اتوار 11 ربیع الثانی 1441 - 8 دسمبر 2019
اردو

صدقہ دیتے ہوئے فقیروں میں سے کس کو ترجیح دے؟

75406

تاریخ اشاعت : 03-12-2019

مشاہدات : 120

سوال

اگر ایک سے زائد جسمانی طور پر معذور سوالی ہمارے سامنے ہوں تو پھر صدقہ دیتے ہوئے کس کو ترجیح دیں؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

اول:

محتاج لوگوں کی مدد اور فقرا و مساکین پر صدقہ افضل ترین عبادات میں شامل ہے، اور یہ اعلی ترین نیکی ہے، فرمانِ باری تعالی ہے:

اَلَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُم بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ سِرّاً وَعَلاَنِيَةً فَلَهُمْ أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ وَلاَ خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلاَ هُمْ يَحْزَنُونَ

 ترجمہ: جو لوگ اپنے مال رات اور دن، خفیہ اور اعلانیہ خرچ کرتے ہیں تو ان کے لئے ان کے رب کے ہاں یقینی اجر ہے، ان پر نہ تو کوئی خوف ہو گا اور نہ ہی وہ غمگین ہوں گے۔[البقرة:274]

فقیروں کو صدقے کی ضرورت جس قدر زیادہ ہوگی صدقے کی فضیلت بھی بڑھتی جائے گی؛ اس لیے کہ لوگوں کی ضروریات پوری کرنا اور ستر پوشی صدقات کو شریعت میں شامل کرنے کے اہم ترین مقاصد میں شامل ہے۔

چنانچہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (افضل ترین اعمال یہ ہیں: مومن کے دل میں خوشی پیدا کرنے کے لیے : آپ اسے تن پر کپڑا پہننے کے لئے دیں، اس کی بھوک مٹا دیں، یا اس کی ضرورت پوری کر دیں۔) اس حدیث کو طبرانی نے معجم الاوسط : (5/202) میں روایت کیا ہے اور البانی نے صحیح الترغیب: (2090) میں اسے حسن قرار دیا ہے۔

الشیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"اگر یہ کہا جائے کہ ان مذکور آٹھ مصارفِ زکاۃ میں سے کہاں زکاۃ صرف کی جائے؟

تو ہم اس کے جواب میں کہیں گے: سب سے پہلے ترجیح اسی مد کو حاصل ہو گی جہاں خرچ کرنے کی ضرورت زیادہ ہو، عام طور پر یہی ہوتا ہے کہ زیادہ ضرورت فقرا اور مساکین کو رہتی ہے، اسی لیے اللہ تعالی نے پہلے انہی کا ذکر فرمایا :

إِنَّمَا ٱلصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَآءِ وَٱلْمَسَاكِينِ وَٱلْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَٱلْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِى ٱلرِّقَابِ وَٱلْغاٰرِمِينَ وَفِى سَبِيلِ ٱللَّهِ وَٱبْنِ ٱلسَّبِيلِ فَرِيضَةً مِّنَ ٱللَّهِ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ

ترجمہ: صدقات تو صرف فقیروں ،مسکینوں اور ان پر مقرر عاملوں کے لیے ہیں اور ان کے لیے جن کے دلوں میں الفت ڈالنی مقصود ہے اور گردنیں چھڑانے میں اور تاوان بھرنے والوں میں اور اللہ کے راستے میں اور مسافروں کے لیے ہیں۔ یہ اللہ کی طرف سے ایک فریضہ ہے اور اللہ سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔[التوبہ: 60] " ختم شد
"مجموع فتاوى ابن عثیمین" (جلد: 18، سوال نمبر: 251)

اسی طرح "الموسوعة الفقهية" (23/303) میں ہے کہ:
"زکاۃ کے مستحقین میں زکاۃ کی تقسیم یکساں نہیں ہوگی بلکہ ان میں درجہ بندی ہے، چنانچہ مالکی فقہائے کرام نے صراحت کے ساتھ لکھا ہے کہ زکاۃ تقسیم کنندہ کے لئے ضرورت مند کو دوسروں پر ترجیح دینا مستحب ہے، مثلاً: انہیں دیگر مصارفِ زکاۃ کے مقابلے میں زیادہ دے دے۔" ختم شد

