جمعہ 30 محرم 1442 - 18 ستمبر 2020
اردو

میت کو قمیص میں کفن دینا

98308

تاریخ اشاعت : 19-11-2014

مشاہدات : 3477

سوال

سوال: کیا مرد کو قمیص میں کفن دیا جاسکتا ہے؟

جواب کا متن

الحمد للہ.

افضل یہی ہے کہ مرد کو قمیص میں کفن نہ دیا جائے، بلکہ تین کپڑوں میں کفن دیا جائے، جس میں میت کو لپیٹ دیا  جائے گا، جیسے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کو کفن دیا گیا تھا۔

چنانچہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ: "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کو تین یمنی سوتی  سفید رنگ کی چادروں میں کفن دیا گیا تھا، جن میں قمیص اور عمامہ نہیں تھا"بخاری: (1264)، مسلم: (941)
حدیث میں مذکور: "کرسف" سے مراد سوت ہے۔

ابن حزم کہتے ہیں: "اللہ تعالی نے اپنے نبی کیلئے افضل ترین حالت ہی پسند فرمائی "انتہی
"المحلى" ( 5/118)

چنانچہ افضل یہی ہے کہ آدمی کو قمیص میں کفن نہ دیا جائے، اگرچہ قمیص میں کفن دینا جائز ہے۔

نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"قمیص میں کفن دینا مکروہ نہیں ہے، اسکی دلیل ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث ہے کہ جب عبد اللہ بن ابی مرا تو اسکا بیٹا نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کے پاس آیا، عرض کیا: "یا رسول اللہ! مجھے آپ اپنی قمیص  دے دیں، میں اپنے والد کو اس میں کفن دونگا، اور آپ اسکا جنازہ بھی پڑھائیں، اور اسکے لئے بخشش کی دعا بھی مانگیں" تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے اسے اپنی قمیص دے دی، اور فرمایا: (مجھے بتلا دینا، میں اسکا جنازہ پڑھاؤں گا) تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کو [جنازے کا] بتلا دیا، چنانچہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم  جنازہ پڑھانے لگے تو عمر رضی اللہ عنہ نے آپ سے عرض کیا: "اللہ تعالی نے آپکو منافقین کا جنازہ پڑھانے سے منع نہیں کیا !؟" تو آپ نے فرمایا: (مجھے دو نوں اختیارات دئے گئے ہیں)پھر آپ نے یہ آیت پڑھی: اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ إِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً فَلَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَهُمْ آپ انکے لئے بخشش طلب کریں یا نہ کریں، اگر آپ انکے لئے ستّر بات بھی بخشش طلب کروگے ، اللہ تعالی انہیں پھر بھی ہر گز نہیں بخشے گا۔[التوبہ : 80]، اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے اسکی نماز ِ جنازہ پڑھا دی، تو یہ آیت نازل ہوئی: (وَلَا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلَا تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ) اور آپ کبھی بھی ان کی نماز جنازہ ادا نہ کریں، اور نہ ہی انکی قبر پر کھڑے ہوں" بخاری: (5796)

اور جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ: "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  عبد اللہ بن ابی کے پاس اس وقت آئے جب اسے قبر میں داخل کردیا گیا تھا، تو آپکے حکم پر اسے باہر نکالا گیا، آپ نے اسے اپنے دونوں گھٹنوں  پر رکھا، اور اس پر اپنا لعاب مبارک ڈالا، اور اسے اپنی قمیص پہنائی، اللہ اعلم،  [اس ]عبد اللہ  نے  عباس رضی اللہ عنہ کو قمیص پہنائی تھی۔
 سفیان کہتے ہیں:ابو ہارون یحیی کا کہنا ہے کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے دو قمیصیں پہن رکھی تھیں، تو عبد اللہ کے بیٹے نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے والد کو آپ وہ قمیص پہنائیں تو آپکے جسم سے لگ رہی ہے۔
سفیان کہتے ہیں: [اہل علم ]کا کہنا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم  نے عبد اللہ کو قمیص اس لئے پہنائی تھی کہ اس نے [عباس کو قمیص دیکر نیکی کی تھی ]اسکا بدلہ چکانے کیلئے اپنی قمیص پہنائی"بخاری: (1270)

بیہقی نے  "السنن الكبرى" (3/564) میں اس مسئلہ کے بارے میں ایسے عنوان قائم کیا ہے: "باب ہے قمیص میں کفن دینے کے جواز کے بارے میں، اگرچہ ہم وہ پسند کرتے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے لئے پسند کیا گیا"انتہی

اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم  نے عبد اللہ بن ابی کو اپنی قمیص میں کفن کس لئے دیا؟ اس بارے میں متعدد اقوال ہیں:
کہا گیا ہے کہ: عبد اللہ بن ابی کے بیٹے  کا دل رکھنے کیلئے آپ نے ایسا کیا، اور یہی زیادہ بہتر لگتا ہے۔

 یہ بھی کہا گیا ہے کہ: عبد اللہ بن ابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے چچا عباس کو بدر کی جنگ میں قید ہونے پر اپنی قمیص پہنائی تھی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے اسے اپنی قمیص دے دی، تا کہ کسی کافر کا آپ پر کوئی حق باقی نہ رہے۔

اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے یہ عمل عبد اللہ کے بیٹے کے مطالبے پر کیا تھا۔
دیکھیں: "المجموع" (5/152) ، "المغنی" (3/384)

اور کچھ علمائے کرام نے قمیص میں تکفین کو مکروہ کہا ہے۔
چنانچہ اس بارے میں  نووی رحمہ اللہ  کہتے ہیں کہ: "یہ موقف ضعیف بلکہ دلیل کے اعتبار سے باطل بھی ہے، کیونکہ مکروہ ایسا عمل ہوتا ہے جس کے بارے میں خاص ممانعت ہو، لیکن قمیص میں کفن دینے کے بارے میں کوئی ممانعت ثابت نہیں ہے، اگرچہ قمیص میں کفن دینا افضل نہیں ہے"انتہی

جبکہ عورت کو کو قمیص میں کفن دیا جاتا ہے، آپ سوال نمبر: (98189) کا جواب ملاحظہ کریں، اس میں خواتین کو کفن دینے کی مکمل تفصیل ہے۔

واللہ اعلم . 

ماخذ: الاسلام سوال و جواب