بدھ 12 صفر 1442 - 30 ستمبر 2020
اردو

کیا پیشاب کے قطرے مسلسل آنے میں کوئی اثر ہے؟ اور اسکا نماز میں کیا کیا جائے؟

8285

تاریخ اشاعت : 03-08-2003

مشاہدات : 27796

سوال

میں نے ایسے شخص کے متعلق ایک سوال پڑھا ہے جسے وضو میں ایک مشکل تھی اور مجھے بھی اسی طرح کی بلکہ اس سے بھی زیادہ مشکل پیش آتی ہے جب میں نماز پڑھنا چاہتا ہوں تو مجھے احساس ہوتا ہے کہ میری ہوا خارج ہوئی ہے اگر میں لیٹرین میں جاؤں تو آدھا گھنٹہ صرف ہوجاتا ہے لیکن اسکے باوجود نماز کے دوران پیشاب کے قطرے نکلتے رہتے ہیں اور مجھے یہ سخت ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ لیٹرین جاؤں اسی لئے میں وضو بار بار کرتا ہوں تو اس بنا پر مجھے اس سے بہت خفت اور شرمندگی ہوتی ہے اور نماز پڑھنی مشکل ہے اور یہ میرے ایمان پر بھی اثر انداز ہورہا ہے ۔
مجھے یقین ہے کہ یہ بیماری نہیں کیونکہ میں بہت سے ڈاکٹروں کے پاس گیا لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا اور یہ مشکل صرف نماز کے وقت پیش آتی ہے بعض لوگ مجھے یہ کہتے ہیں کہ تیرے جسم میں جن داخل ہے جسکی وجہ سے یہ ہورہا ہے آپ مہربانی فرما کر مجھے یہ بتائیں کہ میں نماز آسانی سے ادا کرسکوں اور کیا میں ایک ہی وضو کے ساتھ کئ نمازیں پڑھ سکتا ہوں اگرچہ یہ چیزیں خارج ہوتی رہیں اور اگر اسکا سبب جن ہے تو اس سے چھٹکارا کیسے ہوگا؟

جواب کا متن

الحمد للہ.


پیشاب جاری رہنا اور جو اسکے حکم میں آتا ہے یعنی جو ارادہ کے بغیر نکلے اور اس پر کنٹرول نہ ہو اسے نہیں دیکھا جائے گا بلکہ انسان اپنی اسی حالت میں نماز ادا کریگا اگرچہ وہ نماز کے دوران بھی خارج ہوتا رہے کیونکہ اس سے دور اور پاک ہونے میں مشقت اور تنگی وحرج ہے۔

ارشاد باری تعالی ہے :

اور اس نے تمہارے لئے دین میں کوئی تنگی نہیں بنائی

لیکن اگر اس بات کا ڈر ہو کہ بدن اور کپڑے گندگی سے بھر جائیں گے تو ٹشو پیپر یا کوئی اور چیز لپیٹ لے (یعنی اپنے عضو تناسل پر) اور وضوء کے بعد نماز پڑھ لے اور جس کے نکلنے پر کنٹرول نہ ہو اسکی طرف دھیان نہ دے ، اور یہ مرض عام اور بہت پھیلا ہوا اور جن کی کارستانی نہیں اور نہ ہی انکے سبب ہے

نیز ہر فرضی نماز کے لئے آپ پر طہارت کرنا ضروری ہے۔

واللہ اعلم .

ماخذ: الشيخ عبد الكريم الخضير