سوموار 17 شعبان 1440 - 22 اپریل 2019
اردو

حصص قرض پر لينے كا حكم

84357

تاریخ اشاعت : 19-05-2007

مشاہدات : 3698

سوال

مجھے مال كى ضرورت تھى تو ميں نے اپنے ايك دوست سے قرض مانگا تو وہ كہنے لگا: ميرے پاس مال تو نہيں، ليكن سمينٹ كمپنى ميں ميرے پانچ حصص ہيں، ميں وہ تجھے قرض دے سكتا ہوں، مجھے اسى كمپنى ميں پانچ حصص واپس كر دينا، ميں وہ حصص لے كر انہيں فروخت كر كے اپنى ضرورت پورى كرونگا، اور پھر اس كے بعد حصص ماركيٹ سے اسى كمپنى كے اتنے ہى حصص خريد كر اسے واپس كردونگا، كيا ايسا كرنا جائز ہے ؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

اس ميں كوئى مانع ظاہر تو نہيں ہوتا، جبكہ وہ اسى كمپنى كے اتنے ہى حصص واپس كريگا، اور ان حصص كے قيمت كے اتار چڑھاؤ كا قرض پر كچھ اثر نہيں ہوتا.

الشيخ عبد الرحمن البراك

ليكن شرط يہ ہے كہ وہ حصص كسى نقدى كمپنى كے نہ ہوں، مثلا اسلامى بنكوں كے حصص، كيونكہ غالب طور پر ان ميں چلنے والى نقدى ہوتى ہے.

واللہ اعلم .

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں