اور نکاح اعلانیہ کرو) صحیح ہے؟ میرا سوال یہاں پر منگنی کے متعلق ہے، عقد نکاح کے متعلق نہیں ہے، تو کیا منگنی کی تقریب منعقد نہ کرنا بہتر ہے؟ مجھے یہ تو معلوم ہے کہ نکاح کا اعلان واجب ہے، لیکن منگنی کے بارے میں کیا حکم ہے؟

جواب کا متن

الحمدللہ:

اس حدیث کو دیلمی نے مسند الفردوس میں ان الفاظ میں بیان کیا ہے: (نکاح کو ظاہر کرو اور منگنی کو خفیہ رکھو) تاہم یہ حدیث ضعیف ہے، اسے البانی رحمہ اللہ نے سلسلہ ضعیفہ: (2494) میں اور اسی طرح ضعیف الجامع الصغیر : (922)ضعیف قرار دیا ہے۔

البتہ اس حدیث کا پہلا جملہ معنوی طور پر صحیح ثابت ہے اور صحیح حدیث میں (ظاہر کرو) کی بجائے: (اعلان کرو) کے الفاظ ہیں۔

جیسے کہ امام احمد نے عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے حدیث روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (نکاح کا اعلان کرو) اس حدیث کو البانی رحمہ اللہ نے ارواء الغلیل : (1993) میں حسن قرار دیا ہے۔

"نکاح کا اعلان" اس معنی میں کہ نکاح کے گواہ بناؤ تو یہ جمہور علمائے کرام کے ہاں واجب ہے، بلکہ گواہ بنانا نکاح کے صحیح ہونے کی شرائط میں داخل ہے؛ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان ہے: (ولی اور دو عادل گواہوں کے بغیر کوئی نکاح نہیں ہے) اس حدیث کو بیہقی رحمہ اللہ نے عمران اور عائشہ رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے اور البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح الجامع : (7557) میں صحیح قرار دیا ہے۔

بعض اہل علم نے منگنی خفیہ رکھنے کو مستحب قرار دیا ہے، ان کا مقصد یہ ہے کہ کہیں فسادی اور حاسد قسم کے لوگ لڑکے اور منگیتر کے تعلق کو خراب نہ کر دیں، یہ بات "حاشية العدوي على شرح مختصر خليل" (3/167) میں موجود ہے۔

اہل علم کے اس موقف کی تائید رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے اس فرمان سے بھی ہوتی ہے کہ: (اپنے کام پورے کرانے کے لئے انہیں خفیہ رکھ کر [اللہ سے] مدد چاہو؛ کیونکہ ہر وہ شخص جسے نعمت ملے تو اس سے لوگ حسد کرتے ہیں) اس حدیث کو طبرانی نے روایت کیا ہے اور صحیح الجامع: (943) میں البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔

تو اس طرح یہ معاملہ صرف منگنی کے ساتھ ہی خاص نہیں ہے بلکہ انسان کو چاہیے کہ کوئی بھی شخص کسی ایسے آدمی کے سامنے اپنے اوپر ہونے والی اللہ کی نعمتوں کو ظاہر نہ کرے جو حاسد ہو۔

جبکہ منگنی کے موقع پر تقریب کا انعقاد ایسا معاملہ ہے کہ بہت سے لوگوں کو اس کی عادت پڑ گئی ہے، اور ان شاء اللہ اس میں کوئی حرج والی بات بھی نہیں ہے۔

تاہم اس تقریب میں شرعی احکامات کو مد نظر رکھنا ضروری اور لازمی ہے، اس لیے ایسی تقاریب میں مرد و زن کا اختلاط نہیں ہونا چاہیے، اسی طرح دف کے علاوہ کوئی بھی آلات موسیقی استعمال نہ کئے جائیں؛ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے شادی بیاہ کے موقع پر صرف دف بجانے کی اجازت دی ہے۔

واللہ اعلم

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں