جمعرات 24 شوال 1440 - 27 جون 2019
اردو

كيا والد صاحب كى بات مان كر روزے ترك كر دے ؟

تاریخ اشاعت : 30-08-2010

مشاہدات : 3593

سوال

ميں انتيس برس كى ہوں سوموار اور جمعرات كا روزہ مسلسل ركھتى ہوں، ميرے والد صاحب چاہتے ہيں كہ ميں صرف ايك روزہ ركھا كروں، ميں روزے برداشت كر سكتى ہوں كيا اگر ميں والد صاحب كى بات نہيں مانتى تو كيا ميں نافرمان شمار ہونگى ؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

" اگر تو واقعتا ايسا ہى ہے جيسا آپ بيان كر رہى ہيں تو آپ كے والد صاحب كا آپ كو سوموار اور جمعرات كے دونوں روزے ركھنے سے منع كرنے ميں آپ كى مخالفت كى بنا پر آپ ان نافرمان شمار نہيں ہونگى؛ كيونكہ آپ كو سوموار اور جمعرات كے روزے ركھنا اطاعت ہے، جب تك آپ اس كى استطاعت ركھتى ہيں.

اور اللہ تعالى كى نافرمانى ميں كسى بھى مخلوق كى اطاعت نہيں ہو سكتى، پھر آپ كے والد كے حال سے يہ ظاہر ہوتا ہے كہ وہ آپ پر نرمى اور شفقت چاہتے ہيں، آپ كو روزے چھوڑنا لازم نہيں كر رہے.

اللہ تعالى ہى توفيق دينے والا ہے، اللہ تعالى ہمارے نبى محمد صلى اللہ عليہ وسلم اور ان كى آل اور صحابہ كرام پر اپنى رحمتيں نازل فرمائے" انتہى

الشيخ عبد العزيز بن عبد اللہ بن باز.

الشيخ عبد الرزاق عفيفى.

الشيخ عبد اللہ بن غديان.

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں