جمعرات 5 ربیع الثانی 1440 - 13 دسمبر 2018
اردو

قبر کی سختیاں مومن کے گناہوں کا کفارہ ہوں گی

سوال

کیا مسلمان کے گناہ عذاب قبر کی وجہ سے کم یا ختم ہوں گے ؟

جواب کا متن

الحمدللہ

اس امت پر اللہ تعالی کا فضل وکرم ہے کہ اس نے حساب و کتاب سے قبل اس کے گناہوں کے لۓ کچھ ایسی چیزیں بنائی ہیں جو کہ اس کے لۓ کفارہ بن جاتی ہیں ۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالی نے کفارہ بننے والی دس چیزوں کا ذکر کیا ہے ۔

اور ان میں عذاب قبر ہے ۔

شیخ الاسلام رحمہ اللہ کا قول ہے کہ :

دنیا اور برزخ اور قیامت میں مومن کو جو کچھ تکلیف اور عذاب ہوتا ہے اس سے اللہ تعالی ان کے گناہوں کو مٹا دیتا ہے ، جیسا کہ بخاری اور مسلم میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا :

( مومن کو جو بھی مرض اور دکھ اور غم اور تکلیف آتی ہے حتی کہ جو اسے کانٹا چبھتا ہے اس کی وجہ سے اللہ تعالی اس کے گناہ معاف کر دیتا ہے )

مجموع الفتاوی (24/ 375)

شیخ الاسلام رحمہ اللہ کا قول ہے کہ :

آٹھواں سبب : جو کچھ قبر میں آزمائش اور دباؤ اور گھبراہٹ ہوتی ہے تو بیشک اس سے گناہ معاف ہوتے ہیں )

مجموع الفتاوی 7 / 500)

اور شیخ الاسلام رحمہ اللہ کا یہ بھی قول ہے کہ :

جس چیز سے گناہ معاف ہوتے ہیں ان میں یہ بھی ہے کہ مومن پر اس کی قبر میں جو آزمائش اور دباؤ اور فرشتوں کی آزمائش بھی شامل ہے ۔

منہاج السنۃ (6/ 238)

واللہ اعلم .

ماخذ: الشیخ محمد صالح المنجد

تاثرات بھیجیں