اگر فقیر یا سوالی بے روز گار ہوں، بیماری یا معذوری کی وجہ سے گھر بیٹھا ہو تو ایسے شخص کو صدقہ دینا زیادہ ضروری ہے، فرمانِ باری تعالی ہے:

لِلْفُقَرَاء الَّذِينَ أُحصِرُواْ فِي سَبِيلِ اللّهِ لاَ يَسْتَطِيعُونَ ضَرْباً فِي الأَرْضِ يَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ أَغْنِيَاء مِنَ التَّعَفُّفِ تَعْرِفُهُم بِسِيمَاهُمْ لاَ يَسْأَلُونَ النَّاسَ إِلْحَافاً وَمَا تُنفِقُواْ مِنْ خَيْرٍ فَإِنَّ اللّهَ بِهِ عَلِيمٌ

 ترجمہ: یہ صدقات ان محتاجوں کے لیے ہیں جو اللہ کے راستے میں روکے گئے ہیں، زمین میں سفر نہیں کر سکتے، نا واقف انہیں سوال سے بچنے کی وجہ سے صاحب ثروت سمجھتا ہے، تو انہیں ان کی علامت سے پہچان لے گا، وہ لوگوں سے چمٹ کر نہیں مانگتے، اور تم خیر میں سے جو خرچ کرو گے تو یقیناً اللہ اسے خوب جاننے والا ہے۔ [البقرة/273]

سعید بن جیبر رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں کہتے ہیں کہ:
"اس سے مراد ایسے لوگ ہیں جنہیں راہ الہی میں ایسے زخم پہنچے جن کی وجہ سے وہ دائمی بیمار یا محتاج ہو گئے، تو ان کے لئے مسلمانوں کے مال میں سے حق مقرر کر دیا۔"
"الدر المنثور" (2/89)

مطلب یہ ہے کہ: صدقہ خیرات کرنے کے لئے کسی کو ترجیح دینے کی بنیاد حاجت اور فاقہ کشی ہو گی، چنانچہ اگر آپ کو یہ محسوس ہو کہ سائلین میں سے کوئی ایک دوسروں کی بہ نسبت زیادہ محتاج اور فاقہ کشی میں مبتلا ہے تو وہی آپ کے صدقے کا زیادہ حق دار ہے۔

تاہم جس قدر رقم آپ تقسیم کرنا چاہتے ہیں وہ رقم سائلین کی ضرورت پوری کر سکتی ہے تو آپ دونوں میں اسے تقسیم کر دیں، اور اگر صرف ایک سائل کی ہی ضرورت پوری کر سکتی ہے تو آپ ان دونوں میں سے جس کو مرضی دے دیں اس میں کوئی حرج نہیں ہے، تاہم آپ دیتے ہوئے دوسرے سے خفیہ رکھیں، تا کہ اس کے دل میں آپ کے بارے میں کسی قسم کا حسد یا حسرت پیدا نہ ہو۔

الشیخ ابن باز رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: جب انسان اپنے مال کی زکاۃ نکالے اور وہ تھوڑی سی ہو مثلاً: صرف 200 ریال ہے، تو کیا یہ رقم صرف ایک محتاج خاندان کو دینا بہتر ہو گا یا متعدد محتاج خاندانوں میں تقسیم کرنا بہتر ہو گا؟

اس پر انہوں نے جواب دیا:
"اگر زکاۃ کی مقدار بہت تھوڑی ہے تو پھر آپ اسے ایک ہی غریب خاندان کو دے دیں، یہ زیادہ بہتر اور افضل ہے؛ کیونکہ متعدد خاندانوں میں تقسیم کرنے سے اس کا فائدہ اتنا ہی کم ہو جائے گا۔" ختم شد
"فتاوى ابن باز" (14/316)

واللہ اعلم

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں