بدھ 11 جمادی اولی 1440 - 16 جنوری 2019
اردو

رمضان میں غسل جنابت کو طلوع فجر تک موخر کرنا

سوال

کیا غسل جنابت کو طلوع فجر تک موخر کرنا جائز ہے ؟
اور کیا عورتیں حیض اور نفاس کے غسل کو طلوع فجر تک موخر کر سکتی ہیں ؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

اگر عورت طلوع فجر سے پہلے طہر کو دیکھ لے تو اس پر روزہ رکھنا لازم ہے اور اس میں کوئی مانع نہیں کہ وہ غسل کو طلوع فجر کے بعد تک موخر کرے لیکن اس کے لۓ یہ جائز نہیں کہ وہ غسل کو طلوع شمس تک موخر کرے اور اسی طرح جنبی کے لۓ بھی طلوع شمس کے بعد تک موخر کرنا جائز نہیں آدمی کو چاہۓ کہ وہ جتنی جلدی ہو سکے غسل کر لے تا کہ فجر کی نماز باجماعت ادا کر سکے .

ماخذ: فتاوی الشیخ ابن باز رحمہ اللہ تعالی

تاثرات بھیجیں