سوموار 19 رجب 1440 - 25 مارچ 2019
اردو

كيا دوران نماز سانپ اور بچھو مارا جا سكتا ہے ؟

9903

تاریخ اشاعت : 09-02-2007

مشاہدات : 6616

سوال

اگر كوئى شخص نماز پنجگانہ ميں سے كوئى نماز ادا كر رہا ہو اور اپنے سامنے سانپ يا بچھو ديكھے تو كيا وہ نماز ختم كر كے اسے مارے يا كہ نماز مكمل كرے ؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

جى ہاں وہ نماز توڑ كر سانپ يا بچھو كو مارے كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" نماز ميں دو سياہ چيزوں كو قتل كرو، سانپ اور بچھو"

اسے اہل سنن اور ابن حبان نے روايت كيا ہے.

اور اگر نماز ميں ہى اسے قتل كرنا ممكن ہو اور اس ميں زيادہ عمل نہ كرنا پڑے تو اس ميں كوئى حرج نہيں اور اس كى نماز صحيح ہو گى.

اللہ تعالى ہى توفيق بخشنے والا ہے، اور اللہ تعالى ہمارے نبى محمد صلى اللہ عليہ وسلم اور ان كى آل اور صحابہ كرام پر اپنى رحمتيں نازل فرمائے.

ماخذ: ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 7 / 31 )

تاثرات بھیجیں