منگل 16 رمضان 1440 - 21 مئی 2019
اردو

اگر تلاوت كا ثواب ميت كو نہ بھيجا جائے تو تلاوت لٹكى رہتى ہے

8596

تاریخ اشاعت : 16-06-2009

مشاہدات : 3817

سوال

ميں نے سنا ہے كہ جب ہم قرآن كريم كى تلاوت مكمل كر ليں تو ہمارے ليے ميت كو ثواب پہنچانے كے ليے دعا كرنا ضرورى ہے، اگر ايسا نہ كيا جائے تو ثواب آسمان و زمين كے درميان لٹكا رہتا ہے، اور قرآت كا اجروثواب كم ہو جاتا ہے جسے اردو ميں اسے ثواب بخشنا كہتے ہيں، مجھے انگلش يا عربى ميں اس معنى كے الفاظ نہيں مل رہے، تو كيا اس كى كوئى حقيقت ہے ؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

يہ بات بالكل غلط ہے، بلكہ يہ بدعات ميں شمار ہوتا ہے اس سے اجتناب كرنا ضرورى ہے.

الشيخ سعد الحميد

اور اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

تمام تر ستھرے اور پاكيزہ كلمات اس كى طرف چڑھتے ہيں اور نيك عمل ان كو بلند كرتا ہے فاطر ( 10 ).

اگر ہمارى تلاوت خالصتا صاف دل كے ساتھ اللہ تعالى كے ليے ہو تو وہ قبول ہوتى ہے اور اللہ كى جانب چڑھتى ہے، اسے آسمان و زمين كے درميان نہيں روكا جاتا، اور پھر اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

اللہ تعالى تقوى و پرہيزگارى اختيار كرنے والوں كا عمل قبول كرتا ہے المآئدۃ ( 27 ).

بدعات اور جہالت پر مبنى غلط قسم كے اعقادات سے اجتناب كرنا تقوى ميں شامل ہے، بعض لوگ جو يہ افواہيں پھيلاتے ہيں كہ قرآن مجيد كى تلاوت كا ثواب مردوں كو پہنچتا ہے يہ بات محل نظر ہے، شرعى دلائل سے اس كا كوئى ثبوت نہيں ملتا، اس ليے كسى ميت كو ثواب ہبہ كرنا مشروع نہيں.

اللہ تعالى ہى توفيق دينے والا ہے.

واللہ اعلم .

ماخذ: الشیخ محمد صالح المنجد

تاثرات بھیجیں