جمعہ 16 رجب 1440 - 22 مارچ 2019
اردو

زکاۃ منتقل کرنے کے اخراجات زکاۃ میں سے منہا کرنا جائز نہیں ہے

70075

تاریخ اشاعت : 12-04-2016

مشاہدات : 925

سوال

سوال: اگر زکاۃ غریبوں تک پہنچانے کیلئے سفر کرنے کی ضرورت پڑے تو کیا زکاۃ میں سے سفر کے اخراجات نکالے جا سکتے ہیں؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

اول:

پہلے سوال نمبر: (43146) کے جواب میں گزر چکا ہے کہ اصولی طور پر زکاۃ وہیں ادا کی جائے گی جہاں پر وہ مال موجود ہے جس پر زکاۃ لاگو ہوئی ہے، تاہم کسی ضرورت یا مصلحت کے تحت کسی دوسری جگہ بھی منتقل کی جا سکتی ہے، مثلاً: کسی دوسرے خطے کے لوگوں کو زکاۃ کی زیادہ ضرورت ہو، یا وہاں پر زکاۃ ادا کرنے والے کے رشتہ دار رہتے ہوں، یا اور کوئی اسی طرح کی مصلحت سامنے ہو تو منتقل کرنا بھی جائز ہے۔

دوم:

زکاۃ ادا کرنے والے کی ذمہ داری ہے کہ وہ مستحقین تک زکاۃ پہنچائے،  چنانچہ اگر غریبوں تک  زکاۃ پہنچانے کیلئے  سفر کرنا پڑے یا اس پر اخراجات آتے ہوں تو یہ اخراجات زکاۃ ادا کرنے والے کے ذمہ ہونگے، اور اسے زکاۃ میں سے ادا کرنا جائز نہیں ہے۔

نووی رحمہ اللہ "المجموع" (6/213) میں کہتے ہیں:
"جب زکاۃ منتقل کرنے کی اجازت ہے تو اسے منتقل کرنے کے اخراجات زکاۃ ادا کرنے والے ذمہ الگ سے ہونگے" انتہی

جبکہ مرداوی رحمہ اللہ "الإنصاف" (7/174) میں کہتے ہیں:
"زکاۃ منتقل کرنے کی اجرت زکاۃ ادا کرنے والے کے ذمہ ہے" انتہی

اسی طرح شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ سے استفسار کیا گیا:
"ایک شخص سے زکاۃ کی رقم بیرون ملک ارسال کرنے  کا مطالبہ شخصی طور پر کیا گیا، تو کیا اس کیلئے زکاۃ میں سے سفر کے اخراجات منہا کرنے کی اجازت ہے؟ یہ بات واضح رہے کہ سفر پر جانے والا شخص خود سفر کے اخراجات کا متحمل نہیں ہو سکتا"
تو انہوں نے جواب دیا:
" سفر کے اخراجات کی مد میں زکاۃ سے  تھوڑا سا مال لینے کی بھی اجازت نہیں ہے، کیونکہ غریبوں تک زکاۃ پہنچانے کی ذمہ داری زکاۃ ادا کرنے والے کے ذمہ ہے کہ وہ ان اخراجات کو اپنے ذمہ لے، چنانچہ اگر سفر کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتا تو زکاۃ ادا کرنے والے شخص سے ان اخراجات کا مطالبہ کرے، کیونکہ زکاۃ کی شکل میں غریبوں کے حق کو پوری طرح غریبوں تک پہنچانا  لازمی ہے" انتہی
"مجموع فتاوى ابن عثیمین" (18/369)

واللہ اعلم.

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں