اتوار 17 ذو الحجہ 1440 - 18 اگست 2019
اردو

حالت حيض ميں مجبورا قرآن مجيد كو چھونا پڑا

سوال

ايك عورت كو دورہ پڑا اور كوئى شخص بھى اس پر قرآن پڑھنے كے ليے تيار نہ تھا كيونكہ ميرے علاوہ كوئى بھى اچھى تلاوت نہيں كر سكتا تھا اور ميں حالت حيض ميں تھى چنانچہ مجھے مجبورا قرآن پكڑ كر تلاوت كرنا پڑھى تا كہ اس عورت كو جن سے چھٹكارا حاصل ہو... ميرے اس عمل كا حكم كيا ہے، اور كيا مجھ پر كوئى گناہ تو نہيں ؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

جمہور علماء كے ہاں بغير وضوء شخص ( حائضہ عورت وغيرہ ) كے ليے قرآن مجيد چھونا جائز نہيں؛ كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" قرآن مجيد كو طاہر شخص كے علاوہ كوئى اور نہ چھوئے "

موطا امام مالك حديث نمبر ( 468 ) علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے ارواء الغليل حديث نمبر ( 122 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

راجح قول يہى ہے كہ حائضہ عورت قرآن چھوئے بغير تلاوت كر سكتى ہے مثلا اگر وہ حافظہ ہے تو زبانى تلاوت كرنا جائز ہے، يا پھر قرآن مجيد كو كسى چيز كے ساتھ پكڑ كر تلاوت كر لے، اور اس كے ليے قرآن مجيد كى تفسير پر مشتمل كتاب پڑھنا بھى جائز ہے.

اس كى تفصيل آپ سوال نمبر ( 2564 ) اور ( 60213 ) كے جوابات ميں پڑھ سكتے ہيں.

چنانچہ آپ كو بغير كسى چيز كے بلاواسطہ قرآن مجيد پكڑنے سے گريز كرنا چاہيے تھا، بلكہ آپ كسى پاك كپڑا وغيرہ كے ساتھ قرآن پكڑ ليتى يا پھر دستانے پہن كر يا اس كے اوراق لكڑى يا قلم سے الٹتى تو يہ بہتر تھا.

اب جبكہ يہ ممنوعہ كام ہو چكا ہے، اس ليے اب آپ كو اس كام سے استغفار اور توبہ كرنى چاہيے، اللہ تعالى سے ہمارى دعا ہے كہ آپ كو معاف فرمائے، اور اسى طرح ہمارى يہ بھى دعا ہے كہ يہ آپ كا اپنى بہن كى معاونت كرنے والا عمل اللہ تعالى قبول كرتے ہوئے آپ كو اجروثواب عطا فرمائے.

واللہ اعلم .

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں