منگل 10 ربیع الثانی 1440 - 18 دسمبر 2018
اردو

ماه رمضان ميں صدقه كرنا

تاریخ اشاعت : 20-01-2009

مشاہدات : 98

ماه رمضان ميں صدقه كرنا


 

صدقہ وخيرات گناہوں اور غلطيوں كواس طرح مٹا ديتا ہےجس طرح پاني آگ كوختم كرديتا ہے، اور پھر صدقہ اللہ تعالي كےغضب كوبھي ٹھنڈا كرديتا ہے، اوراسي طرح صدقہ ايسي نيكي ہےجو روزقيامت صدقہ كرنےوالے پر سايہ كرےگا...

اس كےعلاوہ بھي صدقہ وخيرات كےبہت سےفضائل ہيں جوصدقہ كرنے والے كوحاص ہوتےہيں، اس ميں كوئي شك نہيں كہ رمضان المبارك كا مہينہ جود وسخا اورصدقہ كرنےكا مہينہ ہے، اس ليےہم تين اعتبار سے اس موضوع كو سميٹنےكي كوشش كرتےہيں :

اول: رمضان المبارك ميں جودوسخا.

دوم: جود وسخا كےدس مرتبے.

سوم رمضان المبارك تك زكاۃ كي ادائيگي ميں تاخير كرنا.

1 -  رمضان المبارك ميں جود وسخا:

ماہ رمضان خيروبركت اوراطاعت كا مہينہ ہے، نبي كريم صلي اللہ عليہ وسلم سب لوگوں سےزيادہ بہتر اخلاق حسنہ كےمالك اور ان ميں سب سے زايادہ اطاعت وفرمانبرداري كرنےوالےتھےليكن اس كےباوجود رمضان المبارك ميں باقي ايام سےزيادہ اطاعت وفرمانبرداري اور سخاوت كرتے.

ابن قيم رحمہ اللہ تعالي كہتےہيں:

نبي كريم صلي اللہ عليہ وسلم سب لوگوں سےزيادہ سخي تھے اور رمضان المبارك ميں اس سےبھي زيادہ سخاوت كرتے، اس ميں صدقہ واحسان اور قرآن مجيد كي تلاوت اور نماز، اللہ تعالي كا ذكر اور اعتكاف كثرت سےكرتے تھے. ديكھيں: زاد المعاد ( 2 / 32 ) .

اور صحابہ كرام كي نظريں جس پر كثرت سےپڑيں وہ نبي كريم صلي اللہ عليہ وسلم كي رمضان المبارك ميں جود وسخا تھي ، سخاوت يہ ہےكہ كسي ضرورت مند كو وہ چيز دي جائے جواسے ضرورت ہو، يہ اس فضول خرچي كي طرح نہيں جوحد سےتجاوز ہوتي ہے، اوربعض اوقات اپني جگہ پر بھي نہيں ہوتي .

ابن قيم رحمہ اللہ تعالي كہتےہيں:

جود وسخا اور فضول خرچي ميں فرق يہ ہےكہ: سخي حكمت والا ہوتا ہے وہ اپني سخاوت اس كي جگہ پر ركھتا ہے( يعني سخاوت وہاں كرتا ہےجہاں ضرورت ہو) اور فضول خرچ كرنےوالا اسراف كرتا ہےبعض اوقات اس كي دي ہوئي چيز موقع پر ہوتي ہے ليكن اكثر اوقات وہ اپني جگہ پر نہيں ہوتي . ديكھيں: الروح ( 235 ) .

انس رضي اللہ تعالي عنہ بيان كرتےہيں كہ رسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم سب لوگوں سےخوبصورت اور سب لوگوں سےزيادہ جود وسخا كےمالك اورسب لوگوں سےبہادر تھے. صحيح بخاري ( 5686 ) صحيح مسلم ( 2307 ) .

ابن عباس رضي اللہ تعالي عنہ بيان كرتےہيں كہ رسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم سب لوگوں سےزيادہ سخي تھے، اور رمضان المبارك ميں جب جبريل امين عليہ السلام آپ سےملتےتواس وقت اور بھي زيادہ سخي ہوتے، اور جبريل عليہ السلام رمضان المبارك كي ہر رات نبي كريم صلي اللہ عليہ وسلم سےملكر قرآن مجيد كا دور كيا كرتےتھے، تورسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم بھلائي اور خير ميں تند وتيز ہوا سےبھي زيادہ سخي تھے.  صحيح بخاري حديث نمبر ( 6 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 2308 ) .

اور بخاري شريف كي ايك روايت ميں ہےكہ:

ابن عباس رضي اللہ تعالي عنھما بيان كرتےہيں كہ رسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم خيروبھلائي ميں سب لوگوں سےزيادہ سخي تھے، اور رمضان المبارك ميں اور بھي زيادہ سخي ہوجاتےاس ليے كہ رمضان كي ہر رات انہيں جبريل امين عليہ السلام ملتےتھے. صحيح بخاري حديث نمبر ( 4711 ).

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ تعالي كہتےہيں:

وقت ميں سےجومجموعي طور ذكر ہو( وہ رمضان ہے ) اور جس كےساتھ نازل ہوا ( وہ قرآن مجيد ہے ) اور نازل ہونےوالا ( جبريل امين عليہ السلام ہيں ) اور جود وسخا كي زيادہ ميں مذاكرہ ہوا ..

اور المرسلۃ كا معني بھيجي گئي يعني جود وسخا كي تيزي ميں ہوا سے بھي زيادہ تيز تھے، اور المرسلۃ كہ كر اس كي رحمت كےدوام اور ہميشگي اور ان كي جود وسخا كے عمومي نفع كي طرف اشارہ كيا ہےكہ جس طرح جب ہوا چلتي ہےتو جس پر بھي چلے اسےہي فائدہ ہوتا ہے اسي طرح يہ بھي عام ہے.

ديكھيں: فتح الباري ( 1 / 31 ) .

اور وہ كہتےہيں:

اور اس ليےبھي كہ بعض اوقات ہوا بند ہوجاتي ہے، اور اس ميں احتراس يعني بچاؤ پايا جاتا ہےاس ليےكہ ہوا نقصان دہ اوربےفائدہ بھي ہوتي اور ہوا كي ايك قسم خير كي خوشخبري دينےوالي بھي تويہاں المرسلۃ كا وصف ديا تا كہ دوسري قسم كي تعيين ہوجائےاوراللہ تعالي كےاس فرمان كي طرف اشارہ كيا:

{اور وہي ہے جو خوشخبري والي ہوائيں بھيجتا ہے } {اور اللہ تعالي وہ ہے جس نے ہواؤں كوبھيجا} وغيرہ

لھذا بھيجي ہوئي ہوا اپني مدت ميں چلتي رہتي ہے اوراسي طرح نبي كريم صلي اللہ عليہ وسلم كا عمل بھي رمضان المبارك ميں ہميشہ ہوتا اس ميں انقطاع نہيں آتا تھا .

ديكھيں: فتح الباري ( 9 / 45 ) .

2 -  جود وسخا كي صورتيں اور مرتبے:

ابن قيم رحمہ اللہ تعالي كہتےہيں:

جود وسخا كےدس مراتب ہيں:

اول: نفس كي سخاوت : اور يہ درجہ اور مرتبہ سب سےبلند اور اعلي ہے جيسا كہ شاعر كا قول ہے:

جب بخيل اس كا بخل كيا تووہ نفس كي سخاوت كرتا ہے، اور نفس كي سخاوت جود وسخا كي سب سےآخري حد ہے.

دوم : سرداري كےساتھ سخاوت:

يہ سخاوت كا دوسرا مرتبہ ہے، لھذا سخي اپني سخاوت كو سرداري كا امتحان سمجھتا ہے اور اس كےساتھ ملتمس كي حاجت وضروريات كوپوري كرتا ہے.

سوم: اپني راحت وآرام اور آسودگي وخوشحالي اور نفس كےآرام كي سخاوت ، تواس كےساتھ دسروں كي مصلحت كےليے خود تھكاوٹ اورمشكلات برداشت كرتا ہے، اور اس سخاوت ميں انسان اپني نيند اور لذت وغيرہ قربان كرتا ہے، جيسا كہ شاعر كہتا ہے:

اس شعر كا معني يہ ہے: يہ شخص بہت كرم وسخا والا ہے اس پر  سخاوت نےغلبہ حاصل كرليا ہے حتي كہ اگر كوئي سائل سوال كرے اوراس كا يہ مطالبہ ہو كہ وہ اسےساري نيند دے دے تويہ اس كےسوال پر عمل كرے اور بالكل نہيں سوتا .

چہارم: علم كي دولت خرچ كركےسخاوت كرنا:

يہ جود وسخا كا سب سےاعلي مرتبہ ہے، علم كي سخاوت مال كي سخاوت سےبھي افضل ہے، اس ليےكہ علم مال سے بھي زيادہ شرف ومرتبہ ركھتا ہے، اور علم كےساتھ سخاوت ميں لوگ كئي درجات اور مراتب ميں بٹےہوئے ہيں، اللہ تعالي كي حكمت كا تقاضہ ہے كہ اس سے بخيل كو كوئي فائدہ حاصل نہيں ہوتا، اس كي سخاوت يہ ہے كہ جب بھي كوئي سوال كرے آپ اس پر خرچ كريں بلكہ اس پر علم كي بارش كرديں، اور علم كي سخاوت ميں يہ بھي ہے كہ جب كوئي سائل سوال كرے تواس كا مكمل مكمل اور ہر ناحيہ سےجواب ديں.

پنجم: منصب ومرتبہ كےساتھ نفع پہنچا كرسخاوت كرنا: جيسا كہ كسي كي سفارش كرنا، يا كسي شخص كےساتھ چل كر كسي افسر اورحكمران كےپاس جانا وغيرہ اور يہ منصب ومرتبہ كي زكاۃ ہے جس كا بندے سےمطالبہ بھي كيا گيا ہے كہ وہ اسےصرف كرے جيسا كہ علم كي زكاۃ تعليم دينا ہے.

ششم: بدني نفع دے كر سخاوت كرنا يہ كئي قسم كي ہے، جيسا كہ رسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

( ہر صبح جس ميں سورج طلوع ہوتا ہے تم سے ہر ايك كےجوڑ پر صدقہ ہے دو اشخاص كےمابين عدل وانصاف كرنا صدقہ ہے، اوراپني سواري پر كسي دوسرے كوسوار كركےاس كي مدد كرنا صدقہ ہے، يا اس كا سامان اٹھا لے يہ بھي صدقہ ہے، اور اچھي بات كرنا بھي صدقہ ہے، اور نماز كےليےہرقدم اٹھانا صدقہ ہے، اور راستےسے تكليف دہ چيز ہٹانا صدقہ ہے ) متفق عليہ.

ہفتم: عزت كي سخاوت كرنا: وہ اس طرح كہ جس نےبھي اسےگالي نكالي يا برا كہا اسےمعاف كرنا اس قسم كي سخاوت ميں سينہ كي سلامتي اور دل كي راحت اور مخلوق كي دشمني سے چھٹكارا ہے.

ہشتم: صبر وتحمل اور چشم پوشي كےساتھ سخاوت كرنا: سخاوت كے مراتب ميں سےيہ مرتبہ بہت ہي شرف والا ہے، اور سخاوت كرنےوالے كےليے مال كي سخاوت سےزيادہ نفع مند اوراس ميں اس كي عزت ونصرت ہے اس ميں اپنےنفس پر كنٹرول اوراس كےليےشرف كامقام ہے، اس كي قدرت صرف بڑے دل كےلوگ ہي ركھتےہيں، جس پر مال كي سخاوت مشكل ہو اسے يہ سخاوت كرني چاہيے كيونكہ آخرت سےقبل دنيا ميں ہي اس كےبہت سے اچھےاور بہتر نتائج نكلتےہيں.

نہم: اخلاق اور خوش طبعي وہشاش بشاش چہرہ كي سخاوت: يہ قسم صبر وتحمل اور عفودرگزر سےبھي اوپر ہے، اوراسي پر عمل كرنےوالے كو يہ عمل روزہ دار اور قيام كرنےوالے كےدرجہ پر فائز كرتا ہے اور ترازو ميں سب سے وزني ہے.

رسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

( نيكي ميں سے كچھ بھي حقير نہ جانو، اگرچہ تم اپنےبھائي كو ملوتو اس كےساتھ ہشاش بشاش چہرہ كےساتھ ملو )

اور اس سخاوت ميں ايسے فائدے اور نفعے اور كئي قسم كي مصلحتيں ہيں جنہيں بندہ اپني حالت سےنہيں پاسكتا ليكن بندہ لوگوں كو اپنےاخلاق اور صبر وتحمل سےاپنا گرويدہ بنا سكتا ہے.

دہم: لوگوں كےپاس جوكچھ ہےاسےترك كر كےسخاوت كرنا: لھذا جوكچھ لوگوں كےپاس ہےاس كي جانب متوجہ نہ ہو اور اس كےدل پر بھي اس كونہيں آنا چاہيےاور نہ ہي اس كي حالت اور زبان سےيہ ظاہر ہو، اور عبداللہ بن مبارك رحمہ اللہ تعالي نےبھي يہي كہا ہے: يہ نفس كي سخاوت كرنے سےافضل ہے، تقدير زبان حال سے فقير كويہ كہتي ہے توسخي ہے: اگرتجھے ميں نےوہ چيز نہيں دي جولوگوں پر سخاوت كرے توان كے اموال سےبےرغبتي كركے سخاوت كراور جوكچھ ان كےہاتھوں ميں ہے انہيں كےپاس رہنےدے اور جود وسخاميں ان كےساتھ مقابلہ كر اور راحت ميں ان سے عليحدہ رہ .

جود وسخا كےہر مرتبہ كي دل اور حال پر ايك خاص تاثير ہے، اللہ سبحانہ وتعالي نے سخاوت كرنےوالے كوزيادہ دينےكي ضمانت اور سخاوت نہ كرنے والے كےمال كو تلف كرنے كي ضمانت دي ہے . اللہ تعالي ہي مددگار ہے.

ديكھيں: مدارج السالكين ( 2 / 293 - 296 ) كچھ كمي وبيشي كےساتھ.

3 -  رمضان تك زكاۃ كي ادائيگي مؤخر كرني :

اللہ تعالي نے اصحاب اموال جن كا مال زكاۃ كےنصاب كوپہنچےان پر زكاۃ فرض كي ہے اور ہر مال كا نصاب مقرر ہے، اور زكاۃ عبادت اور دين اسلام كے اركان ميں سےايك ركن ہے، لھذا جب سال مكمل ہوجائے ياپھر زمين كي فصل پيدا ہو تو صاحب مال اور كسان پر زكاۃ فرض ہوجاتي ہے اس ليےاسے زكاۃ كي ادائيگي ميں جلدي كرني چاہيے، اس كےليے قسطوں ميں زكاۃ نكالني جائز نہيں اورنہ ہي وہ رمضان يا كسي اور مہينہ تك مؤخر كرسكتا ہے، ليكن ضرورت كي بنا پر ايسا ہوسكتا ہے.

ابن قدامہ رحمہ اللہ تعالي كہتےہيں :

زكاۃ فورا واجب ہوجاتي ہے، لھذا استطاعت اورقدرت ہو اور كسي ضرر كا بھي خدشہ نہ ہو تواس ميں تاخير كرنا جائز نہيں ، امام شافعي رحمہ اللہ تعالي كا يہي قول ہے..

ديكھيں: المغني  ( 2 / 289 - 290 )

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالي سےمندرجہ ذيل سوال كيا گيا:

كيا رمضان ميں زكاۃ كي ادائيگي كرنا افضل ہے، باوجود اس كےكہ يہ اركان اسلام ميں سےايك ركن ہے؟

شيخ رحمہ اللہ تعالي كا جواب تھا:

زكاۃ بھي دوسرے خيروبھلائي كےكاموں كي طرح ہےلھذا فضيلت والے اوقات ميں يہ بھي افضل ہوگي، ليكن زكاۃ جب بھي واجب ہو اوراس پر ايك سال گزر جائے توانسان پر اس كي ادائيگي واجب ہوجاتي ہےاور اسے رمضان تك مؤخر نہيں كيا جاسكتا، لھذا اگر اس كےمال پر رجب ميں ايك سال پورا ہوتا ہےتو اسےرمضان تك مؤخر كرنا صحيح نہيں بلكہ رجب ميں ہي ادا كرے ، اور اگر اس كا سال محرم ميں پورا ہوتا ہوتواسے رمضان تك مؤخر نہيں كر سكتا، ليكن اگر سال رمضان ميں پورا ہوتا ہو تو زكاۃ رمضان ميں ہي نكالي جائےگي .

ديكھيں فتاوي اسلاميۃ ( 2 / 164 ) . 

 

تاثرات بھیجیں